ہندوستان
ایس پی۔کانگریس نے مسلمانوں کے بہبود کے لئے کچھ نہیں کیا:مودی
علی گڑھ:وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا اتحاد بالخصوص کانگریس پارٹی پر منھ بھرائی کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان پارٹیوں نے مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی بہبود کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا۔
علی گڑھ اور ہاتھرس لوک سبھا سیٹوں سے بی جے پی امیدواروں کے لئے انتخابی مہم کے لئے پہنچے مودی نے پیر کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ایس پی نے ہمیشہ منھ بھرائی کی سیاست کی اور مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی بہبود کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا۔ جب وہ پسماندہ مسلمانوں کی مصیبت کا ذکر کرتے ہیں تو اپوزیشن کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان اوپر کے لوگوں نے ملائی کھائی اور پسماندہ مسلمانوں کو ان کے حال پر جینے کے لئے مجبور کردیا۔
انہوں نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی(ایس پی) پر کنبہ پروری، بدعنوانی اور منھ بھرائی کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس ملک کی دولت لوٹنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے۔علی گڑھ کی عوام نے کانگریس اور ایس پی کے پریوار واد، بدعنوانی اور منھ بھرائی کی فیکٹری میں ایسا مضبوط تالا لگا دیا ہے کہ دونوں شہزادوں کو اس کی چابی نہیں مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے روشن مستقبل اور ترقی یافتہ ہندوستان کی کنجی بھی آپ کے پاس ہی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اب ملک کو غریبی، بدعنوانی اور کنبہ پروری سیاست سے پوری طرح سے آزاد کرانے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے علی گڑھ سے ستیش گوتم اور ہاتھر سے انوپ والمیکی کو بھارتی ووٹوں سے کامیاب بنانے کا اپیل کی۔
مودی نے کہا آپ بھلے ہی اپنا ووٹ بی جے پی امیدواروں کو دیں گے وہ ووٹ سیدھے مجھے ملے گا۔ میں آپ سے مودی کے لئے ووٹ مانگنے آیا ہوں۔ وزیر اعظم نے پہلے ووٹ پھر کچھ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام کاموں سے بڑا ملک ہے اور آپ کا ایک ایک ووٹ کافی اہمیت کا حامل ہے۔
مودی نے کہا کہ پہلے آئے دن سرحد پر بم گولے چلتے اور ہمارے جانباز شہید ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ آج ان کے سارے توپ، بندوق اور بارود فروخت ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے ملک میں سیریل بم بلاسٹ ہوتے تھے۔
حکومتوں کی جانب سے اشتہار دے کر لاوارث اشیاء کو نہ چھونے کی اپیل کی جاتی تھی۔ یہ مودی۔ یوگی کا کما ہے کہ آج سب بند ہوگیا۔
اترپردیش کے نظم و نسق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے علی گڑھ مین آئے دن کرفیو لگتا تھا۔ آس پاس کے لوگوں کو علی گڑھ آنا ہوتا تھا تو فون کر کے پوچھتے تھے ۔ فساد والے علاقوں میں شادی نہیں کرتے تھے۔ فساد، قتل، گینگ وار، پھروتی ایس پی حکومت کا ٹریڈ مارک تھا۔ ان کی پہچان تھی کہ ان کی سیاست اسی سب سے چلتی تھی۔ ہماراایک وقت تھا جب ہماری بہن بیٹیاں گھر سے باہ رنہیں نکل پاتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی علاقے میں تین طلاق سے متاثرکتنی ہی بیٹیوں اور ان کے کنبے کی زندگی خراب کردیا۔ ہم نے تین طلاق پر قانونی بنا کر ان کی زندگی کو محفوظ کیا ہے۔ انہوں نے حج کوٹہ بڑھانے ، خواتین کے تنہا حج پر جانے اور ویزہ ضوابط میں چھوٹ دلانے جیسے کاموں کا بھی ذکر کیا۔
وزیر اعلی نے مختلف مفاد عامہ کی اسکیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور ایس پی نے آپ کی پریشانیوں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ غریب کو پیسے دے کر بھی پورا راشن نہیں ملتا تھا۔بچولئے لوٹ لیتے تھے۔ لیکن آج علی گڑھ اور ہاتھرس کے لاکھوں ساتھیوں کو مفت راشن مل رہا ہے۔ علی گڑھ اور ہاتھرس کے لاکھوں کنبوں کو آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولیت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے گارنٹی دی ہے کہ 70سال سے اوپر کے بزرگوں کے لئے 5لاکھ تک کے علاج کا مفت انتظام کیا جائے گا۔
علی گڑھ میں ڈیفنس کاریڈور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہر فوج کی خریداری میں گھپلے کرنے والی کانگریس یہاں دفاعی راہداری نہیں بنا سکتی۔ اب ہمارا یوپی خود کفیل ہندوستان اور خود انحصار فوج کا بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔
ابھی چند دن پہلے ہم نے براہموس کی پہلی کھیپ فلپائن کو برآمد کی تھی۔ آنے والے دنوں میں یہ براہموس میزائل ہمارے یوپی میں بنے گی۔ ڈیفنس کوریڈور کے ساتھ ساتھ علی گڑھ میں ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی طاقت بھی ہے۔ صنعتوں کو بھی اس سے بہت فائدہ ہوگا۔
رام مندر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 500 سال بعد شاندار رام مندر ہم دیکھ رہے ہیں۔ جب شاندار مندر کی بات آتی ہے تو انڈیا اتھاد والوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ 70 سا ل سے ہم رام مندر کو روک کے بیٹھے تھ۔ مودی کیا آیا۔ عدالت کا فیصلہ بھی آگیا۔ مندر بھی بن گیا اور تفویض روح بھی ہوگئی۔ یہ لوگ اتنے غصے میں ہیں کہ دعوت نامہ کو ٹھکرا دیا۔ رام مندر ترقی یافتہ ہندوستان کو آشیرواد دے رہا ہے۔
ریلی میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، اترپردیش حکومت کے وزیر اسیم ارون، سندیپ سنگھ، ہاتھرس سے امیدوا رانوپ والمیکی، علی گرھ سے ایم پی ستیش گوتم وغیرہ موجود رہے۔
یواین آئی۔ولی
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
