پاکستان
مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟
لاہور —
موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کا بیان
چند روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے ننکانہ صاحب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی تو انہوں نے ردِعمل میں میاں افتخار کے بیٹے کو مار دیا اور بلور خاندان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ لہذٰا جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کے ساتھ ہیں اُنہیں بھی خطرہ ہے۔
سینئر تجزیہ کار اور اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کی یہ دھمکی کسی فرد یا جماعت کو نہیں بلکہ ایک طرح سے ریاست کو دی گئی ہے جس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
سینئر صحافی اور انگریزی اخبار ‘ڈان’ کے ایڈیٹر اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ اعجاز شاہ کا ہمیشہ سے یہی انداز ہے کہ وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ اُن پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اُن کو تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد اِس طرح کی بات کرنی ہوتی ہے۔ جس میں اپنی مرضی کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ اعجاز شاہ صاحب اپنے بیان کی خود وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور وہ کیا کہہ کر گئے ہیں۔
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام جلسوں میں کیوں؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں ریاستی اداروں کے خلاف جو بیانیہ استعمال کر رہی ہیں، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کی بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتیاں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔
اتوار کو گلگت بلتستان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جب یہ لوگ اُنہیں بلیک میل کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے اب آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔ اگر یہ چور اور ڈاکو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے دونوں کا بالکل ٹھیک انتخاب کیا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کا بطور آرمی چیف انتخاب نواز شریف نے کیا تھا۔ اُس کے بعد اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا۔
اُن کے بقول اُس میں بھی عمران خان اکیلے نہیں تھے۔ اِس فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی پارٹی بھی شامل تھی۔ البتہ فیض حمید کے بارے میں وہ کہتے سکتے ہیں کہ وہ اُنہی کا انتخاب ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ شاید عمران خان، جنرل باجوہ اور فیض حمید کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے آپ کو نشانہ بنایا ہوا ہے تو وہ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اِس صورتِ حال میں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اُن کا انتخاب درست تھا تو وہ بھی نواز شریف کی طرح فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میرا نہیں خیال کہ باجوہ صاحب اور فیض حمید کو اِس وقت عمران خان کی اسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اِس وقت اگر عمران خان اُن کا نام لے کر یہ کہیں کہ ہاں اِن کا میں نے انتخاب کیا ہے اور یہ میرا درست انتخاب ہیں تو دراصل وہ نواز شریف کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں، لہذٰا جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اِس کا فائدہ نہیں نقصان ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض کو جتنا ‘پولیٹیسائز’ ہونا تھا وہ ہو گئے۔ وہ براہِ راست کسی کو جواب نہیں دے سکتے جب کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان، فوج، آرمی چیف اور جنرل فیض کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوشش ہے کہ کسی طریقے سے یہ پارٹنر شپ (شراکت داری) ٹوٹ جائے۔
اُن کے بقول “ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت محدود گفتگو کی اور وہ نہیں چاہتے کہ براہِ راست کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اُلجھا جائے۔ اِس پس منظر میں وزیراعظم نے بطور چیف ایگزیکٹو بات کی ہے۔”
اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی بیان سامنے آتا ہے تو عام آدمی کو یہی لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے جو ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اشعر رحمان نے کہا کہ جس طرح ایاز صادق نے بیان دیا اور اس نوعیت کے دیگر بیانات ماضی میں کم ہی ملتے ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان کی سیاست کو ایک خاص تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس میں بہت سارے کنگ میکرز ہیں۔ ہمیشہ سے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کنگ میکرز ہوتے ہیں۔کیا مریم نواز کے بیانیے میں نرمی آ رہی ہے؟
اتوار کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کے بیانیے میں ریاستی اداروں بارے بیانیے میں قدرے نرمی محسوس کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ “آپ لوگوں نے وردی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی لیکن دیکھنا ہے کہ وردی کو داغ دار کرنے والے دو، تین کردار کون سے ہیں؟”
صابر شاکر کی رائے میں شریف خاندان کا صرف ایک مسئلہ ہے یہ انقلابی ہرگز نہیں ہیں۔ یہ مدبر بھی نہیں ہیں۔ یہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اُن کے بقول ہمارے سامنے جنرل جیلانی اور جنرل ضیاءالحق کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اِن کے کوئی اصول نہیں ہیں۔ انہوں نے مشرف کو غیر آئینی حکمران کہا، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں اسی مشرف سے وزارتوں کے حلف لیے۔
صابر شاکر کے بقول “یہ انقلابی یا نظریاتی سیاست نہیں ہو رہی۔ یہ مفادات کی سیاست ہے۔ شریف خاندان اِس وقت ڈو اور ڈائی (مر جاؤ یا مار دو) کی پوزیشن میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاست میں اُنہوں نے بھرپور قسم کی مزاحمت نہ کی تو وہ اپنی قدر کھو دیں گے۔”
صابر شاکر کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج پر تنقید کے معاملے پر شہباز شریف کا خاندان بالکل الگ تھلگ نظر آتا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مریم نواز کے بیانیے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے کیوں کہ بطور ادارہ نواز شریف نے فوج کی کبھی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی مریم نواز کر رہی ہیں۔
اُن کا یہ مؤقف ہے کہ فوج میں کچھ عناصر خرابی کرتے ہیں اور اُن کی مزاحمت ایسے عناصر کے خلاف ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میں نہیں سمجھتا کہ مریم نواز نے فوج کو بطور ادارہ کبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ نام لیتی ہیں لوگوں کے کچھ انفرادی شخصیات کے نام لیتی ہیں۔ نواز شریف بھی نام لیتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح ہے۔”
اشعر رحمان کی رائے میں جب سے مریم ںواز دوبارہ متحرک ہوئی ہیں۔ اُن کے لہجے میں اُس طرح کی سختی نہیں ہے جتنی میاں نواز شریف کے لب و لہجے میں ہے۔ اُن کے بقول چند روز قبل شاہد خاقان عباسی بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرے کی تجویز دے چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بات چیت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔کیا ن لیگ میں فارورڈ بلاک بن پائے گا؟
ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عبدالقادر بلوچ کی جانب سے فوج مخالف بیانیے پر پارٹی چھوڑنے کے اعلان نے بھی سیاسی میدان میں ہلچل پیدا کر دی ہے جس کے بعد پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کی چہ موگوئیاں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کار اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک اُسی وقت بنتا ہے جب سیاست دانوں کی بہت بڑی تعداد ہو جو الگ ہو جائے یا پھر چند بڑے پارٹی رہنما جماعت چھوڑ دیں۔
اشعر رحمان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ابھی فی الحال آج کے دن تک فارورڈ بلاک میں کوئی بڑا نام آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ دو چار دن میں یہ بات غلط ثابت ہو جائے۔ نہ تو ابھی اُس میں بڑے رہنما شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی بہت بڑی تعداد ہے۔
اشعر رحمان کہتے ہیں کہ “(ن) لیگ کا جو فارورڈ بلاک ہے وہ تو شہباز شریف کی صورت میں ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُس سے زیادہ فارورڈ بلاک کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اُن سے بات کرنی ہے تو وہ موجود ہیں۔ اِس پارٹی میں تو پہلے سے ہی بہت گنجائش موجود ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ بیانیے کا کوئی بھی ساتھ نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ ملک کی فوج کے خلاف کھڑے ہو کر نہ تو سیاست ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس کی حمایت کر سکتا ہے۔
صابر شاکر کہتے ہیں کہ “سات ستمبر کے بعد یہ سب کچھ خراب ہوا ہے۔ سات ستمبر سے پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سات ستمبر کو محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کے لیے ریلیف لینے آرمی چیف کے پاس گئے، اگر آرمی چیف اُن کی بات مان لیتے تو مسلم لیگ (ن) کا یہ بیانیہ نہ ہوتا اور یہی لوگ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے گُن گا رہے ہوتے۔”
حامد میر کی رائے میں “قادر بلوچ اگر مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ وہ جب مسلم لیگ (ن) میں آئے تھے تو وہ آئے نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ خود اُن کو لائے تھے۔ اُن کی واحد قابلیت یہ تھی کہ اُن کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہو سکتا ہے کہ راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں بھی اُن کا کردار ہو۔”
حامد میر کے بقول “نواز شریف کے دور میں جب لاپتا افراد کے لیے نواز شریف نے کچھ کرنے کی کوشش کی تھی اُس میں بھی قادر بلوچ ایک رکاوٹ تھے جب کہ جنرل مشرف کو ریلیف دلوانے میں بھی اُن کا کردار رہا ہے۔”
حامد میر کے بقول پارٹی کے اندر ایک سیاسی رہنما یا سیاسی کارکن کے طور پر کبھی بھی ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب کی پہچان نہیں بن سکی۔ اُن کی پہچان صرف یہ ہے کہ ثناء اللہ زہری کے وہ بہت بڑے حمایتی ہیں اور ثناءاللہ زہری اُن کے قبیلے کے سردار ہیں۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ کوئٹہ میں جب پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا تو (ن) لیگ کی جانب سے اُنہیں یہی بتایا گیا تھا کہ اُنہوں نے ثناءاللہ زہری کو اسٹیج پر بٹھانے کی کوشش کی، لیکن پارٹی نے اُن کی بات نہیں مانی۔ اَب اگر یہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ قادر بلوچ صاحب کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرے سے قبل اسلام آباد کی سڑکیں سیل
اسلام آباد، پاکستان میں انتظامیہ نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کو بتایا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ کو بدھ کی شام سے متعدد مقامات پر بند کیا جائے گا۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق، سڑکوں کی بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کو 27 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی پارٹی نے ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں بعد میں اپیل کے دوران سزائیں معطل یا فیصلے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی آنکھ کے علاج کے لیے کئی ماہ سے ماہر طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے ان کی رہائی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
مجوزہ مارچ میں شرکا کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 1,150 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، حکام نے دارالحکومت اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستے اٹک پل پر تقریباً 2,000 مال بردار کنٹینر تعینات کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اور اہم راستے ہارون پل پر بھی کنٹینر اور ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں۔ ضلع اٹک میں تقریباً 30,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مظاہرے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کو مظاہرے سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ایک اور اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف اتوار کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا مارچ شروع کیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 100 پاکستانی روپے سے زائد کا لیوی واپس نہیں لیتی تو یہ تحریک حکومت ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے شہر ملتان پہنچنے کے بعد نعیم الرحمن نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مارچ ملتوی کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی مجوزہ ہے۔
اسی دوران پولیس نے اتوار کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے امن عامہ سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔ ان کی دو دیگر بہنوں، عظمیٰ خان اور نورین نیازی سمیت کئی دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سنگین ایندھن قلت کی صورت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1000 پاکستانی روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا اندیشہ
اسلام آباد، پاکستان میں پٹرول کی قیمت سنگین ایندھن قلت کی صورت میں 1000 پاکستانی روپے (3.61 امریکی ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو یہ بات کہی۔ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت حالیہ درمیانی مارکیٹ شرح تقریباً 277.2 پاکستانی روپے فی ایک ڈالر کی بنیاد پر یہ حساب کیا گیا ہے۔
وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت پٹرول تقریباً 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 424 پاکستانی روپے (1.53 ڈالر) فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے اور خبردار کیا کہ اگر سپلائی مزید محدود ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 258.17 پاکستانی روپے (0.93 ڈالر) فی لیٹر تھی۔ اس کے بعد قیمت میں تقریباً 131 پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 51 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کے انجن والی کاریں استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو فی لیٹر 100 پاکستانی روپے (0.36 ڈالر) تک کی سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ مستحق کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جانے ہیں اور ہر ٹوکن کے ساتھ 500 پاکستانی روپے (1.80 ڈالر) کی سبسڈی منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے لیے 17.5 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.80 لاکھ سے زیادہ استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ملک نے کہا کہ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والا خام تیل ممکنہ طور پر اکتوبر تک دستیاب ہو سکتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت 266.17 پاکستانی روپے (0.96 ڈالر) فی لیٹر تھی، جو 7 مارچ تک بڑھ کر 321.17 پاکستانی روپے (1.16 ڈالر) ہو گئی۔
سب سے بڑا اضافہ اپریل کے اوائل میں ہوا۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے کے بعد 3 اپریل کو پٹرول کی قیمت 458.41 پاکستانی روپے (1.65 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔بعد میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہوئی اور 20 جون کو یہ 299.50 پاکستانی روپے (1.08 ڈالر) فی لیٹر تک آ گئی۔ 19 ستمبر تک پٹرول کی موجودہ قیمت 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، پریمیم اور قیمتوں کے تعین کے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں، جو جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا، پاکستان نے موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کی 53.5 لاکھ ٹن مقدار درآمد کی۔
اسی مدت کے دوران ملکی ریفائنریوں نے تقریباً 26.3 لاکھ ٹن پٹرول فراہم کیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 76.8 لاکھ ٹن پٹرول فروخت کیا۔
درآمدات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی پٹرول فروخت کا تقریباً 69.7 فیصد تھیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سپلائی چین کے مختلف مراحل پر ناپے گئے ہیں اور انہیں مجموعی سپلائی کی 100 فیصد تقسیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
