تازہ ترین
پاكستان وزیراعظم کا کفایت شعاری اقدامات کااعلان؛وفاقی کابینہ تن خواہوں،مراعات سے دستبردار
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستا کو درپیش معاشی زبوں حالی سے نمٹنے کے کفایت شعاری کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت ان کی کابینہ اپنی تن خواہوں اوردیگرمراعات سے دستبردار ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
میاں شہبازشریف نے بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے ارکان کے ساتھ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا، وزرائے مملکت اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طورپر اپنی تن خواہوں اور مراعات سے دستبردار ہورنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب تمام وزراء اپنے ٹیلی فون، بجلی، پانی اور گیس کے بل خود ادا کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کے زیراستعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں اور ان کی نیلامی کی جائے گی۔جہاں ضرورت ہو گی، وہاں وزراء کو سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی مہیا کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء اندرون ملک یا بیرون ملک سفرکے لیے اب اکانومی کلاس استعمال کریں گے۔معاون عملہ کواب سرکاری دوروں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کابینہ ارکان غیر ملکی دوروں میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزارتوں، محکموں اور ذیلی محکموں کے موجودہ اخراجات میں 15 فی صد کمی کی جائے گی۔متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسراس فیصلے کی روشنی میں اپنے بجٹ میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔جون 2024 تک لگژری اشیاء کی خریداری پرمکمل پابندی رہے گی۔اگلے سال جون تک ہرقسم کی نئی گاڑیاں خریدنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرکاری افسروں کو صرف ’’لازمی دورے‘‘کرنے کی اجازت ہوگی۔نیز وزارتوں کے سینیرافسروں کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کو واپس لے لیا جائے گا۔نیز اب سرکاری افسروں کو سکیورٹی کی گاڑیاں بھی نہیں دی جائیں گی۔ وزیرداخلہ کے زیرنگرانی ایک کمیٹی صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ٹو کیس کی بنیاد پرسکیورٹی گاڑیاں مہیّاکرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔
انھوں نے زور دے کرکہا کہ کابینہ کا کوئی بھی رکن یا سرکاری افسرلگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ سفری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی سطح پرکوئی نیا محکمہ نہیں بنایا جائے گا۔ اگلے دو سال تک کوئی نیا انتظامی یونٹ، ڈویژن یا سب ڈویژن تشکیل نہیں دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایک “سنگل ٹریژری اکاؤنٹ” قائم کیا جائے گا اوروزارت خزانہ نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے۔گیس اور بجلی کی بچت کے لیے موسم گرما میں صبح ساڑھے سات بجے دفاتر کھولنے کا مشورہ قبول کر لیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا،اس پر کل سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی دورکے کئی ایکڑ پر محیط سرکاری مکانات ہیں جہاں،اعلیٰ انتظامی عہدے دار اور پولیس افسراور وزراء رہائش پذیرہیں جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔وزیرقانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس زمین پر ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر کے منصوبے کا مسودہ تیار کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ کھانے کے حوالے سے سرکاری تقریبات میں صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔اسلام آباد کی تمام وزارتوں، وزیراعظم ہاؤس اوروفاقی کابینہ میں صرف ایک ڈش ہوگی۔ اگر یہ چائے کا وقت ہے، تو صرف چائے اور بسکٹ پیش کیے جائیں گے۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق غیر ملکی مہمانوں اور معززین پر نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اورنئے مالی سال کے بجٹ کے وقت “اضافی اقدامات” کیے جائیں گے۔
وفاقی کابینہ اور میں چیف جسٹس آف پاکستان،چاروں صوبوں کی عدالتوں اور وزرائے اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اداروں اور حکومتوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات پر عمل درآمد کریں۔
حکومت کے توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ آج سے ہم مرکز اور صوبوں کو یہ پیغام دیں گے کہ اگر اس پرعمل درآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو ہم بڑی مارکیٹوں اورخریداری مالوں میں بجلی کی ترسیل منقطع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکمہ توشہ خانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے سرکاری تحائف رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ توشہ خانہ ریکارڈ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ ایک عوامی ریکارڈ ہے۔ہرایک کو اس کے بارے میں جاننے اورپوچھنے کا حق ہے۔ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات سے سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات
پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ منظور کیا ہے جس کے تحت بڑی کارپوریشنوں پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو ‘کسی حد تک’ مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات “آخری مرحلے” میں ہیں اور امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور یہ معاملات چند دنوں میں حل ہوجائیں گے لیکن اس سے مزید مہنگائی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی قریباً تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔
انھوں نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد آنے والے وقت میں مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت اس دوران میں ملک کی رہنمائی کرے گی۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے مقابلے میں صرف ایک یا دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں اور پاکستان جلد ہی عالمی قرض دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔
انھوں نے ملک کی معاشی بدحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں مراعات یافتہ افراد کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ حکومتی مشینری کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں سیاسی چہرہ اور افسرشاہی کا چہرہ شامل ہے اور صوبائی حکومتوں کے تمام ارکان اس انتہائی مشکل وقت میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جس کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ درآمدی افراط زر، آئی ایم ایف کی شرائط اور سابقہ حکومت کے اقدامات سمیت مختلف وجوہ کی بناپرملک کو اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ قوم حکومت کی طرف تنقیدی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کیا کہ یہ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی مذاق ہے کہ موجودہ حکومت فیصلے کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کوشش کررہی ہے لیکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ‘ذاتی مثال سے قیادت’ اوراب اسے دکھانے کا وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں آج کھڑے ہو کر چیلنج کو قبول کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور حکومت ان چیلنجوں کے مقابلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیاکہ تنگ دستی اور سادگی کے اقدامات سے افراط زر کا بوجھ کم نہیں ہوگا لیکن ان سے کم سے کم اس ناراضی کو کم کیا جاسکے گا جوگذشتہ 75 سال سے جو کچھ ہو رہا ہے،اس کی وجہ سے لوگوں کے اندرپائی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے عوام کو احساس ہوگا کہ حکومت، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے دل کی گہرائیوں سے قربانی کا جذبہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور اس چیلنج کو قبول کریں اور خدا کے نام پر، پاکستان کے نام پر ایسا کریں۔آئیے اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنی خوش حالی کو شرمندہ نہ کریں۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
