جموں و کشمیر
لوک سبھا انتخابات:عمر عبداللہ بارہمولہ جبکہ آغا سید روح اللہ سری نگر سے نیشنل کانفرنس کے امید وار نامزد
سری نگر، نیشنل کانفرنس نے جمعہ کے روز وادی کشمیر کی دو سیٹوں کے لئے اپنے امید واروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بارہمولہ لوک سبھا سیٹ سے جبکہ پارٹی کے سینئر لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی سری نگر لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔
یہ اعلان پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے سامنے کیا۔ اس موقع پر عمر عبداللہ، آغا سید روح اللہ کے علاوہ پارٹی کے بعض سینئر لیڈر بھی موجود تھے۔
بتادیں کہ نیشنل کانفرنس نے جنوبی کشمیر کی لوک سبھا سیٹ سے پارٹی کے سینئر لیڈر میاں الطاف احمد کو کھڑا کرنے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کہا کہ شمالی کشمیر کی لوک سبھا سیٹ سے میرا مقابلہ کسی امید وار کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان طاقتوں کے خلاف ہے جو ان امیدواروں کے پیچھے کھڑی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘کشمیر کی تینوں سیٹوں پر ہماری لڑائی بی جے پی کے خلاف ہے، مجھے بارہمولہ لوک سبھا سیٹ سے اس لئے کھڑا کیا گیا کیونکہ بی جے پی اس سیٹ پر زیادہ زور لگا رہی ہے’۔
کانگریس کے ساتھ سیٹ شیئرنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ کا کہنا تھا: ‘کانگریس کے ساتھ طے ہوا ہے کہ وہ جموں وکشمیر اور لداخ کی چھ سیٹوں میں سے تین پر ہماری حمایت کرے گی اور ہم تین سیٹوں پر ان کی حمایت کریں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں دورے کے دوران جموں اور اودھم پور سیٹوں کے لئے کانگریس کے حق میں پروگرام کئے اور اب میں اتوار کو وادی چناب میں کانگریس کے لئے الیکشن مہم چلانے جا رہا ہوں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اودھم میں ریلی سے خطاب کے بارے میں پوچھے جانے پر موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘ہم وزیر اعظم کے پروگراموں کا اس لئے انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی نئی بات کریں گے لیکن وہ گذشتہ دس برسوں سے خاندانی راج کی ہی بات کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی خاندانی راج کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس خاندان کے خلاف ہے جو بی جے پی کے خلاف بات کرتا ہے، جموں وکشمیر میں ستمبر سے پہلے اسمبلی انتخابات منعقد کرانا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہر جگہ نیشنل کانفرنس کا گڑھ ہے ہماری تینوں لوک سبھا سیٹوں سے کسی فرد کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دلی کی کوششوں کے خلاف ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘پہلے ان سیٹوں پر بی جے پی نے در پردہ امید وار کھڑا کئے تھے لیکن اب وہ کھل کر سامنے آئے ہیں کہ وہ بی جے پی کے ہی امید وار ہیں’۔
عمر عدباللہ نے دعویٰ کیا کہ جموں وکشمیر اور لداخ کی ساری سیٹوں پر نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے امید وار کامیابی حاصل کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘جس دور سے ہم گذر رہے ہیں وہ ایمرجنسی کے دور سے کم مشکل نہیں ہے اس وقت بھی ایمرجنسی جیسے حالات ہیں صرف ان کو ایمرجنسی کا نام نہیں دیا گیا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی کو جس اپویشن لیڈر سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اس کو گرفتار کرایا جاتا ہے’۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن مشکل ہوتا ہے۔
آغا روح اللہ نے پارٹی کی طرف سے سری نگر سے کھڑا کرنے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘یہ میرے لئے ایک موقع ہے تاکہ میں ایک وسیع پلیٹ فارم اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرسوں’۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
