تازہ ترین
سرینگر۔ جموں شاہراہ پر ٹریفک جاری
مغل روڑ اور سرینگر۔لہیہ شاہراہ ہنوز بند،درماندہ افراد وڈرائیوروں کو مشکلات
خبرارادو
سرینگر:وادی کشمیر میں تازہ برف باری کے باجود سرینگر جموں پر ٹریفک جاری تھا جبکہ مغل روڑ اور سرینگر لہہ شاہراہ ہنوز بند پڑی ہے جس کی وجہ سے یہاں دونوں اطراف سے درماندہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ادھرسرینگر۔
جموں شاہراہ کے پتنی ٹاپ علاقے میں ٹرک اور ٹینکر ڈارئیوروں کی ایک بڑی تعداددرماندہ ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کشمیر نیوز زسروس(کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیر میں منگل کے صبح ہوئی برف باری کے باجود سرینگر جموں شاہراہ مسافر بردار گاڑیاں کی آمد رفت کے لئے بحال تھی جس دوران ٹریفک جموں سے سرینگر چل رہا تھا۔ذرایع نے بتایا تاہم شاہراہ پر صرف مسافر گاڑیاں ہی چلتی نظر آئی ہہے ادھر کچھ ٹرک اور ٹنکر ڈارئیوروں نے بتایا وہ تین روز سے پتنی ٹاپ سے کدھ کے مقام پر درماندہ ہوئے ہیں۔
ادھر سرینگر لیہہ شاہراہ منگل کو بھی ٹریفک کے لئے معطل رہی ہے جس کی وجہ سے کئی روز سے دونوں اطراف سے درماندہ مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ادھر وادی کو باقی دنیاں سے ملانے والی دوسرا روٹ مغل روڑ بھی ٹریفک کی آمد رفت کے لئے پہلے ہی بند تھا جس فلحال نہیں کھولا گیا ہے اور29دسمبر کی برف باری کی وجہ سے فلحال؛ مزکورہ روٹ کوفوری طور کھولنے کے امکان کم ہوئے ہیں۔کیوں کہ مزکورہ روڑ پہاڑوں سے ہوتے ہوئے گزرتا ہے جہاں بہت زیادہ برف باری ہوسکتی ہے۔
وادی میں منگل کے روز 1بجے تک برف باری کے بعد موسم خوشگوار ہوا ہے جس دوران لوگوں نے یہاں راحت کی سانس لی ہے۔ادھرسرینگر۔ جموں شاہراہ کے پتنی ٹاپ علاقے میں ٹرک اور ٹینکر ڈارئیوروں کی ایک بڑی تعداد درماندہ ہے جس کی وجہ سے وہ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس دوران درماندہ ڈارئیوروں نے آئی جی پی ٹریفک سے اس حوالے سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے،تاکہ انہیں مزید پریشانیوں کاسامنا نہ کرنا پڑے۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق 270طویل سرینگر جموں شاہراہ پر تازہ برف باری کے نتیجے میں پھنسے ہوئے تیل ٹینکروں سمیت سیکڑوں ٹرک ڈرائیوروں کئی روز سے درماندہ ہیں جس کی وجہ سے مزکورہ ڈارئیور طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہیں۔
درمانددہ لوگوں نے آئی جی پی ٹریفک سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں یہاں سے بحفاظت نکالنے کے لئے اقدامات کریں۔کشمیر نیوز سروس کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے ایک ٹرک ڈارئیور سجاد احمد کٹھانہ نے بتایایہاں 2500کے قریب سرینگر جموں شاہراہ پر پتنی ٹاپ سے کدھ تک گزشتہ تین روز سے سڑکوں پر کھڑے ہیں اور انہیں آگے جانے کی جازات نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں یہاں طرح طرح کے مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے بتایا یہاں کھانے پینے کے لئے بھی کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کوئی چیز ملتا ہے جس کے سبب انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈرائیوروں نے بتایا ان کتے پاس جو بھی اشیاء خردنی تھی وہ سب ختم ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا پتنی ٹاپ پر تازہ برف باری کے بعد وہ یہاں سے آگے چلنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ایک اور ڈارئیوردارا سنگھ نے بتایا ہمارے لئے پیدل چلنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا، ٹماٹرموڈ سے لے کر بٹوٹ تک پھسلن پیدا ہو رہی ہے جس نے چلنا ہمارے لئے ایک خطرہ کام بنا دیا ہے۔اس موقع پر متعدد ٹرکوں نے حکام کے خلاف احتجاج کیا اور جلد انخلا کا مطالبہ کیا۔ادھر ڈارئیوروں نے آئی جی پی ٹریفک سے اس بارے میں فوری طور اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے(کے این ایس)
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
