ہندوستان
کیجریوال کو جیل بھیجنے کے پیچھے گہری سازش: سنجے سنگھ
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (آپ) کے رہنما سنجے سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو ایک سازش کے تحت جیل بھیجا گیا تاکہ پارٹی کو تباہ کیا جا سکے آپ کے راجیہ سبھا کے رکن مسٹر سنگھ نے آج نامہ نگاروں سے کہا “اس ملک اور دہلی کے بیٹے اروند کیجریوال کو بدنیتی پر مبنی ایک سازش کے تحت گرفتار کیا گیا ہے یہ بہت بڑی سازش ہے۔ مسٹر کیجریوال دہلی کے دو کروڑ لوگوں کی ماؤں اور بہنوں کو تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور مفت بس سفر کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایسے وزیر اعلیٰ کو جیل میں ڈالنے کے پیچھے بہت گہری اور بڑی سازش رچی گئی ہے۔ مسٹر سنجے سنگھ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )نے شراب گھوٹالہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شراب گھوٹالہ میں چھوٹے لوگ ملوث نہیں ہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت کے لوگ ملوث ہیں۔
میڈیا کے سامنے وزیر اعظم نریندر مودی سے مصافحہ کرتے ہوئے شراب کے تاجر اور ایم پی مگنتا سرینواسولو ریڈی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مسٹر سنجے سنگھ نے کہا “16 جولائی کو جب مگنتا ریڈی مسٹر کیجریوال اور ‘آپ’ کے خلاف بیان دیتے ہیں اور پارٹی کو تباہ کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، 18 جولائی کو مگنتا ریڈی کے بیٹے راگھوا ریڈی کو ضمانت مل گئی۔ ای ڈی بار بار مگنٹا ریڈی کو شراب کا گھپلہ کرنے والا کہہ رہی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ مگنتا ریڈی کا ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے کیا رشتہ ہے؟ اس بار مگنتا ریڈی بی جے پی کی حلیف ٹی ڈی پی سے لوک سبھا الیکشن لڑ رہے ہیں اور وزیر اعظم کی تصویر لگا کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ بی جے پی مگنتا ریڈی کو گھوٹالے باز کہتی رہی ہے اور ای ڈی کہہ رہی ہے کہ وہ مگنتا ریڈی کے خلاف کارروائی کرے گی، لیکن جب اس نے اروند کیجریوال کے خلاف بیان دیدیا تو وہ مودی جی کی تصویر لگا کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔
ملک کے عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہے اروند کیجریوال کے خلاف بیان دینے والے مگنتا ریڈی اور ان کے بیٹے راگھو ریڈی کا اصل سچ۔ ای ڈی اروند کیجریوال کے بارے میں ان کے سچے بیانات کو ناقابل یقین کہہ کر چھپاتی ہے اور عدالت میں نہیں دکھاتی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا ‘دوسرا شخص شراب کا کاروبار کرنے والا شرتھ ریڈی ہے۔ بی جے پی بار بار انہیں دھوکہ باز قرار دیتی ہے۔ ای ڈی نے شرتھ ریڈی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران شرتھ ریڈی نے صاف انکار کیا کہ وہ اروند کیجریوال کو نہیں جانتے۔ ای ڈی نے 10 نومبر 2022 کو شرتھ ریڈی کو گرفتار کیا۔ اس کے بعد شرتھ ریڈی چھ ماہ تک جیل میں رہے۔ ریڈی پر کیجریوال کے خلاف بیان دینے کے لیے بار بار دباؤ ڈالا گیا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ شرتھ ریڈی نے ای ڈی کو 12 بیانات دیئے۔ جب سرتھ ریڈی کو دھمکی دی گئی کہ وہ کیجریوال کے خلاف بیان دیں، ورنہ وہ ساری زندگی جیل میں گزاریں گے، تو وہ ٹوٹ گئے ۔ شرتھ ریڈی نے 25 اپریل 2023 کو اروند کیجریوال کے خلاف بیان دیا تھا۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات کے بعد شروع ہونے والا اصلی شراب گھوٹالہ بی جے پی کا شراب گھوٹالہ ہے۔ اس میں 5 کروڑ روپے کا پہلا ایڈوانس 15 نومبر 2022 کو بی جے پی کو دیا گیا تھا۔ شرتھ ریڈی، جنہیں بی جے پی کنگ پن کہتی تھی، نے گرفتاری کے بعد بی جے پی کو 55 کروڑ روپے کی رشوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی وجہ سے بی جے پی کے شراب گھوٹالہ کی منی ٹریل بھی آج سامنے آگئی ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا14 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان18 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا18 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا13 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا21 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا13 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر12 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا10 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر12 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
