ہندوستان
دہلی ہائی کورٹ نے کیجریوال کی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ نے مبینہ شراب پالیسی گھپلہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی اس عرضی پر بدھ کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں انہوں نے اپنی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا اور عبوری راحت مانگی تھی۔
جسٹس سورن کانتا شرما کی سنگل بنچ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور مسٹر کیجریوال کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کے دلائل کو تفصیل سے سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
مسٹر کیجریوال کو ای ڈی نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔
پیر (یکم اپریل) کو یہاں کی ایک خصوصی عدالت نے وزیر اعلیٰ کو 15 اپریل تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
اس سے پہلے یکم اپریل کو راؤز ایونیو میں واقع کاویری باویجا کی خصوصی عدالت نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد مسٹر کیجریوال کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم جاری کیا تھا۔
مسٹر کیجریوال پہلے لیڈر ہیں جنہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے گرفتار کیا گیا، تفتیشی ایجنسی کی تحویل میں بھیجا گیا اور جیل بھیجا گیا۔
مرکزی ایجنسی نے مسٹر کیجریوال کو 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا اور انہیں اگلے دن (22 مارچ) کو خصوصی عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں انہیں 28 مارچ تک پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی کی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے 28 مارچ کو ای ڈی کی دوسری درخواست پر مسٹر کیجریوال کی حراست میں یکم اپریل تک توسیع کر دی تھی۔
22 مارچ کو خصوصی عدالت کے سامنے ای ڈی نے وزیر اعلیٰ پر مبینہ شراب پالیسی 2021-2022 (جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا)گھپلے کے اہم ‘سازشی اور ماسٹر مائنڈ’ ہونے کا الزام لگایا تھا ۔ مسٹر کیجریوال کے وکلاء نے تب ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔
مسٹر کیجریوال کی گرفتاری سے قبل بھارت راشٹرا سمیتی کے لیڈر اور تلنگانہ کے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کے کویتا کو ای ڈی نے 15 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ وہ عدالتی حراست میں دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
ان دو اہم لیڈروں سے پہلے ای ڈی نے اے اے پی کے لیڈر اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو گزشتہ ایک سال کے دوران اسی معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ مسٹر سنگھ کو سپریم کورٹ نے 2 اپریل کو ضمانت دے دی تھی۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 17 اگست 2022 کو سال 2021-22 کے لیے ایکسائز پالیسی (شراب کی پالیسی) کی تشکیل اور نفاذ میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے ایک کیس درج کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے 22 اگست 2022 کو کیس درج کیا تھا۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اے اے پی کے سرکردہ قائدین مسٹر کیجریوال اور مسٹر سیسودیا سمیت دیگر نے غیر قانونی کمائی کے لئے ’’سازش‘‘ کی تھی۔
یو این اائی۔ م ع۔ 1827
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا16 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان20 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا20 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا15 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا23 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا15 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر14 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر14 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
