پاکستان
کورونا وبا: پاکستان میں 90 فیصد سے زائد مریض صحتیاب، فعال کیسز 18 ہزار سے کم
پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے اور اب تک ملک بھر میں 2 لاکھ 83 ہزار 473 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے 2 لاکھ 59 ہزار 604 صحتیاب جبکہ 6068 کا انتقال ہوا ہے۔
آج (8 اگست) کی صبح تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید 234 کیسز اور 4 اموات کا اضافہ ہوا جبکہ 1505 مریض شفایاب ہوگئے۔
ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی کے باعث حکومت نے مختلف شعبوں کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ سال کے آخر سے چین سے شروع ہونے والی اس عالمی وبا نے دنیا کے منظر نامے کو ہی تبدیل کردیا ہے اور لوگ اس وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے سماجی دوری اختیار کررہے ہیں جبکہ ماسک پہننے کو بھی اپنی عادت بنا رہے ہیں۔
پاکستان کی بات کریں تو یہاں فروری کے آخر میں اس وبا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد مارچ میں وائرس کا پھیلاؤ کم تھا جس میں اپریل میں تیزی آنا شروع ہوئی۔
تاہم مئی اور جون میں صورتحال مکمل تبدیل ہوگئی اور یومیہ 6 ہزار سے زائد کیسز اور 100 سے اوپر اموات سامنے آنے لگی، تاہم جولائی میں کیسز اور اموات کی یہ تعداد کچھ کم ہوئی اور اب اگست کے مہینے میں صورتحال مزید بہتر ہوگئی ہے۔
آج ( 8 اگست) کو سامنے آنے والے کیسز اور اموات کے بعد صورتحال کچھ یوں ہے۔
پنجاب
صوبہ پنجاب جہاں کیسز کی یومیہ تعداد میں اضافہ رپورٹ ہوا تھا وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 183 نئے مریض اور 2 اموات رپورٹ ہوئیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے لیے قائم پورٹل کے مطابق ان نئے 183 کیسز کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 94 ہزار 223 ہوگئی۔
مزید برآں 2 افراد کے انتقال کرجانے سے صوبے میں مجموعی اموات کی تعداد 2 ہزار 166 تک پہنچ گئی۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس مزید 32 افراد کو متاثر اور ایک کی جان لے گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ان 32 نئے کیسز کے بعد دارالحکومت میں مجموعی کیسز 15 ہزار 214 تک پہنچ گئے۔
اس کے علاوہ ایک فرد کے انتقال سے مجموعی اموات کی تعداد 171 تک پہنچ گئی۔
گلگت بلتستان
ملک میں کم متاثرہ علاقوں میں سے ایک گلگت بلتستان میں کورونا وائرس مزید 14 افراد کو متاثر کرگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ان نئے کیسز کے بعد گلگت بلتستان میں مجموعی متاثرین 2 ہزار301 تک پہنچ گئے۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 نئے کیسز اور ایک موت کی تصدیق ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں 5 نئے مریضوں نے کیسز کی تعداد کو 2 ہزار 129 تک پہنچا دیا۔
مزید برآں ایک فرد اس وائرس کے باعث لقمہ اجل بنا اور مجموعی اموات 58 تک پہنچ گئیں۔
صحتیاب
ملک میں کورونا وائرس سے 91 فیصد مریض صحتیاب ہوچکے ہیں اور اس میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 1505 تھی۔
جس کے بعد اب تک مجموعی کیسز میں سے 2 لاکھ 59 ہزار 604 مریض شفا پاچکے ہیں۔
مجموعی صورتحال
ملک میں عالمی وبا کے کیسز، اموات اور صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہ کچھ اس طرح ہے:
مصدقہ کیسز: 283473
اموات: 6068
صحتیاب: 259604
فعال کیسز: 17801
ملک میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر صوبے سندھ اور پنجاب ہیں، صوبہ سندھ میں کیسز ایک لاکھ 23 ہزار 246 ہیں جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 94 ہزار 223 کیسز تک پہنچ چکی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے 34 ہزار 539 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں وبا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 11 ہزار 821 ہے۔
علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15 ہزار 214 ، آزاد کشمیر میں 2 ہزار 129 اور گلگت بلتستان میں 2 ہزار 301 افراد عالمی وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔
ملک میں اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے:
سندھ: 2259
پنجاب: 2166
خیبرپختونخوا: 1222
بلوچستان: 137
اسلام آباد: 171
آزاد کشمیر: 58
گلگت بلتستان: 55
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز اور اموات
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے اور اب تک 2 لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ اموات 6 ہزار سے زائد ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس سے لے کر اب تک کیا صورتحال رہی اور کس روز کتنے کیسز اور اموات سامنے آئیں؟(ڈان نیوز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
