اہم خبریں
روشنی اراضی اسکنڈل: فائدہ اْٹھانے والوں کے نام ظاہر، سابق وزیر خزانہ حسیب درابو سمیت کئی اہم شخصیات کے نام شامل
جموں و کشمیر انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے مبینہ طور غیرقانونی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی پہلی فہرست جاری کی ہے جس میں سابق وزیر خزانہ اور پی ڈی پی کے سابق ممبر حسیب درابو سمیت کئی اہم سیاسی وکاروباری شخصیات کے نام شامل۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے مبینہ طور غیرقانونی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی پہلی فہرست جاری کی ہے جس میں سابق وزیر خزانہ اور پی ڈی پی کے سابق ممبر حسیب درابو اور ان کے کنبہ کے3 افراد، کانگریس کے ممبر اور سرینگر میں براڈوے ہوٹل کے مالک کے کے آملہ، ریٹائرڈ ائی اے ایس افسر محمد شفیع پنڈت اور ان کی اہلیہ، اور ہوٹل کاروباری مشتاق احمد اور ان کا بیٹا شامل ہے۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ اس فہرست میں سابق وزراء، تاجر اور نوکرشاہ بھی شامل ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ محکمہ مال نے پہلے سے ہی اس معاملے میں ’موٹیشن‘کو خارج کیا ہے،ہم اس وقت فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔
یہ فہرست بعد میں ویب سائٹ پر شائع کی جائے گی۔‘اْن کا مزید کہنا تھا ’اس وقت تک ہم نے15ہزار سے زائد افراد کی تفصیلات اکھٹا کی ہے اور مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس کاروائی کے بعد کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی بازیاب کی جائے گی۔‘تفصیلات فراہم کرتے ہوئی اْنہوں نے کہا’روشنی ایکٹ کے تحت تقریباً 3لاکھ48ہزار200کنال اراضی لوگوں کو دی گئی ہے، تاہم اس میں سے3لاکھ40ہزار100 کنال جو کہ زرعی زمین تھی کو مفت میں تقسیم کیا گیا ہے۔‘سرینگر ضلع انتظامیہ نے ایک سابق وزیر، ایک کانگریس لیڈر اور ایک تاجر کا نام اپنی فہرست میں درج کیا ہے۔سابق وزیر خزانہ حسیب درابو اور ان کے تین رشتہ دار شہزادہ بانو، اعجاز درابو، افتخار درابو، معروف تاجر اور کانگریس لیڈر کے کے آملا، رچنا آملہ، وینا آملہ، مشتاق احمد، سابق بیوروکریٹ محمد شفیع پنڈت اور ان کی اہلیہ نگہت پنڈت، سید مظفر آغا روشنی ایک سے فائدہ اٹھانے والے افراد میں شامل ہیں۔
وہیں جموں میں، روشنی ایکٹ کے علاوہ دیگر تجاوزات والی اراضی کی فہرست جس میں تجاوزات ہیں لیکن محصولات کے ریکارڈ میں نہیں دکھایا گیا، سید آخون نیشنل کانفرنس (این سی) لیڈر، ایم وائی خان، عبدالماجد وانی، سابق وزیر کانگریس، اسلم گونی، ہارون چودھری۔ این سی لیڈر، سابق وزیر سجاد کیچلو کے نام اس فہرست میں درج کیے گئے ہیں۔جموں میں جن کے نام فہرست میں شامل کیا گیا ہے،اُن میں نارو رام،بیلی رام،شالو رام داس اور رام لال شامل ہیں۔
یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے سابق ریاست جموں کشمیرکے11اراضی قوانین کو منسوخ کیا ہے جوقدیم،رجعت پسندانہ اور زائدالمعیاد تھے اوران کی جگہ نئے،جدید،ترقی پسند اور عوام دوست قوانین لائے گئے۔نئے اراضی قوانین سے 90فیصد اراضی کو بیرون لوگوں کے نام منتقل کرنے سے تحفظ حاصل ہوگابلکہ ان سے زرعی شعبے کو بھی فروغ حاصل ہوگااور تیزتر صنعت کاری،اقتصادی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیداہوں گے۔ان باتوں کااظہار پرنسپل سیکریٹری اطلاعات اور سرکاری ترجمان روہت کنسل نے جموں میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔کنسل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر تشکیل نو قانون کے پانچویں حکم2020سے متعلق سوالات کے جواب دیئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ منسوخ کئے گئے قوانین زراعت پر مشتمل قدیم اقتصادیات کے فروغ کیلئے تھے اور جدیداقتصادی ضروریات کیلئے انہیں اصلاح کرنالازمی تھا۔اس کے علاوہ یہ مبہم قوانین تضادات سے بھرپور تھے اور متعدد معاملوں میں یہ واضح طور رجعت پسند تھے۔مثال کے طور پرمتعدد قوانین میں تضادات تھے جس کی وجہ سے ان کی تشریح میں صوابدیدی کاامکان تھا۔مختلف قوانین میں ”کنبے“کو مختلف اندازمیں بیان کیا گیاتھااوربڑی جاگیروں میں زمین کی حد182کنال ہونے کو1976کے زرعی اصلاحات قانون میں 100کنال کیاگیاتھاتب بھی دونوں قواعد ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے اورابہام اور تضاد پیداکررہے تھے۔
اراضی کو تبدیل کرنے پرروک اور انتقال باغات قانون1975نہ صرف باغات کی اراضی کے انتقال پر منع کرتے تھے،یہ حیرت انگیز طور نئے باغات کووجود میں لانے سے بھی روک رہے تھے۔اِسی طرح زرعی اصلاحات قانون کے تحت کاشت کار کو دی گئی اراضی کو44سال بعد بھی فروخت کرنے پر پابندی تھی۔پہلے ہی خریدنے کے حق کا قانون مالک کو اْس کی جائیداد فروخت کرنے سے روک رہے تھے۔ نئے اراضی قوانین جدید اور ترقی یافتہ ہیں۔نئے اراضی قوانین میں دیگر ریاستوں جن میں ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ بھی شامل ہے،کے خطوط پر کئی حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
کسی بھی قسم کی زرعی اراضی جموں کشمیر کے باہر کسی بھی شخص کے نام پر منتقل نہیں ہوسکتی،بلکہ جموں کشمیر کے اندر ہی زمیندار کو ہی کاشتکاری کیلئے فروخت کی جاسکتی ہے۔کسی بھی زرعی اراضی کو غیر زرعی کام کیلئے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ زرعی اراضی اور زمیندار کی اصطلاح میں نہ صرف زراعت بلکہ باغبانی اور زرعی سرگرمیوں سے متعلق دیگر چیزیں بھی شامل ہے۔ زمیندار کی اصطلاح۔۔۔ وہ شخص جو ذاتی طور پر جموں کشمیر میں کاشتکاری کرتا ہو۔
زرعی اراضی کے تحفظ کو صرف اس صورت میں یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر میں 90 فیصد سے زائد اراضی،زرعی زمین ہے،اور یہ جموں کشمیر کے لوگوں کے پاس محفوظ رہے گی۔ نئے قوانین نہ صرف پرانے کمزور قوانین کے مسائل کا ازالہ کریں گے بلکہ جموں کشمیر میں زرعی اور صنعتی فروغ کی جدیدیت کو بھی فروغ بخشیں گے۔ منسوخ شدہ قوانین کے ترقی یافتہ دفعات کو ترمیم شدہ اراضی قوانین میں شامل کیا گیا ہے،جبکہ نئے اور موجودہ قوانین میں نئے اور جدید دفعات شامل کئے گئے ہیں۔
اب بورڈ برائے مال کے قیام،اراضی کے استعمال کے نفاذ کیلئے علاقائی منصوبہ بندی،تحفظ،پٹے پر اراضی،معاہدوں پر کاشتکاری کے نئے دفعات شامل کئے گئے ہیں۔بورڈ برائے مال میں اب نہ صرف علاقائی منصوبہ بندی کیلئے ڈیولپنگ اٹھارٹی کے سنیئر افسران تک محدود رہے گی،بلکہ اراضی کی حصولیابی کی شراکت د اری کیلئے اسکیم کو بھی نوٹیفائی کریں گے۔
پرانے قوانین فرسودہ تھے:جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کا پانچواں آرڈر2020۔ موجودہ قوانین میں خاص طور پر زمین کے انتظام سے متعلق قوانین میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔11 پرانے قوانین منسوخ کردیئے گئے اور 4 بڑے قوانین میں ترمیم کی گئی۔ پہلے ہمیں پرانے / موجودہ قوانین میں سے بہت سے لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درحقیقت یہ قوانین پرانی زرعی معیشت پر مبنی معیشت کے لئے بنائے گئے تھے۔ وہ فرسودہ تھے اور ابہامات اور تضادات کا شکار تھے۔بہت سے معاملات میں یہ قوانین واضح طور پر رجعت پسندانہ تھے۔صوابدیدی تشریح اور بدعنوانی کی بہت گنجائش موجود تھی۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
