تازہ ترین
گپکار اعلامیہ موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا واحدراستہ
سجاد غنی لون کا نئی دہلی کو چیلنج،اگر لوگ با ہر نکلے تو کیا حکومت اپنے فیصلہ جات واپس لے گی
حکومت ہند نے کوئی ’ماسٹر اسٹروک‘نہیں مارا، کشمیر بین الا قوامی توجہ کا مرکز بنا،ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے قد پر پورا بھروسہ:سجاد غنی لون
سرینگر”پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے گپکار اعلامیہ کو موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بنیادی موقف سے انکارکرنے والوں کے لئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 5اگست کے فیصلہ جات کوئی’ماسٹر اسٹروک‘ نہیں ہیں بلکہ اس فیصلے سے کشمیر بین الا قوامی توجہ کا مرکز بنا۔سجاد غنی لون نے نئی دہلی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا’اگر لوگ باہر نکلے تو کیا مرکزی حکومت اپنے فیصلہ جات کوواپس لے گی، کشمیری پرامن طور پر جدو جہد جاری رکھیں گے‘۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کیساتھ ایک تفصیلی انٹرو یو کے دوران پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے کئی تلخ سوالات کے جوابات دیئے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ گپکار اعلامیہ کو کس طرح بیان کریں گے؟تو سجاد غنی لون نے کہا ’یہ واحد راستہ ہے۔ معاملہ مجھ سے بڑا اور اجتماعی طور پر ہم سب سے بڑا ہے۔ اس میں کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم انفرادی طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کی حمایت کے لئے ر جدوجہد کرسکیں۔ اس کے لئے اجتماعی کوشش کرنا ہوگی۔ہم سب نے شعوری طور پر مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اب سے میری سیاست اجتماعی مقصد اور اجتماعی کاوشوں کے ساتھ غیر متزلزل طریقے سے ہوگی اور ہم سب نے غیر مشروط اتفاق کیا ہے کہ ہم ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی سربراہی میں کام کریں گے۔ ہم سب کی رہنمائی کرنے کے لئے اس کا قد اور تجربہ ہے اور ہم سب کو یقین ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس اور ہماری ماضی کی اندرونی لڑائیوں سے بالاتر ہوکر ہم سب کی رہنمائی کریں گے۔ محبوبہ جی نے جیل ہونیکے باوجود اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ گپکاراعلامیہ حقیقت بن جائے۔
وہ ریاست کی سابق وزیر اعلی رہی ہیں۔ پھر بھی ان کی رائے پختہ تھی کہ ڈاکٹر فاروق صاحب کو ہم سب کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ تاریگامی صاحب نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔‘پیپلز کانفرنس سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ گپکار اعلامیہ، جس میں آپ دستخط کنندہ ہیں، مستقبل میں کھڑے ہوں گے؟تو انہوں نے کہا’موجودہ حالات نے گپکار کے اعلامیہ کو ایک ریفرنس پوائنٹ بنا دیا ہے۔ یہ ایک تصور ہے اور تصورات ختم نہیں ہوتے ہیں۔ گپکار کا اعلامیہ اپنی مکمل شکل میں ہستیوں کو ناپید کرسکتا ہے لیکن ادارے گپکار اعلامیہ کو ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ لہٰذا میرے خیال میں یہ ہمارے ساتھ یا ہمارے بغیر طویل مدت کے لئے یہیں رہے گا۔‘
اس سوال آپ کی اپنی پارٹی کے کچھ رہنما ؤں نے گپکار اعلامیہ کیخلاف بیانات جاری کئے؟سجاد غنی لون نے کہا ’پارٹی کا موقف واضح ہے۔ گپکار اعلامیہ رہنمائی قوت ہوگی۔ اگر ہماری جماعت سمیت کسی بھی لیڈر کو گپکار اعلامیہ پرتحفظات ہیں تو وہ اپنے ضمیر کی پیروی کرے اور چلا جائے۔ میں پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کسی ایسے فرد کا بوجھ نہیں لے سکتاجس کی خواہشات پارٹی موقف سے مختلف ہوں۔وہ بھی اسی طرح پارٹی کے لئے بوجھ نہیں بننا چاہئے اور اسے آگے بڑھنا چاہئے۔ ان لوگوں کے لئے کوئی جگہنہیں ہے جو اجتماعی طریقہ کار کے خلاف عوامی طور پر اظہار رائے کرنا چاہتے ہیں جس پر میں موجودہ دور میں یقین کرتا ہوں کہ یہ ایک مقدس طریقہ کارہے، جس پر ہم سب کی امیدہے‘۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ مرکز کا کہنا ہے کہ 5 اگست کے فیصلے یا قائدین کی گرفتاری کے خلاف کوئی احتجاج کرنے نہیں نکالا؟تو سجاد غنی لون نے نئی دہلی کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کے جواب میں کہا ’دہلی میں یہ ایک اور پسندیدہ موضوع ہے۔
لوگ احتجاج کیلئے کیوں نکل آئیں۔ کشمیر میں گرفتاریاں، قتل و غارت گری روزمرہ کے معاملات ہیں۔ حکمران کشمیریوں کی سیاست میں نسبتاً نئے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ کشمیریوں نے پچھلے تیس سالوں میں بدتر دور دیکھا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے لاکھوں کی تعداد میں فوج پہنچائی اور پوری وادی کو مسلح فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا اب وہ غیر مسلح شہریوں پر طنز کررہے ہیں کہ وہ لڑنے کے لئے نہیں نکل آئے۔
اور اگر وہ 5 اگست کے فیصلے کے خلاف احتجاج کی بات کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے اور پرامن طور پر جدوجہد کریں گے۔
کشمیر پر ماہر پالیسی سازوں،اسپن ڈاکٹروں اوردیگر ماہرین کے لئے میرا صرف ایک مشورہ ہے کہ اگر کشمیری باہر آکر احتجاج کرنا چاہئے گے تو وہ اپنی مرضی کے مطابق وقت پر باہر آجائیں گے۔اگر حکومت کو اتنا اعتماد ہے کہ احتجاج نہ کرکے لوگوں نے5 اگست کے فیصلہ جات کی توثیق کی ہے، تو انھیں اعلان کر نا چاہئے کہ اگر لوگ احتجاج کے لئے باہرنکل آتے ہیں تو وہ 5 اگست کے تمام فیصلہ جات کو ختم کردیں گے۔ پھر آئیے دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ گھروں میں رہیں گے؟۔اس سوال کہ آپ5اگست کا تجزیہ کیسے کریں گے؟،کیا یہ دہلی کا ماسٹر اسٹروک تھا؟تو پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہا ’نہیں یہ ماسٹر اسٹروک نہیں تھا۔
مجھے ایسا نہیں لگتا۔ آئیے5 اگست کے تناظر میں تین متغیرات کا جائزہ لیں۔پہلاکشمیر کے لوگوں کا متغیر ہے۔ دوسرا سفارتی رد عمل کا متغیر اور تیسرا قریب میں پڑوسیوں کے رد عمل کا متغیر ہے۔کشمیری عوام کے متغیرات کا تجزیہ آسان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہلی کا نظریہ یہ ہے کہ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اہل کشمیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کشمیریوں سے گہری نفرت ہے۔ دہلی نے ایک سخت پالیسی اپنائی ہے- ’ان کشمیریوں کو سبق سکھاؤ‘۔ اور حملے جاری ہے۔
ہر روز آپ کو کچھ ترمیم نظر آئے گی، کچھ کشمیریوں کو نیچا دکھانے کی کوشش، کسی کو کم کرنے کا اصول۔ وہ یقینی طور پر کشمیریوں کو دیوار کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کوئی نرم پالیسی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ تمام طرح سے سخت، سخت ترین، شدیدترین ہے۔‘دوسرا متغیر سفارتی متغیر ہے۔ جتنا وہ خود کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ5 اگست نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی بنادیا جو پہلے نہیں تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ 5 اگست کے بعد دنیا میں کسی بھی ملک کا ایک بھی سربراہ ایسا نہیں ہے جو یہ نہیں جانتا ہے کہ کشمیر نام کی ایک جگہ ہے اور وہاں ایک مسئلہ ہے۔ فیصلہ سازسفارتی رد عمل کو نہیں روک سکے۔
اس طرح کی سفارتی شدت تھی کہ محکمہ خارجہ امور کشمیر کے امور کے قریب ہی چلا گیا تھا۔ یوروپی یونین کے سفیروں اور رکن پارلیمان کے دورے۔ وہ کیا تھے؟ کیا وہ آپ کو اپنے ملک میں ایسے دوروں پر لے جاتے ہیں؟‘۔پہلا متغیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
یہ ان کا فیصلہ ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن دوسری اور تیسری متغیرات بیوروکریٹک اسٹیبلشمنٹ کے ماہرین کے دائرے میں آتے ہیں۔ یا تو کوئی ان کی بات نہیں سن رہا ہے یا انہوں نے اپنا ہوم ورک صحیح طریقے سے نہیں کیا۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے باب کو بند نہیں بلکہ کھول دیا ہے۔‘سجاد غنی لون نے اس سوال کیاآپ کو لگتا ہے کہ خصوصی پوزیشن کسی دن بحال ہوگی؟ کے جواب میں کہا ’پتھر میں کچھ بھی نہیں کھداہواہے۔ مجھے بہت زیادہ امید ہے۔
میں ونسٹن چرچل کا حوالہ دوں گا (حالانکہ اس حوالہ کی ملکیت غیر مہذب ہے) -’کامیابی کبھی حتمی نہیں ہوتی، ناکامی مہلک نہیں ہوتی:یہ ہماری جرات مندی ہے کہ اب قائم ہیں‘۔اس سوال کہ ما بعد5اگست ان دنوں کے بارے میں کچھ بتائیں جو آپ نے جیل میں گزارے تھے؟ سجاد غنی لون نے کہا ’یہ اچھا تجربہ تھا۔کوئی شکایت نہیں۔ مطا لعہ اورخود احتسابی کے لئے بہت وقت ملا۔ میں نے بہت وزن کم کیا۔ ہم ساتھی قیدیوں کے ساتھ بہت بات چیت کرتے تھے۔ یقینا کچھ پریشانی تھی۔ ہم سب کو ذلیل کرنے کے لئے کچھ افسر کمر جھکاتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ کام خود کر رہے تھے یا انہیں عام طور پر ہماری تذلیل کرنے کے احکامات دیئے گئے تھے۔ لیکن وہ ناکام رہے کیونکہ ہم سب کو ان افسران کی نرمی پر خوب ہنسی آرہی تھی جو دوسرے دن تک اچھی پوسٹنگ کے لئے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔اس سے قبل میں 1990 میں جیل گیا تھا۔
وہ خوفناک تھا۔ بہت ساری مار پڑتی تھی۔ لیکن میرے خیال میں سفید فام کالر کی تمام سہولیات کے باوجود اس جیل میں معاشرتی تقدس کا فقدان تھا۔‘اس سوال کہ افواہیں تھیں کہ کچھ سیاسی لیڈران نے دہلی میں بی جے پی کی قیادت سے ملاقات کی؟ تو سجاد غنی لون نے کہا ’میرے پاس کسی رہنما سے کسی سے ملنے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کشمیری رہنما کسی رہنما سے کیوں نہیں مل سکتا، چاہے وہ بی جے پی کی طرف سے ہو یا کسی دوسری پارٹی سے۔ یہ نئی دکھت کیا ہے؟ کوئی بھی لیڈر ذاتی یا سیاسی طور پر کسی سے ملنے کے لئے آزاد ہے۔ میں اس رائے کا حامل ہوں کہ ایک بار جب کوڈ۔19 کا اثر کم ہوگا، تو ہمیں حکمران جماعت سمیت مختلف ان رہنماؤں کو جانکاری دینے کے لئے وفود بھیجنا چاہئے۔
میں مین اسٹریم سیاست میں نسبتا ً نو مولود ہوں۔ لیکن ہمارے کچھ رہنماؤں کا قومی قد ہے۔ ہمیں کشمیریوں کے نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کے لئے اس قد کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ سوکنا کوئی حکمت عملی نہیں ہے، ہم صرف بیٹھ نہیں سکتے ہیں، دبے اور دبے ہوئے رہیں۔ ہمیں یہاں سے باہر آکر جدوجہد کرنا ہوگی اور جو ہمارے پاس تھا اسے واپس لانا ہوگا۔‘اس سوال موجودہ انتظامیہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے کہا ’میں کیا کہہ سکتا ہوں، میرا کسی کے ساتھ کوئی زاتی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن میں ان کو نہیں جانتا۔ وہ یہاں کشمیری عوام کی خوشنودی پر نہیں ہیں۔ وہ دہلی کی خوشی میں یہاں موجود ہیں۔
وہ دہلی کے ذریعہ مقرر ہیں اور وہ دہلی کے اختیارات کے جوابدہ ہیں،وہ کشمیری عوام کے جوابدہ نہیں ہیں۔ یہ کشمیر میں جمہوریت کی متحرک ہونے کا اشارہ ہے۔ یہ سادہ اور آسان ہے۔ اب آپ مختلف ممالک کے سفیروں کے دوروں کا اہتمام کرتے ہیں اور جمہوریت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان سفیروں کو جمہوریت کے اس انوکھے فارمیٹ کو جاننے کے لئے اپنے اپنے ممالک میں جمہوریت کے مروجہ وضع کو جاننا ہوگا۔‘ ایک سوال کے جواب میں سجاڈ غنی لون کا کہناتھا ’حقیقت سے آگے کچھ نہیں ہوسکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک غریب جگہ اور ایک غریب ملک کا حصہ ہیں۔ لیکن ملک کے اندر جموں و کشمیر اتنا پسماندہ نہیں ہیجتنا وہ بتا رہیہیں اورہم یقین کریں۔ آن لائن جائیں، ترقیاتی فہرستوں کی جانچ پڑتال کریں اور اس کا تجزیہ کریں کہ ملک بھر میں مختلف ریاستوں کا درجہ کس طرح ہے۔ معلومات کے اس ڈیجیٹل دور میں رگڑنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اعداد و شمار خود ہی بو لیں گے۔ ہم باقی ماندہ ملک سے بہت بہتر ہیں۔‘
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
