پاکستان
والدہ محترمہ بنام وزیراعظم
ساتواں آسماں
خلد آشیان
4اگست2020ء
فخرِ پاکستان و فخرِ اسلام بیٹے!
دعائیں اور پیار۔ دنیائے لامکاں میں تمہاری خبریں دل کو خوش کرتی رہتی ہیں۔ تم نے میرے نام پر شوکت خانم اسپتال بنا کر مجھے زمین و آسمان دونوں جگہ پر عزت دی ہے اور اپنا مقام بھی بلند کیا ہے۔ تم جب سے وزیراعظم بنے ہو، پاکستان اور دنیائے فانی سے آنے والے لوگ مجھے تمہاری اطلاعات پہنچاتے رہتے ہیں۔
ابھی کل ہی احسن رشید آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ عالمِ اسلام میں عمران خان واحد شخصیت ہے جو مشرق اور مغرب کا ملاپ کرا سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ عمران نے جس طرح کرکٹ میں چار دانگ عالم میں ڈنکا بجادیا تھا، ویسے ہی یہ عالمی سیاست میں ملک کا نام روشن کرے گا۔ احسن رشید نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ بہت بہتر ہو گئی ہے۔
معجزاتی طور پر کورونا نے پاکستان کی جان چھوڑنا شروع کردی ہے۔ بیرون ملک سے کاٹن انڈسٹری کو دھڑا دھڑ آرڈر مل رہے ہیں۔ تعمیراتی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے غرضیکہ دو برس بعد پہلی بار معاشی پہیے میں حرکت شروع ہوئی ہے۔ میں نے یہ باتیں سنیں تو دل بہت خوش ہوا اور تمہیں بھی میں ان کامیابیوں پر مبارکباد دیتی ہوں۔
پیارے عمران!
تمہیں علم ہے کہ میں صرف لاڈ پیار کرنے والی ماں نہیں ہوں، حقیقت پسند بھی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ تمہاری غلطیوں کی اصلاح بھی ہو۔ کل ہی میں نے اپنی ایک راز دار کو شریفی محلے اور بھٹو منزل بھیجا تھا کہ وہ سن گن لے کہ وہاں کیا سوچا جا رہا ہے۔ حیران کن خبر یہ ملی کہ ان دونوں سیاسی حریفوں کے ہاں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ قہقہے اور مسکراہٹیں بکھر رہی ہیں۔ میں نے اپنی راز دار سے پوچھا کہ وہاں تو سوگ ہونا چاہئے تھا۔
ان کا احتساب ہو رہا ہے، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا ہے، ایسے میں وہاں خوشیاں کیوں منائی جا رہی ہیں؟ میری راز دار نے اندر کی خبر یہ بتائی کہ یہ دونوں خاندان خوش ہیں کہ عمران خان نے دو سال سے کوئی سیاست نہیں کی۔ عمران اکلوتا بیٹا ہے، نہ ہی کوئی بہن سیاست میں ہے اور نہ ہی بیٹے سیاست میں آئیں گے۔ سیاسی وارث کوئی نہیں ہے۔ اب یہ 70سال کا ہونے کو ہے اگر اگلے الیکشن تک حکومت چلتی ہے تو یہ 73,72سال کا ہو جائے گا، نسبی وراثت ن میں ہے، پیپلز پارٹی میں ہے، تحریک انصاف میںنہ اس کا امکان ہے اور نہ اس کی پالیسی ہے۔ نونی اور پیپلی سوچ تو خیر مریضانہ ہے، اصل بات اصولوں کی وراثت کی ہے۔
اصل وراثت ہے کہ آپ حکومت، سیاست اور معاشرے پر اپنا کیا اثر چھوڑ کر جائو گے۔ مجھے علم ہے کہ تمہیں اپنی ساکھ، عزت اور وقار کی ہمیشہ پرواہ رہی ہے لیکن دو برسوں میں ایسی کوئی وراثت پیدا نہیں کی، ایسی ساکھ نہیں بنائی کہ لوگ تمہیں اور تمہارے خاندان کو یاد رکھیں۔
میرے اکلوتے بیٹے!
تم جالندھری پٹھانوں اور میانوالی کے نیازی خاندان کے سب سے نامور فرزند ہو۔ تمہارے ننھیال برکی خاندان میں بڑے بڑے افسر اور کرکٹر پیدا ہوئے ہیں لیکن نہ کوئی کرکٹر تمہارے جیسا مقام حاصل کر سکا اور نہ کوئی اور صدر یا وزیراعظم جیسے عہدہ جلیلہ پر پہنچ سکا۔
اب تم پر یہ ذمہ داری ہے کہ تم اصولوں اور پالیسیوں کا ایسا ورثہ چھوڑو کہ آنے والی نسلیں تمہیں یاد رکھیں۔ احتساب بہت اچھی چیز ہوتی ہے مگر پوری تاریخ دیکھ لو جس کسی نے بھی صرف مخالفوں کا احتساب کیا تاریخ نے اسے منصف حکمران کا خطاب نہیں دیا۔
پوری تاریخ میں خلفائے راشدین کے بعد جو بھی اچھے ادوار رہے ہیں ان میں عوام کو ریلیف دیا گیا، لوگ چین کی نیند سوئے۔ وزیراعظم صرف ایک پارٹی کا نہیں پوری قوم کا حکمران ہوتا ہے اسے صرف اپنے حامیوں کا نہیں بلکہ مخالفوں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میثاقِ مدینہ میں یہودی بھی شامل تھے اور مدینہ کی ریاست غیرمسلموں کو بھی انصاف فراہم کرتی تھی۔ تم ہمیشہ ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے ہو، اپنے طرزِ عمل اور سلوک میں توازن پیدا کرتے ہوئے مخالفوں کے لئے بھی اپنے دل کو کھلا کرو۔
پیارے بیٹے!!
تم بڑے سمجھدار ہو، عقل مند ہو مگر یاد رکھو پاکستان میں اقتدار آتے اور جاتے دیر نہیں لگتی یہاں کئی وزیر اور وزیراعظم اپنے آنے اور جانے کی کہانیاں سناتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہیں کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رخصت کر دیا گیا۔
محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہروردی تو ابھی تک حیران ہیں کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ کا تاج پہنایا کیوں اور پھر اُتروایا کیوںگیا؟ یہ دونوں اب بھی شیخ مجیب الرحمٰن سے متحدہ پاکستان کے حق میں بحث مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ بنگالی محلے سے گزریں تو اب بھی کئی گھروں پر پاکستان کے جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں۔
ہاں تو خیر بات ہو رہی تھی اقتدار کے آنے اور جانے کی۔ یہاں کے سب لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آج الیکشن ہو جائیں تو پنجاب میں نونی سویپ کر جائیں گے جبکہ سندھ میں پپلیے پھر جیت جائیں گے۔ پختونخوا میں بھی تمہاری جماعت کی حالت اتنی مضبوط نہیں رہی۔ کیا یہ سب تمہارے علم میں نہیں۔ تحریک انصاف کے سوچنے اور سمجھنے والے لوگ پریشان ہیں کہ ہمارا سیاسی ورثہ کیا ہوگا؟
دنیا سے جو بھی آ رہا ہے وہ کہتا ہے کہ تمہارے بیٹے کی ٹیم ٹھیک نہیں، خاص کر پنجاب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ تمہاری کوئی کمزوری نہیں ہے، تم نے تو خالہ زاد بھائی ماجد خان کو ٹیم سے فارغ کر دیا تھا حالانکہ ان کے ہم پر بڑے احسانات تھے۔ تم نے اکرام اللہ کے بھتیجوں حفیظ اللہ نیازی اور انعام اللہ نیازی کو فارغ کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی ایسے میں تمہاری کیا مجبوری بن گئی ہے کہ تم نے اپنا سارا ورثہ، ساری سیاست اور اپنا سارا وزن ایک ہی شخص کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔
یاد رکھو انسان ہر بات میں ٹھیک نہیں ہوتا۔ تم نے منصور اختر کے بارے میں بھی ایسے ہی ضد کی تھی اس پر کتنا زور لگایا تھا مگر اس نے نہ چلنا تھا نہ وہ چلا۔ اب بھی اپنی ٹیم پر نظر ثانی کرو، سیاسی اور سماجی اصلاحات لائو۔ انصاف کو سستا اور میرٹ کو لاگو کرو۔ شوگر، گندم، ادویات اور دیگر مافیاز سے عوام کو چھٹکارا دلائو۔
تمہاری والدہ
شوکت خانم
(بشکریہ جیو نیوز)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
