جموں و کشمیر
معروف شیعہ عالم مولانا محمد عباس انصاری کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
سری نگر،25 اکتوبر (یو این آئی) معروف شیعہ عالم اوراتحاد المسلمین کے بانی و چیئرمین مولانا محمد عباس انصاری طویل علالت کے بعد منگل کی صبح یہاں اپنی رہائش گاہ واقع خانقاہ سوختہ نوا کدال میں انتقال کر گئے وہ86 برس کے تھے خداندانی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موصوف عالم دین کچھ عرصے سے علیل تھے اور گذشتہ دو دنوں سے ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح وہ اپنی رہائش گاہ پر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
مرحوم عالم دین کو بعد ظہرین اپنے آبائی قبرستان واقع بابا مزار زڈی بل میں سپرد خاک کیا گیا آپ کے جنازے میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں آپ کے چاہنے والوں نے حصہ لیا اور اشکبار آنکھوں سے اپنے دینی پیشوا کو وداع کیا۔بتادیں کہ مولانا عباس انصاری کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔
مرحوم مولانا عباس انصاری 17 اگست 1936 کو سری نگر کے نوا کدل علاقے کے محلہ خانقاہ سوختہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مولانا حسن علی انصاری تھا جو خود ایک برجستہ عالم و فاضل تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول نوا کدل سے حاصل کی اور اس دوران گھر میں ہی ابتدائی دینی تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ و پیراستہ ہوتے رہے۔
گورنمنٹ سکولرنگہ ٹینگ نوا کدل سے ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد اورینٹل کالج نصرۃ الاسلام سری نگر میں داخلہ لیا اور بعد ازاں گورنمنٹ اورینٹل کالج (باغ دلا ور خان) کے شعبہ علوم شرقی سے مولوی فاضل اور عالم فاضل کی ڈگریاں حاصل کیں۔
موصوف نے سال 1953 میں جامعہ ناظمیہ لکھنو میں داخلہ لیا اور وہاں دو برسوں تک اسلامی علوم حاصل کئے۔
سال 1955 میں اپنی علمی تشنگی بجھانے کی تلاش میں نجف اشرف عراق کے لئے رخت سفر باندھا اور وہاں حوزہ علمیہ نجف اشرف میں بزرگ علمائے دین اور مراجع کرام کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے۔
عراق میں چھ برسوں تک اسلامی علوم سے بہرہ ور ہونے کے بعد سال 1961 میں وطن واپس لوٹے اور یہاں اصلاحی و دینی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔انہوں نے سال1962 میں اپنی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے پیش نظر جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کی بنیاد ڈالی۔
مرحوم مولانا محمد عباس انصاری متحدہ مسلم محاذ کے کنوینر بھی رہے ہیں اور وہ محاز رائے شماری کے آخری حیات لیڈر تھے۔آپ کا شمار اعتدال پسند علاحدگی پسند لیڈروں میں ہوتا تھا اور آپ کل جماعتی حریت کانفرنس کے بانیوں میں سے ایک تھے جس کے آپ سال 2003 میں چیئرمین بھی رہے۔سال 2004 میں مولانا موصوف کی قیادت میں کل جماعتی حریت کانفرنس کا پانچ رکنی وفد اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی سے ملاقی بھی ہوا۔
مرحوم مولانا زائد از دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں جن میں تخیلق آدم، انسان کامل، نبوت ورسالت اور خود نوشتہ سوانح حیات ’خار گلستان‘ جو کچھ برس قبل ہی منظر عام پر آئی خاص طور پر قابل کر ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
