دنیا
ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار
تہران/واشنگٹن، ایران نے بدھ کو خبردار کیا کہ اس کے خلاف کسی بھی فوجی حملے کا جواب مساوی یا اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔ دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کو ”انتہائی مشکل” قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز، بحری سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
روبیو نے تہران کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے میں درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تک اقتصادی دباؤ جاری رکھے گا، جب تک ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس اہم بحری راستے سے محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جائے اور ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے۔
دوسری جانب، ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی کارروائی کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ اس دھمکی سے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد تیل کے دو ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
آئی آر جی سی کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘سپاہ نیوز’ کے مطابق، ان جہازوں نے اس اہم بحری گزرگاہ سے ایسے راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کی تھی جسے تہران نے ”غیر قانونی” قرار دیا ہے۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ بحری راستے پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، جن میں ان کے اثاثوں کی تباہی بھی شامل ہے۔ تاہم، اس واقعے سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس نے کہا کہ ایرانی فورسز اس بحری گزرگاہ کی نگرانی جاری رکھیں گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اپنے خلاف کسی بھی فوجی حملے کو جواب دیے بغیر نہیں جانے دے گا۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بقائی نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی سے گریز کرسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”حملہ کرو اور فرار ہوجاؤ” کا دور ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بھی مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک مقام ‘پکیکس ماؤنٹین’ کو نشانہ بنانے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس سے قبل اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کی کوششوں کے تحت اس مقام کو نشانہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن مزید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔تاہم، تہران کا اصرار ہے کہ اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کا مرکز تیزی سے آبنائے ہرمز بنتی جارہی ہے۔ یہ ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران نے حملوں کی دھمکیوں کے درمیان اس آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بڑی حد تک روک دی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور ایران کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتا، اس وقت تک یہ بحری راستہ دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور نقصانات کا معاوضہ شامل ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ تاہم، بحری سلامتی، فوجی کارروائیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
امریکہ کی جانب سے دباؤ برقرار رکھنے اور ایران کی مزید حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کی وارننگ کے باعث آبنائے ہرمز علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک اہم فلیش پوائنٹ بنی ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کے سبب مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات فی الحال غیر یقینی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
