جموں و کشمیر
بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث صحافیوں کی وجہ سے وادی میں صحافت کا مستقبل تاریک، اصلاحی اقدام ناگزیر
سری نگر:وادی گلپوش کی پاکیزگی کے باعث ریشیوں، منیوں، سنتوں اور اولیائے کاملین نے اس سے اپنا مسکن بنا لیا اور یاد الٰہی میں محورہنے کے ساتھ ساتھ دین حق کی تبلیغ بھی کرتے رہے اور اس وجہ سے اس جنت بے نظیر کو ”ریشہ وار“ ہونے کا قابل فخر اعزاز حاصل ہوا۔
یہاں کے لو گ بھی ان بزرگان دین سنتوں اور ریشوں کی سیرت، پاکبازی اور حق گوئی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو احکام الٰہی کے مطابق جینے کا راستہ اختیار کیا۔ اور اپنی اخروی زیست سنوارنے میں لگے رہے اور خالق کائنات نے بھی اْنہیں کھبی مایوس نہیں کیا۔
جب بھی اْن کے ہاتھ دعائیں مانگنے کے لئے اللہ کے حضور میں اْٹھتے تھے اْن کی قبولیت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ پلک جپکتے ہی وہ قبول ہو جایا کرتی تھیں۔ یہ کوئی داستان نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ جب بھی وادی پر کسی ناگہانی آفت یا آفات سماوی کا قہر نازل ہوتا تھا تو درود ازکار کا ورد کرتے ہوئے لو گ، ائمہ مساجد اور علماء کی قیادت میں خانقاہوں اور زیارت گاہوں کا رخ کرتے تھے اور قہر برپا کرنے والی ان آفتوں سے چھٹکارا پانے کے لئے رو رو کے دعائیں مانگتے تھے اور اْن کی وہاں پر ہی دعائیں رنگ لے آیا کرتی تھیں اور اس طرح سے اْن کے مرجائے ہوئے چہرے خوشی سے کھل اْٹھتے تھے۔
یہ تو اْن کی سادگی، پاکبازی اور خوف خدا کی وجہ سے ممکن ہوپاتا تھا،مگر رفتہ رفتہ اس ریشہ واری میں جدیدیت کے نام پر خیر اخلاقی ہوائیں چلنے لگیں جس کا ثمرہ یہ نکلا کہ یہاں کا تہذیبی، تمندی اور ثقافتی ورثہ برگِ آوارہ کی طرح بکھرنے لگا اور یہاں مغربی ذہنیت کے لوگ ایسے کارنامے انجام دینے لگے جنہیں دیکھ کر شیطان نے بھی اپنے کان پکڑ کے یہاں سے فرار ہونے میں ہی اپنی آفیت سمجھی۔یہاں جدھر بھی نظر دوڑائی جائیں ڈاکوں، رہزنوں، لٹیروں، بے ایمانی اور ضمیر فروشوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں۔
اب صحافت کا ہی شعبہ باقی رہ گیا تھا جس کی شان و توقیر برقرار تھی مگر اس شعبے کو بھی نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ اس میں گھسنے والے کالے بھیڑیوں کی وجہ سے اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا۔بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور صنف نازک کی عزت سے کھلواڑ کی خبریں آئے روز سامنے آنے سے اس میں کوئی شبہ نہیں رہا ہے کہ اگر فوری طور پر اصلاحی اقدام نہیں اْٹھائے گئے تو بچی کھچی صحافت بھی قصہ پارینہ بن کے رہ جائے گی۔
بد نام زمانہ درندہ صفت ندیم ناڈو، سلمان شاہ، شوکت راگو اگر چہ ایک دوشیزہ کی شکایت پر دھر لئے گئے ہیں تاہم ایسے درجنوں ندیم ناڈو ابھی بھی گھوم رہے ہیں جن کا سلاخوں کے پیچھے ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ اگر متعلقہ محکمہ اپنے فرائض کو بہ احسن خوبی انجام دے رہا ہوتا تو صحافت کے نام پر بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور عصمت ریز ی کے واقعات نام نہاد صحافیوں کی جانب سے رونما نہ ہوتے اور ایسے بد کردار صحافی کب کے نشانہ عبرت بن گئے ہوتے۔ حد تو یہ ہے کہ نا خواندہ اشخاص بھی سماجی روابط کی وئب سائٹوں، ایجنسیوں اور بعض اخبارات کے مدیر بنے بیٹھے ہیں وہ معمولی رقوم کے عوض پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذریعے خبریں اور اخباری مواد اپ لوڈ کروا کے لوگوں خصوصاً سرکاری آفیسران کو دو دو ہاتھوں سے بلیک میلنگ کے ذریعے تنگ طلب کر رہے ہیں۔
وادی سے تعلق رکھنے والے حقیقی صحافیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ صحافتی صفوں میں شامل ہوئے لٹیروں کا پتہ لگا کے اْنہیں اس مقدس شعبے سے بے دخل کرنے کا بیڑا اْٹھا لیں کیونکہ صحافت کو بدنام کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے۔ ورنہ یہ شعبہ مستقبل قریب میں اس طرح غائب ہو جائے گا جیسیکہ گدھے کے سر سے سینگ؟۔
عوامی حلقوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہااور ڈائریکٹر انفارمیشن سے اپیل کی ہے کہ کشمیر میں صحافت کے پیشے کو بد نام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ صحافت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لئے تعلیم کی حد مقرر کی جائے تاکہ اس پیشے کو صحافی نما بد معشوں، رہزنوں اور بھتہ خوروں سے نجات حاصل ہو سکے۔
(یو این آئی،ارشید بٹ)
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
