Connect with us

اہم خبریں

کیا افغانستان کی فوج طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

Published

on

لاہور — “ہم نے لگ بھگ تین لاکھ افغان فوجیوں کو گزشتہ 20 برس کے دوران ہر طرح کی جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔ مجھے اس بات پر زور دینے دیں کہ ہر وہ جدید ہتھیار جو کسی بھی ماڈرن فوج کے پاس ہوتے ہیں لہذٰا افغان فوج با آسانی تقریباً 75 ہزار طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔”

یہ الفاظ ہیں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے جن کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ افغان فورسز اور پولیس کی جس معیار کے تحت تربیت کی گئی ہے طالبان صلاحیت کے لحاظ سے اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔

صدر بائیڈن کے افغان فوج پر اعتماد کے باوجود افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش قدمی اور افغان فورسز کی کئی علاقوں میں پسپائی کی اطلاعات کے بعد افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ پر 22 افغان کمانڈوز کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کی مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں طالبان کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے وہیں کئی علاقوں میں افغان فورسز کی پسپائی پر بھی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ‘سی این این’ نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں افغان صوبے فریاب کے شہر دولت آباد میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود طالبان جنگجوؤں نے مبینہ طور پر 22 افغان کمانڈوز کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

طالبان نے ‘سی این این’ کی اس ویڈیو کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کمانڈوز کی ہلاکت سے اظہارِ لاتعلقی کیا تھا۔

امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔

البتہ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بھرپور عزم کے ساتھ طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں اور مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے۔

افغان فوج کی تعداد اور وسائل
افغان نیشنل آرمی کی ازسر نو تشکیل کی بنیاد افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد دسمبر 2002 میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی کانفرنس میں رکھی گئی تھی۔

افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی قیادت میں بننے والی نئی عبوری حکومت اور امریکہ سمیت کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے افغان فورسز کی بنیاد رکھنے کی منظوری دی تھی۔

ابتداً 70 ہزار فوجیوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی تربیت کی ذمے داری امریکی فوج کو دی گئی تھی جب کہ بون کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے بھی افغان فورسز کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

افغان فورسز کے قیام کے وقت بہت سی ملیشیاز بھی اس میں ضم ہو گئی تھیں جن کے ہزاروں جنگجوؤں کو بھی افغان فوج میں بھرتی کیا گیا۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغان فورسز کی تعداد اور اُنہیں جدید اسلحے سے لیس کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

کابل میں مقیم سینئر تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان نیشنل فورسز کی کل تعداد اب بڑھ کر تین لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جن میں افغان فوج، ایئر فورس اور پولیس کے اہل کار بھی شامل ہیں۔

افغان فوج میں لگ بھگ 4500 کے قریب خواتین فوجی اہل کار بھی ہیں۔

سن 2002 میں افغان فورسز کے لیے بھرتیوں کا آغاز ہوا تو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے ریکروٹس کی تربیت کی ذمے داری لی۔ اس دوران کابل اور دیگر بڑے شہروں میں بیسز اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔

کابل میں امریکہ نے ڈرل انسٹرکٹر اسکول قائم کیا جب برطانیہ نے نان کمیشنڈ افغان فوجیوں کی ابتدائی اور ایڈوانس ٹریننگ کا بیڑہ اُٹھایا تھا۔

افغان فورسز کی ازسرِ نو تشکیلِ 2002 میں کی گئی۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس ملٹری اکیڈمی، نیو یارک کے تحقیقی ادارے ‘کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق افغان فوج کی مجموعی تعداد تین لاکھ 52 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

سینٹر کے مطابق فوجیوں کا چھٹیوں پر چلے جانا اور ‘گھوسٹ سولجرز’ یعنی ڈیوٹی پر آئے بغیر تنخواہیں لینے والے فوجیوں کے باعث آن ڈیوٹی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس اہل کاروں کی کل تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔

افغان فورسز کی ‘چین آف کمانڈ’
افغان فورسز کی ملک میں پانچ ریجنل کمانڈز یا کورز ہیں جو وزارتِ دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کے ماتحت آتی ہیں۔ ان میں کابل، گردیز، ہرات، قندھار اور مزار شریف کورز شامل ہیں۔

افغانستان کے آئین کے مطابق افغان فورسز کے چیف آف کمانڈ یا سپریم کمانڈر افغانستان کے صدر ہوتے ہیں جن کے پاس فوج میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار ہوتا ہے۔

افغانستان کی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل ولی محمد ہیں جنہیں حال ہی میں اشرف غنی نے جنرل یسین ضیا کی جگہ تعینات کیا تھا۔

آرمی چیف کے بعد وائس چیف اور پھر چیف آف پرسنل، چیف آف انٹیلی جنس، چیف آف آپریشنز، چیف آف لاجسٹکس اور انسپکٹر جنرل ہوتے ہیں جو میجر جنرل یا لیفٹننٹ جنرل رینک کے افسران ہوتے ہیں۔

دیگر ممالک کی ایئر فورس کے افسران کے رینکس کے برعکس افغانستان میں میجر جنرل محمد شعیب نوری افغان ایئر فورس کے سربراہ ہیں۔

افغان ایئر فورس
افغان ایئر فورس کے پاس 200 سے زائد لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ٹرانسپورٹ جہاز ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ساختہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، لٹل برڈ ایم-ڈی 530 ہیلی کاپٹرز، ٹرانسپورٹیشن کے لیے سی-130 طیارے ہیں جب کہ اس کے پاس روسی ساختہ ایم-آئی 17 ہیلی کاپٹرز بھی ہیں۔

امریکہ نے افغان ایئر فورس کو حالیہ برسوں کے دوران 20 سے زائد A-29 سپر ٹیکانو لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے ہیں۔

افغان پائلٹس کی تربیت اور طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا انحصار بھی امریکہ اور نیٹو مشن کے پاس تھا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 برس کے دوران امریکہ نے افغان ایئر فورس کو لڑاکا طیاروں سے لیس کرنے اور دیگر تیکنیکی مدد کے تحت آٹھ ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے ہیں۔

افغان ایئر فورس کے پاس اے-29 سپر ٹیکانو اور اے سی 208 کاروان نامی طیارے جب کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جن کی مرمت انتہائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔

یہ طیارے فضا سے زمین پر موجود اہداف پر لیزر گائیڈڈ میزائلز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسپیشل آپریشنز فورس، کمانڈوز
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے لیے عام افغان فوجیوں کا مقابلہ کرنا قدرے آسان ہے، تاہم جدید کمانڈو تربیت حاصل کرنے والے افغان کمانڈوز اُن کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔

افغان کمانڈوز مغویوں کی بازیابی، اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور دیگر خصوصی آپریشنز کرتے ہیں اور انہی وجوہات کی بنا پر انہیں افغان فورس کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق ان کمانڈوز کی تعداد 20 سے 25 ہزار ہے۔

حالیہ دنوں میں افغان صوبے قندھار میں افغان فورسز اور طالبان کے خلاف ہونے والی گھمسان کی لڑائی میں ان کمانڈوز نے ہی حصہ لیا تھا۔

طالبان نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے صوبہ قندھار میں پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے اسپن بولدک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم بعدازاں افغان فورسز نے طالبان سے یہ علاقہ واگزار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

افغان پولیس کا تنازع میں کیا کردار ہے؟
افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان پولیس کا کردار بھی ایک طرح سیکیورٹی فورسز جیسا ہی ہے۔

اُن کے بقول بظاہر اُن کا کام شہریوں کے جان و مال اور املاک کا تحفظ ہے، لیکن افغانستان میں گزشتہ 20 برس سے جس نوعیت کی لڑائی جاری ہے اس میں پولیس، سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑتی رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اہل کاروں کی کل تعداد لگ بھگ ایک لاکھ سات ہزار ہے جن میں بارڈرز پولیس بھی شامل ہے جو چاروں طرف خشکی سے گھرے افغانستان کے بارڈرز پر بھی تعینات ہے۔

نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغانستان میں شہروں میں ہونے والے دھماکوں اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس بھی پیش پیش رہی ہے۔

افغان حکومت کی ملیشیاز سے لڑائی میں شامل ہونے کی اپیل
طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے بعض علاقوں سے پسپائی کے باعث ماضی میں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہنے والی ملیشیاز اور مسلح گروہوں پر بھی سب کی نظریں ہیں جنہوں نے تاحال کسی بھی فریق کی جھولی میں اپنا وزن نہیں ڈالا۔

افغان حکومت نے گزشتہ ماہ ‘نیشنل موبلائزیشن’ کے نام سے رضا کاروں کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا تھا تاکہ وہ افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کر سکیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملک میں موجود ملیشیاز پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں اور ملک کا دفاع کریں۔

امریکی جریدے ‘دی ویک’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عوامی سطح پر طالبان کے خلاف کئی گروہ منظم ہوئے ہیں۔ تاہم سوویت جنگ اور نوے کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی میں لڑنے والی ملیشیاز کھل کر ابھی سامنے نہیں آئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشتون، ہزارہ، ازبک اور تاجک جنگجو دھڑے ملک میں موجود ہیں۔ سابق افغان وزیرِ اعظم گلبدین حکمت یار، شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کے سابق گورنر محمد عطا نور، صوبہ جوزجان میں مارشل عبدالرشید دوستم، صوبہ ہرات میں محمد اسماعیل خان اور صوبہ میدان وردک میں عبدالخانی علی پور اور عبدالرسول سیاف جیسے جنگجو کمانڈرز اب بھی ملک میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق ان بڑے گروپس میں سے بیشتر طالبان کے بڑے مخالف رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ لڑائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ البتہ ان میں سے بیشتر فی الحال صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افغان صوبے ہلمند میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ‘سنگوریان’ نامی ملیشیا کے جنگجو بھی طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

امریکہ اور اتحادی ممالک کا افغان فورسز کے ساتھ تعاون
امریکی حکومت کے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے چند روز قبل جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ نے افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے پر گزشتہ 20 برس کے دوران 88 ارب ڈالرز خرچ کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو کہ امریکی حکام افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے پرامید رہتے ہیں۔ لیکن افغان فورسز کی صلاحیتوں کو جانچنے کا نظام مبہم ہے۔

‘سگار’ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے قائم سرکاری ادارہ ہے جو ہر تین ماہ بعد اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے افغانستان سے امریکی مشن کے اختتام اور افغان فورسز کے لیے امریکی فوجی تعاون ختم ہونے کے بعد افغان فورسز کی کارکردگی کیا ہو گی اس کا جواب بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پر اُمید ہے کہ جدید سہولیات اور اسلحے سے مزین افغان فورسز طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے گزشتہ بدھ کو ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کے پاس طالبان سے زیادہ وسائل ہیں۔ اُن کے پاس گراؤنڈ اور ایئر فورس کے بھی زیادہ وسائل ہے اور اُنہیں امریکہ کی مالی اور لاجسٹک مدد بھی حاصل ہے۔

افغان فورسز کے ساتھ بھارت کا تعاون
امریکہ اور اتحادی ممالک کے علاوہ بھارت بھی افغان فورسز کی تربیت اور ایئر فورس کی معاونت کرتا رہا ہے۔

نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ بھارت نے لڑاکا ہیلی کاپٹرز اور دیگر فوجی سازو سامان کی فراہمی کے علاوہ سیکڑوں افغان فوجیوں کو تربیت بھی دی تھی۔

بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت نے افغانستان کو 285 فوجی گاڑیوں کے علاوہ افغانستان کی زبوں حال ایئر لائن ‘آریانہ’ کے آپریشنز کی بحالی کے لیے ایئر انڈیا کے تین طیارے بھی دیے تھے۔

بھارت کی جانب سے افغانستان کی فوجی معاونت پر امریکی حکام بھی بھارت کے معترف رہے ہیں۔

افغان فورسز کی خواتین کمیشنڈ ریکروٹس، بھارت کے شہر چنائی کی فوجی اکیڈمی میں تربیت حاصل کرتی رہی ہیں۔

چند روز قبل نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ جاری رہی تو افغانستان بھارت سے بھی فوجی مدد لے سکتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی کے باوجود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔

افغان فورسز کو درپیش چیلنجز
رواں برس کے آغاز پر انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن جان ساپکو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی اور غیر ملکی کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس زیادہ دیر تک اپنے طیاروں کی دیکھ بھال نہیں کر سکے گی۔

امریکی جریدے ‘پولیٹیکو’ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ ملک سے جانے والے کانٹریکٹرز ‘زوم’ یا دیگر ویڈیو ایپس کے ذریعے افغان ایئر فورس کے انجینئرز کی مدد کر رہی ہیں جس کا بظاہر زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے افغان ایئر فورس کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف نبرد آزما افغان فوجیوں کی مدد کرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔

جھڑپوں کے مقامات سے لاشوں یا زخمیوں کو نکالنے یا طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی امریکی فضائیہ کی عدم موجودگی میں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ایئر فورس اب بھی فعال ہے اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اُن کے بقول اب بھی کچھ کانٹریکٹرز افغانستان میں ہیں جو افغان ایئر فورس کی تیکنیکی مدد کر رہے ہیں۔

امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار خامیوں کی وجہ؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے قبضے کے بعد ملک میں بدانتظامی اور کرپشن میں بھی اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ ملک میں امریکی ڈالرز کی ریل پیل تھی۔

افغان اُمور کے ماہر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ بہت سے افغان وار لارڈز اور ملیشیاز نے اپنے لوگ افغان فورسز میں بھرتی کرائے اور بہت سے گھوسٹ فوجی بھی بھرتی ہوئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ حالیہ لڑائی میں 20 سے 25 ہزار افغان کمانڈوز ہی دلیری سے لڑ رہے ہیں جو باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں ورنہ دیگر فوجی یا تو ہتھیار ڈال رہے ہیں یا طالبان کی تیزی سے ہونے والی پیش قدمی کے باعث مزاحمت سے گریز کر رہے ہیں۔

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغانستان کی فوجی قیادت میں بھی ایسا کوئی کمانڈر نہیں ہے جو فوج کا مورال بلند کر سکے اور وہ جوش و جذبے کے ساتھ لڑ سکیں۔

اُن کے بقول افغان حکومت کو ایک اور غلط فہمی یہ تھی کہ امریکہ کبھی افغانستان سے نہیں جائے گا اور اس کے فوجی تعاون سے افغان فوج بھی طالبان کا با آسانی مقابلہ کرتی رہی ہے۔ لیکن 2017 میں امریکہ کے افغانستان سے بتدریج فوجی انخلا کے بعد افغان فوج میں کمزوریاں سامنے آنے لگی ہیں۔

سمیع یوسف زئی کے بقول افغانستان کے مختلف نسلی گروہ خصوصاً شمالی افغانستان کے غیر پشتون افراد اشرف غنی حکومت سے خوش نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی افغانستان میں غیر پشتون فوجیوں نے سرینڈر کیا اور طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

کیا اب بھی افغان فوج کو منظم کیا جا سکتا ہے؟
افغان فورسز کو دوبارہ منظم کرنے کے سوال پر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ جب ایک مرتبہ فوج میں سرینڈر کی روایت پڑ جائے تو دوبارہ اُن کا مورال بلند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اُن کے بقول اب بھی افغان فوج میں ایسے فوجی ہیں جو جوش و جذبے کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب سرینڈر کا سلسلہ شروع ہو جائے اور دوسری طرف طالبان کی طرح کا دُشمن ہو تو فوج کو دوبارہ منظم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

افغان فوج کے طالبان کے خلاف کامیابی کے دعوے
طالبان کے خلاف افغان فورسز کی کارکردگی اور سرینڈر کی خبروں کے باوجود افغان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف محاذوں پر طالبان کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق حالیہ دنوں میں افغان فورسز نے مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے جب کہ کئی علاقوں سے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان جھوٹا پروپیگنڈا کر کے افغانستان میں کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں حالاں کہ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔

تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغان فورسز نے حکمتِ عملی کے تحت طالبان کے لیے علاقے خالی کیے تاکہ اُن کی اصلیت افغان عوام اور دنیا کے سامنے آ سکے۔

اُن کے بقول جن علاقوں میں بھی طالبان نے قبضہ کیا وہاں اُنہوں نے دنیا سے کیے گئے وعدوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کی یقین دہانیوں کے باوجود اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے شہری املاک کو تباہ کیا اور لوگوں پر ظلم کیے۔

طالبان شہری املاک کو نقصان پہنچانے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان فورسز اور طالبان کے دعوے اپنی جگہ لیکن امریکی فوج کے انخلا کے بعد اپنے بل بوتے پر طالبان کا مقابلہ کرنا افغان فورسز کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

Continue Reading

اہم خبریں

اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

Published

on

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔

اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔

حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔

سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔

Continue Reading

جموں و کشمیر

بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

Published

on

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔

اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔

اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

Continue Reading

اہم خبریں

عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

Published

on

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔

قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔

خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔

گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”

کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”

احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”

انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔

(مصنف: پرویندر سندھو)

Continue Reading
Advertisement
دنیا38 minutes ago

نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد

ہندوستان45 minutes ago

نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا

دنیا2 hours ago

زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک

دنیا2 hours ago

ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم

دنیا2 hours ago

کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک

دنیا4 hours ago

یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے

دنیا4 hours ago

اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان

ہندوستان4 hours ago

کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل

کھیل5 hours ago

قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا

دنیا6 hours ago

نیپال میں سیلاب اور لرزشِ اراضی سے اموات کی تعداد 623 تک ہو گئی، 1,100 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں

دنیا6 hours ago

امریکہ اور وینزویلا ‘دنیا کا سب سے بڑا تیل معاہدہ’ پر پہنچ گئے ہیں: ٹرمپ

ہندوستان8 hours ago

کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی

ہندوستان8 hours ago

ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی

جموں و کشمیر22 hours ago

سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی

پاکستان24 hours ago

کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع

دنیا1 day ago

جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ

جموں و کشمیر1 day ago

ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا

جموں و کشمیر1 day ago

کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت

دنیا1 day ago

ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا

ہندوستان1 day ago

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ

جموں و کشمیر1 day ago

کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی

دنیا1 day ago

سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی

ہندوستان1 day ago

کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس

ہندوستان1 day ago

مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش

دنیا1 day ago

نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری

ہندوستان1 day ago

پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی

جموں و کشمیر1 day ago

اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج

ہندوستان1 day ago

وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی

دنیا2 days ago

روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا

ہندوستان2 days ago

گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار

دنیا2 days ago

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی

ہندوستان2 days ago

ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی

جموں و کشمیر2 days ago

جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی

جموں و کشمیر2 days ago

حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر

دنیا2 days ago

ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار

دنیا2 days ago

نیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ

دنیا2 days ago

روبیو قدرتی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی بورڈ کے لیے چار امیدوار مقرر کریں گے

ہندوستان2 days ago

پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا

جموں و کشمیر2 days ago

کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا

پاکستان2 days ago

پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے

دنیا2 days ago

قطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی

دنیا2 days ago

نیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل

دنیا3 days ago

چین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ، بھاری جانی نقصان

دنیا3 days ago

سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر3 days ago

کشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم

دنیا3 days ago

ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

دنیا3 days ago

نیپال میں اچانک سیلاب کے بعد لاپتہ 384 مسافروں میں 105 ہندوستانی شہری شامل

جموں و کشمیر3 days ago

جموں میں این سی بی نے ہیروئن اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، سرحد پار روابط کا شبہ، تین گرفتار

ہندوستان3 days ago

تہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے

ہندوستان3 days ago

عید میلاد النبی پر کاشی میں جوش و خروش، سکیورٹی کے سخت انتظامات

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان5 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین6 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

ہندوستان4 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر5 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین7 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ9 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین7 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل7 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین7 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

پاکستان4 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

دنیا6 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین7 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین7 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

ہندوستان7 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا7 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین7 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین7 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین10 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین8 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

تجزیہ9 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر7 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر7 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

کھیل5 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین7 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

کھیل6 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر6 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر5 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین6 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین7 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر10 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending