جموں و کشمیر
کشتواڑ میں’پی آئی اے‘طیارے کی شکل کا پاکستانی غبارہ برآمد
جموں،جموں وکشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں جمعے کو پولیس نے ایک جہا ز نما غبارے کو برآمد کیا جس پر (پی آئی اے)لکھا ہوا تھا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دچھن کے پرنگس علاقے میں مقامی لوگوں نے ایک جہاز نماز غبارہ ، جس پر (پی آئی اے) لکھا تھا،دیکھ کر پولیس کو مطلع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم فوری طورپر جائے موقع پر پہنچی اور انہوں نے اس غبارے کو تحویل میں لے لیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ بادی النظر میں یہ غبارے سرحد پار سے ہوا میں اڑائے گئے ہوں گے جویہاں علاقہ میں آگرے ہیں تاہم پولیس ہر زاویہ سے معاملہ کی چھان بین کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی غبارے برآمد ہونے کے اکثر واقعات جموں کے سرحدی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں جبکہ ضلع کشتواڑ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
اشاعت: 24/10/26 13:11
India
نئی دہلی، 24 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
جموں و کشمیر
اگلے ہفتے کے آغاز میں کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کرکے ان سے اس کے لیے ایک تاریخ طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کچھ دن پہلے ہی سری نگر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی خیریت بھی دریافت کی، کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت کی، جن میں کابینہ میں ردوبدل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے ان سے کابینہ میں توسیع کے لیے وقت مانگا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کے ابتدائی 2 سے 3 دنوں میں کوئی وقت طے کردیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں سے کچھ تبدیلیاں کرنے کے لیے کہیں گے اور جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر وقت طے کردیں گے، کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیروں کی فہرست تیار ہے اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشورے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”فاروق صاحب یا میرے یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کون وزیر بنے گا، اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔” انہوں نے پارٹی کے ساتھیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر بننے کے خواہش مند لوگوں کی جانب سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات بھیجنے اور رابطہ کرنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”براہ کرم مجھے واٹس ایپ پیغامات نہ بھیجیں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور لمبے لمبے خطوط مل رہے ہیں۔ میں نہ تو ان کے سوانحی کوائف دیکھتا ہوں اور نہ ہی انہیں جانتا ہوں۔ فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ براہ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پیغامات بھیجیں، نہ فون کریں اور نہ ہی میرے دروازے پر دستک دیں۔ اگلے 2 سے 3 دنوں میں کابینہ میں ردوبدل ہوجائے گا۔”
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
