جموں و کشمیر
پونچھ تصادم : مہلوک غیر ملکی ملی ٹینٹ بڑی واردات کو انجام دینے کی فراق میں تھے: فوجی کمانڈر
جموں، فوج کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے سرنکوٹ پونچھ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے ملی ٹینٹوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مارے گئے ملی ٹینٹ غیر ملکی ہیں اوروہ بڑی واردات انجام دینے کی فراق میں تھے۔
فوجی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے تعاو ن سے ہی چار جنگجووں کو مار گرایا گیا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ محب وطن ہے اور وہ امن و امان کے خواہاں ہے۔ان باتوں کا اظہار پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران نے پونچھ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
فوجی کمانڈر نے بتایا کہ 16جولائی کو اطلاع موصول ہوئی کہ سرنکوٹ کے سندرا علاقے میں جدید ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹوں کو دیکھا گیا ۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے فوری طورپر ملی ٹینٹ مخالف آپریشن شروع کیا اور فرار ہونے کے راستو ں پر پہرے بٹھادئے۔ان کے مطابق 17جولائی کی سہ پہر کو جوں ہی سیکورٹی فورسز کے اہلکار مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر موجود جنگجووں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔
فوجی کمانڈ ر کے مطابق رات بھر سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔انہوں نے کہاکہ ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر پیرا کمانڈوز کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ 18جولائی کی صبح سیکورٹی فورسز نے تصادم کی جگہ تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران چار غیر ملکی جنگجووں کی لاشیں برآمد کی گئیں ۔ان کے مطابق مہلوک جنگجووں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ تصادم کی جگہ چار رائفلیں، آٹھ میگزین، دو پستول ، تین پستول میگزین اور 152گولیوں کے راونڈ برآمد کئے گئے۔
فوجی کمانڈر کے مطابق رائفلوں پر چینی کمپنی اور پستول پر پاکستانی نشانات پائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ جدید ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹ پونچھ اوراس کے ملحقہ علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کو انجام دے سکتے تھے لیکن اس سے قبل ہی سیکورٹی فورسز نے انہیں ہلاک کیا۔انہوں نے کہاکہ فوج اور پولیس نے مل کر اس آپریشن کو انجام تک پہنچایا ۔
پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فوجی کمانڈر نے کہاکہ ہمارا پڑوسی یہاں پر امن و امان کو درہم برہم کرنے کی خاطر ملی ٹینٹوں کو بھیج رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ سرحدوں پر تعینات افواج چو بیس گھنٹے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور کسی کو بھی اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کے مطابق ایل او سی پر تعینات افواج اس پار کشمیر پر نظر بنائے رکھے ہوئے ہیں ۔
مقامی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے فوجی کمانڈر نے کہاکہ اس آپریشن کے دوران مقامی لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کے تعاون سے ہی چار غیر ملکی جنگجووں کو مار گرانے میں کامیابی ملی ہے۔فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ مقامی لوگ سیکورٹی ایجنسیوں کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ محب وطن ہیں ۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان5 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
