پاکستان
مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟
لاہور —
موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کا بیان
چند روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے ننکانہ صاحب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی تو انہوں نے ردِعمل میں میاں افتخار کے بیٹے کو مار دیا اور بلور خاندان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ لہذٰا جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کے ساتھ ہیں اُنہیں بھی خطرہ ہے۔
سینئر تجزیہ کار اور اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کی یہ دھمکی کسی فرد یا جماعت کو نہیں بلکہ ایک طرح سے ریاست کو دی گئی ہے جس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
سینئر صحافی اور انگریزی اخبار ‘ڈان’ کے ایڈیٹر اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ اعجاز شاہ کا ہمیشہ سے یہی انداز ہے کہ وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ اُن پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ اُن کو تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد اِس طرح کی بات کرنی ہوتی ہے۔ جس میں اپنی مرضی کا پہلو نکالا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ اعجاز شاہ صاحب اپنے بیان کی خود وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور وہ کیا کہہ کر گئے ہیں۔
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام جلسوں میں کیوں؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں ریاستی اداروں کے خلاف جو بیانیہ استعمال کر رہی ہیں، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کی بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتیاں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔
اتوار کو گلگت بلتستان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جب یہ لوگ اُنہیں بلیک میل کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے اب آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔ اگر یہ چور اور ڈاکو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے دونوں کا بالکل ٹھیک انتخاب کیا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کا بطور آرمی چیف انتخاب نواز شریف نے کیا تھا۔ اُس کے بعد اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا۔
اُن کے بقول اُس میں بھی عمران خان اکیلے نہیں تھے۔ اِس فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی پارٹی بھی شامل تھی۔ البتہ فیض حمید کے بارے میں وہ کہتے سکتے ہیں کہ وہ اُنہی کا انتخاب ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ شاید عمران خان، جنرل باجوہ اور فیض حمید کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے آپ کو نشانہ بنایا ہوا ہے تو وہ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اِس صورتِ حال میں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اُن کا انتخاب درست تھا تو وہ بھی نواز شریف کی طرح فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میرا نہیں خیال کہ باجوہ صاحب اور فیض حمید کو اِس وقت عمران خان کی اسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اِس وقت اگر عمران خان اُن کا نام لے کر یہ کہیں کہ ہاں اِن کا میں نے انتخاب کیا ہے اور یہ میرا درست انتخاب ہیں تو دراصل وہ نواز شریف کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں، لہذٰا جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اِس کا فائدہ نہیں نقصان ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض کو جتنا ‘پولیٹیسائز’ ہونا تھا وہ ہو گئے۔ وہ براہِ راست کسی کو جواب نہیں دے سکتے جب کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان، فوج، آرمی چیف اور جنرل فیض کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے صابر شاکر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوشش ہے کہ کسی طریقے سے یہ پارٹنر شپ (شراکت داری) ٹوٹ جائے۔
اُن کے بقول “ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت محدود گفتگو کی اور وہ نہیں چاہتے کہ براہِ راست کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اُلجھا جائے۔ اِس پس منظر میں وزیراعظم نے بطور چیف ایگزیکٹو بات کی ہے۔”
اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ جب بھی ایسا کوئی بیان سامنے آتا ہے تو عام آدمی کو یہی لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے جو ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اشعر رحمان نے کہا کہ جس طرح ایاز صادق نے بیان دیا اور اس نوعیت کے دیگر بیانات ماضی میں کم ہی ملتے ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان کی سیاست کو ایک خاص تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس میں بہت سارے کنگ میکرز ہیں۔ ہمیشہ سے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کنگ میکرز ہوتے ہیں۔کیا مریم نواز کے بیانیے میں نرمی آ رہی ہے؟
اتوار کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کے بیانیے میں ریاستی اداروں بارے بیانیے میں قدرے نرمی محسوس کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ “آپ لوگوں نے وردی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی لیکن دیکھنا ہے کہ وردی کو داغ دار کرنے والے دو، تین کردار کون سے ہیں؟”
صابر شاکر کی رائے میں شریف خاندان کا صرف ایک مسئلہ ہے یہ انقلابی ہرگز نہیں ہیں۔ یہ مدبر بھی نہیں ہیں۔ یہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اُن کے بقول ہمارے سامنے جنرل جیلانی اور جنرل ضیاءالحق کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اِن کے کوئی اصول نہیں ہیں۔ انہوں نے مشرف کو غیر آئینی حکمران کہا، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں اسی مشرف سے وزارتوں کے حلف لیے۔
صابر شاکر کے بقول “یہ انقلابی یا نظریاتی سیاست نہیں ہو رہی۔ یہ مفادات کی سیاست ہے۔ شریف خاندان اِس وقت ڈو اور ڈائی (مر جاؤ یا مار دو) کی پوزیشن میں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاست میں اُنہوں نے بھرپور قسم کی مزاحمت نہ کی تو وہ اپنی قدر کھو دیں گے۔”
صابر شاکر کہتے ہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت فوج پر تنقید کے معاملے پر شہباز شریف کا خاندان بالکل الگ تھلگ نظر آتا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مریم نواز کے بیانیے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے کیوں کہ بطور ادارہ نواز شریف نے فوج کی کبھی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی مریم نواز کر رہی ہیں۔
اُن کا یہ مؤقف ہے کہ فوج میں کچھ عناصر خرابی کرتے ہیں اور اُن کی مزاحمت ایسے عناصر کے خلاف ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ “میں نہیں سمجھتا کہ مریم نواز نے فوج کو بطور ادارہ کبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ نام لیتی ہیں لوگوں کے کچھ انفرادی شخصیات کے نام لیتی ہیں۔ نواز شریف بھی نام لیتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح ہے۔”
اشعر رحمان کی رائے میں جب سے مریم ںواز دوبارہ متحرک ہوئی ہیں۔ اُن کے لہجے میں اُس طرح کی سختی نہیں ہے جتنی میاں نواز شریف کے لب و لہجے میں ہے۔ اُن کے بقول چند روز قبل شاہد خاقان عباسی بھی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرے کی تجویز دے چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بات چیت کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔کیا ن لیگ میں فارورڈ بلاک بن پائے گا؟
ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عبدالقادر بلوچ کی جانب سے فوج مخالف بیانیے پر پارٹی چھوڑنے کے اعلان نے بھی سیاسی میدان میں ہلچل پیدا کر دی ہے جس کے بعد پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کی چہ موگوئیاں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کار اشعر رحمان سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک اُسی وقت بنتا ہے جب سیاست دانوں کی بہت بڑی تعداد ہو جو الگ ہو جائے یا پھر چند بڑے پارٹی رہنما جماعت چھوڑ دیں۔
اشعر رحمان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ابھی فی الحال آج کے دن تک فارورڈ بلاک میں کوئی بڑا نام آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ دو چار دن میں یہ بات غلط ثابت ہو جائے۔ نہ تو ابھی اُس میں بڑے رہنما شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی بہت بڑی تعداد ہے۔
اشعر رحمان کہتے ہیں کہ “(ن) لیگ کا جو فارورڈ بلاک ہے وہ تو شہباز شریف کی صورت میں ہمیشہ سے موجود ہے۔ اُس سے زیادہ فارورڈ بلاک کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اُن سے بات کرنی ہے تو وہ موجود ہیں۔ اِس پارٹی میں تو پہلے سے ہی بہت گنجائش موجود ہے۔”
صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ بیانیے کا کوئی بھی ساتھ نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ ملک کی فوج کے خلاف کھڑے ہو کر نہ تو سیاست ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس کی حمایت کر سکتا ہے۔
صابر شاکر کہتے ہیں کہ “سات ستمبر کے بعد یہ سب کچھ خراب ہوا ہے۔ سات ستمبر سے پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سات ستمبر کو محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کے لیے ریلیف لینے آرمی چیف کے پاس گئے، اگر آرمی چیف اُن کی بات مان لیتے تو مسلم لیگ (ن) کا یہ بیانیہ نہ ہوتا اور یہی لوگ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے گُن گا رہے ہوتے۔”
حامد میر کی رائے میں “قادر بلوچ اگر مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ وہ جب مسلم لیگ (ن) میں آئے تھے تو وہ آئے نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ خود اُن کو لائے تھے۔ اُن کی واحد قابلیت یہ تھی کہ اُن کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہو سکتا ہے کہ راحیل شریف کی بطور آرمی چیف تعیناتی میں بھی اُن کا کردار ہو۔”
حامد میر کے بقول “نواز شریف کے دور میں جب لاپتا افراد کے لیے نواز شریف نے کچھ کرنے کی کوشش کی تھی اُس میں بھی قادر بلوچ ایک رکاوٹ تھے جب کہ جنرل مشرف کو ریلیف دلوانے میں بھی اُن کا کردار رہا ہے۔”
حامد میر کے بقول پارٹی کے اندر ایک سیاسی رہنما یا سیاسی کارکن کے طور پر کبھی بھی ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب کی پہچان نہیں بن سکی۔ اُن کی پہچان صرف یہ ہے کہ ثناء اللہ زہری کے وہ بہت بڑے حمایتی ہیں اور ثناءاللہ زہری اُن کے قبیلے کے سردار ہیں۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ کوئٹہ میں جب پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا تو (ن) لیگ کی جانب سے اُنہیں یہی بتایا گیا تھا کہ اُنہوں نے ثناءاللہ زہری کو اسٹیج پر بٹھانے کی کوشش کی، لیکن پارٹی نے اُن کی بات نہیں مانی۔ اَب اگر یہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ قادر بلوچ صاحب کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
