تازہ ترین
غریبوں ، بی پی ایل اور مڈل کلاس لوگوں پر پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، ایک ہزار سکوئر فٹ مکان پر بھی چھوٹ دی گئی ہے: پرنسپل سیکریٹری اربن لوکل باڈیز
جموں وکشمیر سرکار نے واضح کیا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ عوام کے مفاد میں ہے کیونکہ جو پیسے جمع ہونگے اُن کو عوام کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جائے گا۔پرنسپل سیکریٹری ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیلوپمنٹ ڈپارٹمنٹ ’ایچ راجیش پرساد “نے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس کا مقصد دو میونسپل کارپوریشنوں (سری نگر، جموں )اور 78اربن لوکل باڈیز کی فائنانشل پوزیشن کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ غریبوں، بی پی ایل ، مڈل کلاس کے لوگوں پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔اُن کے مطابق ایک ہزار سکوئر فٹ مکان پر بھی پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا ۔ان باتوں کا اظہار پرنسپل سیکریٹری نے قومی نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر حکومت نے پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کی ہے جس کا مقصد دو میونسپل کارپوریشنوں (سر نگر ، جموں )اور 78لوکل باڈیز کی فائنانشل پوزیشن کو بہتر بنانا ہے۔اُن کے مطابق جموں وکشمیر میں ابھی تک یہ ٹیکس لاگو نہیں تھا ۔موصوف سیکریٹری نے بتایا کہ دو میونسپل کارپوریشنز، کونسلوں اور کمیٹیوں کی سالانہ آمدنی 115کروڑ ہے لیکن ملازمین کی تنخواہوں، آپریشنل اور دوسرے اخراجات پر 650 کروڑ روپیہ خرچ ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر میں میونسپل کارپوریشن یا کمیٹیاں کوئی ٹیکس نہیں لگاتی حالانکہ پورے ملک میں پراپرٹی ٹیکس اہم سورس ہوتا ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ رواں مالی سال 2022-23میں 850کروڑ روپیہ کا خرچہ آنے کا امکان ہے جس کو اکھٹا کرنا ناگزیر بن گیا تھا۔
سیکریٹری اربن ڈیلوپمنٹ نے بتایا کہ 120کروڑ روپیہ پراپرٹی ٹیکس کے طورپر جمع ہونگے اور ان پیسوں کو لوگوں کی فلاح و بہبود کی خاطر ہی خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ میونسپل سروسز جس میں ہیلتھ، سڑکیں، پانی ، بجلی اور دوسرے اہم شعبے آتے ہیں کو بہتر بنانے کی خاطر ان پیسوں کا استعمال کیا جائے گا۔اُن کے مطابق ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں پراپرٹی ٹیکس ایک اہم رونیو سورس ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لوگوں کو اس حوالے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ سرکار نے غریبوں کے لئے پوری چھوٹ دی ہوئی ہے۔
گائیڈ لائنز : سیکریٹری موصوف نے بتایا جہاں تک پراپرٹی ٹیکس کی بات ہے تو جموں وکشمیر سرکار نے سب طبقوں کا خیال رکھا ہے اوریہاں پر سب سے کم ٹیکس لاگو ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ غریبوں ، بی پی ایل ذمرے سے تعلق رکھنے والے ، مڈل کلاس لوگوں پر کوئی پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔اُن کے مطابق ایک ہزار سیکوئر فٹ مکان پر بھی پراپرٹی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا ۔چھوٹے دکان ایک سو سے دو سو سیکوئر فٹ پر بہت ہی کم ٹیکس نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار سیکوئر فٹ مکان پر پوری چھوٹ دی گئی اور اس ذمرے کے تحت آنے والے لوگوں کو پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
سکریٹری موصوف نے بتایا کہ 15سو سکوئر فٹ مکان پر میونسپل کمیٹی حدود میں پچاس سے تین سو روپیہ سالانہ وصولا جاے گا۔ میونسپل حدودمیں 75سے 6سو روپیہ اور میونسپل کارپوریشن کے تحت آنے والے علاقوں میں ایک سو سے 1150روپیہ سالانہ لاگو ہونگے ۔اسی طرح دو ہزار سیکوئر فٹ سے زیادہ مکانوں پر میونسپل کمیٹی حدود میں ایک سو سے چار سو روپیہ، میونسپل حدود میں ڈیڑھ سو سے بارہ سو روپیہ اور میونسپل کارپوریشن کے تحت آنے والے علاقوں میں ڈھائی سو سے ڈھائی ہزار روپیہ لگے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اسی طرح جتنا مکان بڑا ہوگا اسی طرح سے فارمولہ لگا کر پراپرٹی ٹیکس وصولا جائے گا۔
دکانوں کے بارے میں سیکریٹری نے بتایا کہ سو سیکوئر فٹ دکان پر میونسپل کمیٹی حدود میں سالانہ 20سے 150روپیہ ، کونسل علاقوں میں پچاس سے دو سو روپیہ اور کارپوریشن کے تحت آنے والے دکانوں پر سالانہ پچاس سے چھ سو روپیہ کا ٹیکس لگے گا۔
انہوں نے بتایا کہ دو سو سکوئر فٹ دکان پر میونسپل کمیٹی حدود میں 75روپیہ سے تین سو روپیہ ، میونسپل کونسل علاقوں میں ایک سو سے چھ سو روپیہ اور کارپوریشن کے تحت آنے والے علاقوں میں ڈیڑھ سو سے ایک ہزار آٹھ سو روپیہ وصولا جائے گا۔اُن کے مطابق خالی اراضی پر بھی پراپرٹی ٹیکس لاگو ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پراپرٹی ٹیکس کے طورپر جتنی بھی رقم جمع ہوگی اُس کو میونسپل کمیٹی ، میونسپل کونسل اور میونسپل کارپوریشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں ہی خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیسے سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہونگے۔انہوں نے مزید کہاکہ مذہبی مقامات کو پراپرٹی ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے۔
پراپرٹی ٹیکس کو کس طرح جمع کیا جائے گا :سیکریٹری اربن لوکل باڈیز نے بتایا کہ آن لائن موڑ کے ذریعے پراپرٹی ریٹرن جمع کرنے پر کام ہو رہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جو بھی شخص ایڈوانس میں پراپرٹی ٹیکس ادا کرئے گا اُس کو دس فیصد تک چھوٹ دی جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں خاص کر غریبوں اور بی پی ایل ذمرے کے تحت آنے والے لوگوں کو پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
