تازہ ترین
ہنرمندی فراہم کرے گی ‘آتم نربھربھارت’کو نئی شناخت
مہندرناتھ پانڈے
کسی بھی ملک کی اقتصادی وسماجی ترقی میں ہنرمندی کا بہت اہم تعاون تسلیم کیا جاتا ہے۔ہنرمندی ایک ایسی سادھنا ہے، جس کے ذریعہ نوجوانوں کو بااختیار اور خودکفیلبنایا جاسکتا ہے اور صنعتوں کی مانگ کے مطابق ہنر مند مین پاور تیار کرکے اسکل گیپ کو آسانی سے پر کیا جاسکتا ہے۔ہنر مندی صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماج اور قوم کو بھی آگے بڑھاتی ہے۔
صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو مستقبل میں ہنرمندی ہی وہ ذریعہ ہوگا جو نوجوان طاقت کو خودکفیل بنانے میں اس کی مدد کرے گا اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت دلائی گی۔صلاحیت سازی اورصنعت کاری کی وزارت ریاستی سرکاروں ،تربیت یافتہ شراکت داروں اور متعدد کثیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کررہی ہے۔
آج اسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف ہنر مندی کے اداروں میں تربیت حاصل کررہے نوجوانوں نے اپنی صلاحیت اور ہنرمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختراعات کے شعبہ میں متعدد نئی ایجادات کیں جو مستقبل میں دوسرے طلبا کے لیے تحریک کا باعث ثابت ہوں گی۔صلاحیت سازی اور صنعت کاری کی وزارت نوجوانوں کو 21ویں صدی کے متعلق زبردست تکنیکی اور معیاری تربیت بھی مہیا کرارہی ہے تاکہ ملک کی مجموعی ترقی میں نوجوان اپنی حصہ داری نبھاکر ‘آتم نربھر بھارت’کے وژن کو نئی سمت دے سکیں۔
ہمارے نوجوانوں میں وہ صلاحیت اور ہنر ہے جس کے بل پر بھارت کو عالمی سطح کی ہنر مندی کا مرکزبنایا جاسکتا ہےاور عالمی سطح پر بھارت کا نام سنہرے حروف میں درج کرواسکتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق سال2030تک بھارت کے پاس دنیا کی سب سے بڑی ورک فورس ہونے کی امید ہے ۔
اس میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوگی،اس نوجوان ورک فورس کو ہنرمندی کی تربیت دے کر انہیں مستقبل کے لئے تیار کیا جاسکتا ہےتاکہ روزگار کے نئے مواقع میں تیزی سے اضافہ کیا جاسکے۔ہنرمندی کے ذریعہ ہی ہم 21ویں صدی کے نئے بھارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہنر مندی ہمیں روزگار کے متعدد مواقع فراہم کرتی ہے۔ساتھ ہی خود روزگار کے لئے بھی متحرک کرتی ہے۔
ہنر مندی میں وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ ہم بھارت کو نئی بلندیوں تک پہنچاسکتے ہیں ۔ ہنر مندی کے ذریعے نوجوان اپنے خوابوں کو تعبیر آشنا کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کو وقت کے عین مطابق رہنے کے لئے ‘اسکل ،اپ اسکل اور ری اسکل ’ کا منتر دیا تھا ۔اس منتر کا استعمال کرکے نوجوان دوسروں سے الگ ہٹ کر اپنی ایک الگ پہچان بنا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو نئی نئی ٹیکنالوجی میں ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے اور ضلعی سطح پر خود کفیل بنانے کے مقصد سے‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کو اکتوبر؍نومبر 2020میں کچھ اہم اصول وضوابط کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔اس منصوبے کاہدف مالی سال 2020-21کے دوران8لاکھ امیدواروں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔
یہ طلب اور صنعتوں پر مبنی ایک ایسا منصوبہ ہوگا جو نیو ایج اسکلس پر کام کرےگی اور ضلعی سطح پر نوجوانوں کو مضبوط بنائے گی۔اس منصوبے کے تحت ضلعی سطح پر صنعتوں اور دوسرے شعبوں کی طلب کی بنیاد پر جاب رولس کی پہچان کی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ ڈجیٹل ٹیکنالوجی ،ڈجیٹل تعمیر،طلب پر مبنی صلاحیت سازی اور صنعت 4.0 سے متعلق ہنر مندی کے فروغ پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کے تحت ضلعی سطح پر ‘ضلع ہنرمندی کمیٹیاں’ (ڈی ایم سی) تشکیل دی جائیں گی۔ ضلع ہنرمندی کمیٹیاں صنعتوں کی مانگ کے مطابق مقامی سطح پر اسکل کی شناخت کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس کی علاوہ ڈی ایم سی مختلف مقامات پر ہنرمندی میلوں کا بھی انعقاد کریں گی، جس میں نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت اور نصاب کے بارے میں واقف کروایا جائے گا۔
علاوہ ازیں ڈی ایم سی تمام امیدواروں کو پلیسمنٹ، خودروزگار اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے میں بھی اپنا حصہ ادا کرے گی۔ ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کا مقصد ملک کی مختلف ریاستوں میں ضلعی سطح پر ضلع ہنرمندی کمیٹیوں کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے، تاکہ نوجوانوں کی مانگ کے مطابق انہیں ہنرمند بنایا جاسکے۔
پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم کے تحت عزم بستہ پروجیکٹ کے ذریعہ مقامی سطح پر کارکنوں کو صنعت دی جائے گی اور بڑی سطح پر انہیں مقامی گزربسر کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم میں ریاستی ہنرمندی فروغ مشن (ایس ایس ڈی ایس) کابھی اہم کردار ہوگا۔ ایسی کئی ریاستیں ہیں، جہاں ایس ایس ڈی ایس کے ذریعے ہنرمندی کے فروغ کے علاوہ ضلعی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کے ہنرکو ترقی دی جاسکے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں ‘اسکل انڈیا مشن’ کی شروعات کی تھی۔ اس مشن کا مقصد نوجوانوں کی ہنرمندی کو فروغ کرکے روزگار کے مستقل مواقع مہیا کرنا تھا۔ آج اس مشن کے ذریعے ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کے ہنر کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری فلیگ شپ اسکیم ‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کے ذریعے نوجوانوں کو جدید تکنیکوں پر مبنی ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ پی ایم کے وی وائی کے تحت اب تک ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت دی جاچکی ہے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاچکے ہیں۔
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت لگاتار تربیتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ آج ملک بھر میں 700 سے زیادہ ضلعوں میں 26 ہزار سے زیادہ مراکز کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جہاں پر نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت دیے جانے کےساتھ ساتھ انہیں خودکفیل بنایا جارہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 487 ملین کارکن ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک میں ایسے کارکنوں کی تعداد زیادہ ہے، جو اپنے کام میں ماہر تو ہوتے ہیں لیکن سند یافتہ نہیں ہوتے۔ اسی لیے ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کے ذریعے ‘اسکل انڈیا مشن’ کے تحت عزم بستہ پروجیکٹ کے ذریعے ایسے کارکنوں کو سند دی جاری ہے، تاکہ انہیں مستقبل میں بہتر روزگار کے مواقع مل سکیں۔
اس کے علاوہ مستقبل کے ہنرمندی کی تشکیل کے لیے بھی کارکنوں کو تیار کیا جارہا ہے، تاکہ انہیں خودکفیل بنایا جاسکے۔ ہماری اہم پہل میں سے ایک آرپی ایل (ریکوگنائزیشن آف پرائر لرننگ) کے ذریعے بھی کارکنوں کے ہنر کو ایک الگ شناخت مل رہی ہے۔ حال ہی میں این ایس ڈی کے ذریعے کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق آر پی ایل سند کاری کے بعد تقریبا 47 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
اتنا ہی نہیں نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق جن امیدواروں نے آر پی ایل میں تربیت حاصل کی ہے، ان میں سے 59 فیصد امیدواروں نے اعتراف کیا ہے کہ آرپی ایل ان کے ہنر کو تقویت دیتا ہے اور بازار میں انہیں روزگار کے بہتر مواقع دلانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کا مقصد ضلعی سطح پر زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم سے مربوط کرنا ہے، تاکہ نوجوانوں کے ہنر کی ترقی کرکے انہیں روزگار کے مستقل مواقع فراہم کیے جاسکیں۔
ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ہم عہد بستہ ہیں۔ ہم ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کی سمت پیش رفت کررہے ہیں،جس کی شناخت ‘آتم نربھر بھارت’ کے طور پر کی جائے گی۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
