جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے عوام کو مزید ٹولیوں میں بانٹنے کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ضروری/ ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر:جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کے پسماندہ اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو سماج میں اونچا مقام دلانا اور ان کا معیارِ زندگی بہتر بنانا نیشنل کانفرنس کے تاریخی اور انقلابی اقدامات سے ہی ممکن ہوا ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کس طرح سے اس جماعت نے غریب اور پسماندہ طبقوں کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کی اور کس طرح سے ان طبقوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کیا اور ہر ایک شعبے میں شامل کیا۔ ان باتوں کا اظہار صدرنیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اپنی رہائش گاہ پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب کا انعقاد معروف نوجوان گلوکار اور سماجی کارکن وقار خان کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت کے سلسلے میں کیا گیاتھا۔ پارٹی میں شمولیت اختیا رکرنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس نے کہاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو اس وقت تقسیم کرنے کیلئے مختلف نوعیت کی سازشیں رچائی جارہی ہیں اور ایسے میں ہمیں ہوشیار اور متحرک رہنے کی ضرورت ہے اور دشمنوں کے تمام حربوں کو ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ریزرویشن کے نام ہم میں دراڑیں ڈالی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 1983میں اندرا گاندھی نے لداخ دورے کے دوران بودھوں کو ایس ٹی درجہ دیا اور راجوری پہنچتے ہی اس بات کا اعلان کیا کہ اگر جموں وکشمیر حکومت مرکز کو تحریری طور پر سفارش کریگی تو یہاں کے لوگوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ایس ٹی کا درجہ دیا جائے گا.مسٹر عبداللہ کے مطابق یہ اعلان سنتے ہی میں نے ریاستی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور رات کے 11بجے وزیر اعظم کو خط ارسال کیا اور مطالبہ کیا کہ خطہ پیر پنچال، چناب اور ریاست کے دیگر حصوں میں رہنے والے پہاڑی، گوجر، بکروال اور دیگر پسماندہ طبقوں کو ایس ٹی درجہ دیا جائے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
اْن کے مطابق ہم نے ہمت نہیں ہاری اور ہم مسلسل مرکزی کے ساتھ یہ معاملہ اْٹھاتے رہے اگرچہ 1991میں گوجر اور بکروال طبقہ کو ایس ٹی درجہ دیا گیا لیکن بدقسمتی سے پہاڑیوں نظرانداز کیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم مرکز کے ساتھ پہاڑیوں کو ریزویشن دینے کا معاملہ اْٹھاتے رہے، مرکز کی سردمہری اور غیرسنجیدگی کو بھانپتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی حکومت نے 2014میں 5فیصد ریزرویشن کا بل اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے پاس کروایا اور گورنر کے پاس منظوری کے لئے بھیج دیا۔
اسی اثناء میں انتخابات کا اعلان ہوا ور بدقسمتی سے اگلی حکومت نے اس فائل پر گورنر کے دستخط کروانے کی زہمت گوارا نہیں کی اور یہ معاملہ سردخانے میں چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے پہاڑیوں کو ریزویشن دینے کا اعلان تو کیاہے لیکن اس معاملے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور جان بوجھ کو اس معاملے طول دیا جارہا ہے۔
ایسا محسوس ہورہاہے کہ یہ اقدام جموں وکشمیر کے عوام کو مزید ٹولیوں میں بانٹنے کی سازش ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقعے پر موجود نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایسے حربوں اور سازشوں کو سمجھیں اور لوگوں کو بھی اس سے باخبر کرائیں۔
یو این آئی
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
