دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے موجودہ صدر نے اگر صدارتی انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی جنگ ’صرف شروعات ہے۔‘ وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کے مطابق ’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔ یہ ختم نہیں ہوا۔‘ انھوں نے بغیر شواہد کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاحال منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے اور یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ نتائج پر اثر ڈالا گیا۔ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے صدارتی دوڑ میں ہار تسلیم نہیں کی۔
کیا امریکہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟
امریکہ کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔ امریکہ کی جمہوریت اسی اصول پر قائم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد تک قانون کے تحت اور پُرامن انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟ صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے
جو بائیڈن: وہ سیاستدان جنھیں قسمت کبھی عام سا نہیں رہنے دیتی امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟ اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مبصرین اب ایسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنی رائے دے رہے ہیں جس کا گمان پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور‘
7 نومبر کو جب بڑے امریکی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کی متوقع فتح کی خبریں دیں تو اس وقت ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کے قریب گالف کھیلتے نظر آئے۔
ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے بیان جاری کیا کہ یہ الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔
جب بائیڈن کی متوقع فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بائیڈن جھوٹ بول کر خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان کے دوست ان کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ سچ سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتے۔‘
اس میں کہا گیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے نتائج کی مخالفت کریں گے اور مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل میں بدعنوانی کا دعویٰ دائر کریں گے۔
امریکی آئین کے مطابق یہ واضح ہے کہ موجودہ صدارتی دور 20 جنوری کی شام کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔
جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق 270 سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ جیت لیے ہیں۔ تو اگلے چار برسوں تک انھیں صدر رہنے کا حق ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں انھیں عدالتوں میں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ’الیکشن میں فراڈ ہوا‘ ہے لیکن اب تک انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔
اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کی بنیاد پر ’شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے بارہا کہا تھا کہ الیکشن حکام جو مرضی کہیں وہ صدر کے منصب پر قائم رہیں گے۔ انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں اگر الیکشن ’چوری کیا گیا ہو۔‘
تو اس سب کے پیش نظر ملک میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہوگا اگر ٹرمپ صدر برقرار رہنے کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔
اس ممکنہ صورتحال کے مفروضے پر جو بائیڈن سے بھی پوچھا گیا تھا۔
11 جون کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کامیڈین ٹریور نواح نے بائیڈن سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ہاں میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔
’مجھے یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں فوج انھیں دفتر میں رہنے سے روکے گی اور آسانی سے انھیں وائٹ ہاؤس نے نکال دے گی۔‘
بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹرز نے کرنا ہے، نہ کہ امیدواروں نے کہ انتخاب کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی عوام اس انتخاب کے نتائج طے کرے گی۔ امریکہ کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے۔‘
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔
سیکرٹ سروس ایک سویلین ادارہ ہے جو صدر کو سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت اسے تمام سابق صدور کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور وہ 20 جنوری کے بعد بھی ٹرمپ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے
جب سے بائیڈن نو منتخب صدر بنے ہیں، سیکرٹ سروس نے ان کی سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق اب ان کی سکیورٹی کسی صدر جتنی ہی ہے، اس بات سے قطعہ نظر کے ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار الیکشن ہار چکے ہیں۔
ایسے حالات جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا ہو
سب سے پیچیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں اور یہ رویہ جاری رکھتے ہیں۔
بی بی سی نے ماہرین سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے ریاستی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا تو پھر کیا ہوگا۔
پروفیسر ڈکوٹا روڈسل امریکہ میں قومی سلامتی کی پالیسی اور قانون سازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اقتدار میں رہنے کے لیے اگر ایک صدر بظاہر شکست کے بعد بھی اپنی طاقتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس سے اہم (جمہوری) روایات تباہ ہوجائیں گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا ہونا ’ناقابل فہم نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اس سے ملک، سول ملٹری تعلقات کے اہم اصولوں اور عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ صدارت سے جڑے رہیں گے اور انھیں سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہوگی۔
’فوجی اہلکار آئین سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاستدان سے وفاداری کا جو اُس وقت اقتدار میں ہو۔ ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز فوجی اہلکار، جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین جنرل مارک ملی نے بارہا کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘
پروفیسر روڈسل واحد فرد نہیں جو ان مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیشا بلین، جو یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی پروفیسر اور سماجی جدوجہد کی خاطر ہونے والے مظاہروں پر نظر رکھتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’صرف یہ بات کہ ہم اس چیز پر غور کر رہے ہیں کہ آیا فوج انتخاب میں مداخلت کرے گی، اس سے ملک کی افسوسناک صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘
’چار سال قبل اکثر امریکی اس بات پر غور نہیں کر رہے تھے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ نے کیسے پورٹ لینڈ اور واشنگٹن میں مظاہروں کے دوران وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا۔ یہ ایک سنجیدہ مقاملہ ہے۔
’مجھے نہیں لگتا کہ یہ صورتحال ہوگی لیکن رواں سال جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے تناظر میں ہم اس کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے۔‘
نسلی تعصب کے خلاف مظاہروں کے دوران ٹرمپ نے مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر غور کیا تھا۔
جون 5 کو نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل ملی نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ وہ 1807 میں بغاوت روکنے کے لیے بننے والے ایکٹ کا استعمال نہ کریں جس سے پورے ملک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ’یہ وہ حد ہے جو کئی امریکی فوجی عبور کرنا نہیں چاہتے، اگر صدر اس کا حکم دے تب بھی نہیں۔‘
آخر میں ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے دستوں کو استعمال کرنے کا حکم دیا۔ صدر یا ریاست کے گورنر ان دستوں کو حالات کے تناظر میں استعمال کر سکتے ہیں۔
مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔’
یاد رہے کہ مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گرجا گھر کو جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد بدامنی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔
لیکن بعد میں مارک ملی نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔۔۔ مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے یہ ایسی غلطی ہے جس سے میں نے سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔’
واشنگٹن اور پورٹ لینڈ سمیت دیگر امریکی شہروں میں مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر فوجی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا گیا تھا جو محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کو جوابدہ ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں نے الیکشن سے قبل یہ قیاس آرائی کی تھی کہ ٹرمپ ان اہلکاروں کو ممکنہ طور پر اپنی مرضی سے تعینات کر سکتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ فوج صدر کا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے ان کا ساتھ نہیں دے گی، تو یہ تصور کرنا مشکل ہوگا کہ ٹرمپ اقتدار میں رہنے کے لیے کون سی کامیاب چال چل سکتے ہیں۔
کیا پُر تشدد واقعات پیش آسکتے ہیں؟
پروفیسر روڈسل موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
سیاسی امور کے اس ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ایک صدارتی حکمنامہ استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے حامیوں کے زیر اثر محکمۂ قانون ایک حکم جاری کر سکتا ہے۔ اس سے عندیہ ملے گا کہ انتظامیہ ٹرمپ کو اس متنازع انتخاب کا فاتح سمجھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بالکل غلط اور ناقابل منظور ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سیلوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘
ماہرین کے مطابق صدر کے اعلان نے شہروں میں پُرتشدد واقعات کے امکان بڑھا دیے ہیں
پروفیسر روڈسِل نے کہا کہ ’ملک کے نصف شہری اور دنیا بھر میں کئی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ غیر سیاسی امریکی فوج کسی ایک فریق کے حق میں جانبدار ہوگئی ہے۔ فوج کو کبھی بھی ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے۔‘
سیاسی جماعتوں کے آپسی تنازعات کی وجہ سے مسلح افواج کی خود مختاری بھی خطرے میں محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے کئی علاقوں میں پُرتشدد واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
کیشا بلین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی صورتحال جس میں صدارتی امیدوار نتائج میں اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو ملک میں شدید انتشار پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق صدر کے بیانیے نے مظاہروں اور پُرتشدد واقعات کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران امریکی شہروں میں کئی پُرتشدد واقعات سامنے آئے۔ مسلح مظاہرین نے صدر کے حق میں اظہار خیال کیا جبکہ نسلی تعصب کی مخالفت میں بھی احتجاج دیکھے گئے۔ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں تشدد کی فضا پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان5 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
