اہم خبریں
کیا افغانستان کی فوج طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
لاہور — “ہم نے لگ بھگ تین لاکھ افغان فوجیوں کو گزشتہ 20 برس کے دوران ہر طرح کی جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔ مجھے اس بات پر زور دینے دیں کہ ہر وہ جدید ہتھیار جو کسی بھی ماڈرن فوج کے پاس ہوتے ہیں لہذٰا افغان فوج با آسانی تقریباً 75 ہزار طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔”
یہ الفاظ ہیں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے جن کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ افغان فورسز اور پولیس کی جس معیار کے تحت تربیت کی گئی ہے طالبان صلاحیت کے لحاظ سے اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔
صدر بائیڈن کے افغان فوج پر اعتماد کے باوجود افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش قدمی اور افغان فورسز کی کئی علاقوں میں پسپائی کی اطلاعات کے بعد افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ پر 22 افغان کمانڈوز کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کی مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں طالبان کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے وہیں کئی علاقوں میں افغان فورسز کی پسپائی پر بھی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل ‘سی این این’ نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں افغان صوبے فریاب کے شہر دولت آباد میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود طالبان جنگجوؤں نے مبینہ طور پر 22 افغان کمانڈوز کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
طالبان نے ‘سی این این’ کی اس ویڈیو کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کمانڈوز کی ہلاکت سے اظہارِ لاتعلقی کیا تھا۔
امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔
البتہ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بھرپور عزم کے ساتھ طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں اور مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے۔
افغان فوج کی تعداد اور وسائل
افغان نیشنل آرمی کی ازسر نو تشکیل کی بنیاد افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد دسمبر 2002 میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی کانفرنس میں رکھی گئی تھی۔
افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی قیادت میں بننے والی نئی عبوری حکومت اور امریکہ سمیت کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے افغان فورسز کی بنیاد رکھنے کی منظوری دی تھی۔
ابتداً 70 ہزار فوجیوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی تربیت کی ذمے داری امریکی فوج کو دی گئی تھی جب کہ بون کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے بھی افغان فورسز کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔
افغان فورسز کے قیام کے وقت بہت سی ملیشیاز بھی اس میں ضم ہو گئی تھیں جن کے ہزاروں جنگجوؤں کو بھی افغان فوج میں بھرتی کیا گیا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغان فورسز کی تعداد اور اُنہیں جدید اسلحے سے لیس کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
کابل میں مقیم سینئر تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان نیشنل فورسز کی کل تعداد اب بڑھ کر تین لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جن میں افغان فوج، ایئر فورس اور پولیس کے اہل کار بھی شامل ہیں۔
افغان فوج میں لگ بھگ 4500 کے قریب خواتین فوجی اہل کار بھی ہیں۔
سن 2002 میں افغان فورسز کے لیے بھرتیوں کا آغاز ہوا تو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے ریکروٹس کی تربیت کی ذمے داری لی۔ اس دوران کابل اور دیگر بڑے شہروں میں بیسز اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔
کابل میں امریکہ نے ڈرل انسٹرکٹر اسکول قائم کیا جب برطانیہ نے نان کمیشنڈ افغان فوجیوں کی ابتدائی اور ایڈوانس ٹریننگ کا بیڑہ اُٹھایا تھا۔
افغان فورسز کی ازسرِ نو تشکیلِ 2002 میں کی گئی۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس ملٹری اکیڈمی، نیو یارک کے تحقیقی ادارے ‘کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق افغان فوج کی مجموعی تعداد تین لاکھ 52 ہزار کے لگ بھگ ہے۔
سینٹر کے مطابق فوجیوں کا چھٹیوں پر چلے جانا اور ‘گھوسٹ سولجرز’ یعنی ڈیوٹی پر آئے بغیر تنخواہیں لینے والے فوجیوں کے باعث آن ڈیوٹی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار کے لگ بھگ ہے۔
‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس اہل کاروں کی کل تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔
افغان فورسز کی ‘چین آف کمانڈ’
افغان فورسز کی ملک میں پانچ ریجنل کمانڈز یا کورز ہیں جو وزارتِ دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کے ماتحت آتی ہیں۔ ان میں کابل، گردیز، ہرات، قندھار اور مزار شریف کورز شامل ہیں۔
افغانستان کے آئین کے مطابق افغان فورسز کے چیف آف کمانڈ یا سپریم کمانڈر افغانستان کے صدر ہوتے ہیں جن کے پاس فوج میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار ہوتا ہے۔
افغانستان کی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل ولی محمد ہیں جنہیں حال ہی میں اشرف غنی نے جنرل یسین ضیا کی جگہ تعینات کیا تھا۔
آرمی چیف کے بعد وائس چیف اور پھر چیف آف پرسنل، چیف آف انٹیلی جنس، چیف آف آپریشنز، چیف آف لاجسٹکس اور انسپکٹر جنرل ہوتے ہیں جو میجر جنرل یا لیفٹننٹ جنرل رینک کے افسران ہوتے ہیں۔
دیگر ممالک کی ایئر فورس کے افسران کے رینکس کے برعکس افغانستان میں میجر جنرل محمد شعیب نوری افغان ایئر فورس کے سربراہ ہیں۔
افغان ایئر فورس
افغان ایئر فورس کے پاس 200 سے زائد لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ٹرانسپورٹ جہاز ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ساختہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، لٹل برڈ ایم-ڈی 530 ہیلی کاپٹرز، ٹرانسپورٹیشن کے لیے سی-130 طیارے ہیں جب کہ اس کے پاس روسی ساختہ ایم-آئی 17 ہیلی کاپٹرز بھی ہیں۔
امریکہ نے افغان ایئر فورس کو حالیہ برسوں کے دوران 20 سے زائد A-29 سپر ٹیکانو لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے ہیں۔
افغان پائلٹس کی تربیت اور طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا انحصار بھی امریکہ اور نیٹو مشن کے پاس تھا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 برس کے دوران امریکہ نے افغان ایئر فورس کو لڑاکا طیاروں سے لیس کرنے اور دیگر تیکنیکی مدد کے تحت آٹھ ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے ہیں۔
افغان ایئر فورس کے پاس اے-29 سپر ٹیکانو اور اے سی 208 کاروان نامی طیارے جب کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جن کی مرمت انتہائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔
یہ طیارے فضا سے زمین پر موجود اہداف پر لیزر گائیڈڈ میزائلز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسپیشل آپریشنز فورس، کمانڈوز
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے لیے عام افغان فوجیوں کا مقابلہ کرنا قدرے آسان ہے، تاہم جدید کمانڈو تربیت حاصل کرنے والے افغان کمانڈوز اُن کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔
افغان کمانڈوز مغویوں کی بازیابی، اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور دیگر خصوصی آپریشنز کرتے ہیں اور انہی وجوہات کی بنا پر انہیں افغان فورس کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔
‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق ان کمانڈوز کی تعداد 20 سے 25 ہزار ہے۔
حالیہ دنوں میں افغان صوبے قندھار میں افغان فورسز اور طالبان کے خلاف ہونے والی گھمسان کی لڑائی میں ان کمانڈوز نے ہی حصہ لیا تھا۔
طالبان نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے صوبہ قندھار میں پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے اسپن بولدک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم بعدازاں افغان فورسز نے طالبان سے یہ علاقہ واگزار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
افغان پولیس کا تنازع میں کیا کردار ہے؟
افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان پولیس کا کردار بھی ایک طرح سیکیورٹی فورسز جیسا ہی ہے۔
اُن کے بقول بظاہر اُن کا کام شہریوں کے جان و مال اور املاک کا تحفظ ہے، لیکن افغانستان میں گزشتہ 20 برس سے جس نوعیت کی لڑائی جاری ہے اس میں پولیس، سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑتی رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اہل کاروں کی کل تعداد لگ بھگ ایک لاکھ سات ہزار ہے جن میں بارڈرز پولیس بھی شامل ہے جو چاروں طرف خشکی سے گھرے افغانستان کے بارڈرز پر بھی تعینات ہے۔
نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغانستان میں شہروں میں ہونے والے دھماکوں اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس بھی پیش پیش رہی ہے۔
افغان حکومت کی ملیشیاز سے لڑائی میں شامل ہونے کی اپیل
طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے بعض علاقوں سے پسپائی کے باعث ماضی میں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہنے والی ملیشیاز اور مسلح گروہوں پر بھی سب کی نظریں ہیں جنہوں نے تاحال کسی بھی فریق کی جھولی میں اپنا وزن نہیں ڈالا۔
افغان حکومت نے گزشتہ ماہ ‘نیشنل موبلائزیشن’ کے نام سے رضا کاروں کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا تھا تاکہ وہ افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کر سکیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملک میں موجود ملیشیاز پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں اور ملک کا دفاع کریں۔
امریکی جریدے ‘دی ویک’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عوامی سطح پر طالبان کے خلاف کئی گروہ منظم ہوئے ہیں۔ تاہم سوویت جنگ اور نوے کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی میں لڑنے والی ملیشیاز کھل کر ابھی سامنے نہیں آئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشتون، ہزارہ، ازبک اور تاجک جنگجو دھڑے ملک میں موجود ہیں۔ سابق افغان وزیرِ اعظم گلبدین حکمت یار، شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کے سابق گورنر محمد عطا نور، صوبہ جوزجان میں مارشل عبدالرشید دوستم، صوبہ ہرات میں محمد اسماعیل خان اور صوبہ میدان وردک میں عبدالخانی علی پور اور عبدالرسول سیاف جیسے جنگجو کمانڈرز اب بھی ملک میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق ان بڑے گروپس میں سے بیشتر طالبان کے بڑے مخالف رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ لڑائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ البتہ ان میں سے بیشتر فی الحال صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
افغان صوبے ہلمند میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ‘سنگوریان’ نامی ملیشیا کے جنگجو بھی طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
امریکہ اور اتحادی ممالک کا افغان فورسز کے ساتھ تعاون
امریکی حکومت کے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے چند روز قبل جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ نے افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے پر گزشتہ 20 برس کے دوران 88 ارب ڈالرز خرچ کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو کہ امریکی حکام افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے پرامید رہتے ہیں۔ لیکن افغان فورسز کی صلاحیتوں کو جانچنے کا نظام مبہم ہے۔
‘سگار’ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے قائم سرکاری ادارہ ہے جو ہر تین ماہ بعد اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے افغانستان سے امریکی مشن کے اختتام اور افغان فورسز کے لیے امریکی فوجی تعاون ختم ہونے کے بعد افغان فورسز کی کارکردگی کیا ہو گی اس کا جواب بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پر اُمید ہے کہ جدید سہولیات اور اسلحے سے مزین افغان فورسز طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے گزشتہ بدھ کو ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کے پاس طالبان سے زیادہ وسائل ہیں۔ اُن کے پاس گراؤنڈ اور ایئر فورس کے بھی زیادہ وسائل ہے اور اُنہیں امریکہ کی مالی اور لاجسٹک مدد بھی حاصل ہے۔
افغان فورسز کے ساتھ بھارت کا تعاون
امریکہ اور اتحادی ممالک کے علاوہ بھارت بھی افغان فورسز کی تربیت اور ایئر فورس کی معاونت کرتا رہا ہے۔
نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ بھارت نے لڑاکا ہیلی کاپٹرز اور دیگر فوجی سازو سامان کی فراہمی کے علاوہ سیکڑوں افغان فوجیوں کو تربیت بھی دی تھی۔
بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت نے افغانستان کو 285 فوجی گاڑیوں کے علاوہ افغانستان کی زبوں حال ایئر لائن ‘آریانہ’ کے آپریشنز کی بحالی کے لیے ایئر انڈیا کے تین طیارے بھی دیے تھے۔
بھارت کی جانب سے افغانستان کی فوجی معاونت پر امریکی حکام بھی بھارت کے معترف رہے ہیں۔
افغان فورسز کی خواتین کمیشنڈ ریکروٹس، بھارت کے شہر چنائی کی فوجی اکیڈمی میں تربیت حاصل کرتی رہی ہیں۔
چند روز قبل نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ جاری رہی تو افغانستان بھارت سے بھی فوجی مدد لے سکتا ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی کے باوجود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔
افغان فورسز کو درپیش چیلنجز
رواں برس کے آغاز پر انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن جان ساپکو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی اور غیر ملکی کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس زیادہ دیر تک اپنے طیاروں کی دیکھ بھال نہیں کر سکے گی۔
امریکی جریدے ‘پولیٹیکو’ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ ملک سے جانے والے کانٹریکٹرز ‘زوم’ یا دیگر ویڈیو ایپس کے ذریعے افغان ایئر فورس کے انجینئرز کی مدد کر رہی ہیں جس کا بظاہر زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے افغان ایئر فورس کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف نبرد آزما افغان فوجیوں کی مدد کرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔
جھڑپوں کے مقامات سے لاشوں یا زخمیوں کو نکالنے یا طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی امریکی فضائیہ کی عدم موجودگی میں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ایئر فورس اب بھی فعال ہے اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
اُن کے بقول اب بھی کچھ کانٹریکٹرز افغانستان میں ہیں جو افغان ایئر فورس کی تیکنیکی مدد کر رہے ہیں۔
امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار خامیوں کی وجہ؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے قبضے کے بعد ملک میں بدانتظامی اور کرپشن میں بھی اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ ملک میں امریکی ڈالرز کی ریل پیل تھی۔
افغان اُمور کے ماہر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ بہت سے افغان وار لارڈز اور ملیشیاز نے اپنے لوگ افغان فورسز میں بھرتی کرائے اور بہت سے گھوسٹ فوجی بھی بھرتی ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ حالیہ لڑائی میں 20 سے 25 ہزار افغان کمانڈوز ہی دلیری سے لڑ رہے ہیں جو باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں ورنہ دیگر فوجی یا تو ہتھیار ڈال رہے ہیں یا طالبان کی تیزی سے ہونے والی پیش قدمی کے باعث مزاحمت سے گریز کر رہے ہیں۔
سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغانستان کی فوجی قیادت میں بھی ایسا کوئی کمانڈر نہیں ہے جو فوج کا مورال بلند کر سکے اور وہ جوش و جذبے کے ساتھ لڑ سکیں۔
اُن کے بقول افغان حکومت کو ایک اور غلط فہمی یہ تھی کہ امریکہ کبھی افغانستان سے نہیں جائے گا اور اس کے فوجی تعاون سے افغان فوج بھی طالبان کا با آسانی مقابلہ کرتی رہی ہے۔ لیکن 2017 میں امریکہ کے افغانستان سے بتدریج فوجی انخلا کے بعد افغان فوج میں کمزوریاں سامنے آنے لگی ہیں۔
سمیع یوسف زئی کے بقول افغانستان کے مختلف نسلی گروہ خصوصاً شمالی افغانستان کے غیر پشتون افراد اشرف غنی حکومت سے خوش نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی افغانستان میں غیر پشتون فوجیوں نے سرینڈر کیا اور طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
کیا اب بھی افغان فوج کو منظم کیا جا سکتا ہے؟
افغان فورسز کو دوبارہ منظم کرنے کے سوال پر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ جب ایک مرتبہ فوج میں سرینڈر کی روایت پڑ جائے تو دوبارہ اُن کا مورال بلند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
اُن کے بقول اب بھی افغان فوج میں ایسے فوجی ہیں جو جوش و جذبے کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب سرینڈر کا سلسلہ شروع ہو جائے اور دوسری طرف طالبان کی طرح کا دُشمن ہو تو فوج کو دوبارہ منظم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
افغان فوج کے طالبان کے خلاف کامیابی کے دعوے
طالبان کے خلاف افغان فورسز کی کارکردگی اور سرینڈر کی خبروں کے باوجود افغان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف محاذوں پر طالبان کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق حالیہ دنوں میں افغان فورسز نے مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے جب کہ کئی علاقوں سے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان جھوٹا پروپیگنڈا کر کے افغانستان میں کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں حالاں کہ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔
تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغان فورسز نے حکمتِ عملی کے تحت طالبان کے لیے علاقے خالی کیے تاکہ اُن کی اصلیت افغان عوام اور دنیا کے سامنے آ سکے۔
اُن کے بقول جن علاقوں میں بھی طالبان نے قبضہ کیا وہاں اُنہوں نے دنیا سے کیے گئے وعدوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کی یقین دہانیوں کے باوجود اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے شہری املاک کو تباہ کیا اور لوگوں پر ظلم کیے۔
طالبان شہری املاک کو نقصان پہنچانے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان فورسز اور طالبان کے دعوے اپنی جگہ لیکن امریکی فوج کے انخلا کے بعد اپنے بل بوتے پر طالبان کا مقابلہ کرنا افغان فورسز کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
