جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت تناﺅ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر،نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعے کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت تناﺅ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں میں دشمنیاں پیدا کرنے کے حربے اپنائے جارہے اور آج وہی لوگ الگ الگ لبادے اوڑھ کر عوام سے ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں جنہوں نے 2014میں بھاجپا کیخلاف ووٹ مانگے اور پھر اُن کے ساتھ ہی ہاتھ ملایا اور جموں وکشمیر کو موجودہ بحران اور اندھیروں میں دھکیل دیا۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر اور بڈگام میں چناوی ریلیوں سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے موجودہ حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے یہاں ترقی کی، دفعہ370ہٹنے کے بعد لوگوں ترقی دیکھی اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے زخموں پر نمک پاشی مت کیجئے، گذشتہ دنوں ہی ہم ان علاقے میں ننھے سکولی بچوں کو صرف اس لئے کھویا کیونکہ آپ سے پُل کی تعمیر مکمل نہیں ہوپائی، یہ پُل ہمارے دور میں منظور ہوا تھا لیکن ہماری حکومت گئے اب10سال ہوگئے لیکن اب تک یہ پروجیکٹ مکمل نہیں ہوپایا۔
انہوں نے کہاکہ آپ (حکومت)کارخانوں، سرمایہ کاری، ٹنلوں، ہوائی اڈوں اور ریل پروجیکٹوں کو چھوڑیئے، آپ صرف اس پُل کی بات کریں اور عوام کو وجہ بتائی جائے کہ اتنے عرصے میں پُل تعمیر کیوں نہیں ہوا؟ ان ننھے بچوں کو سکول جانے کیلئے کشتی میں کیوں سوار ہونا پڑتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری 2014میں ہماری حکومت کے بعد جو آئے انہوں نے پُل کی تعمیر کے کام میں دلچسپی نہیں دکھائی اور آج الگ الگ لباس پہن کر آپ کے پاس ووٹ مانگے آرہے ہیں۔ میں بھی 2014میں یہاں سے اُمیدوار تھا لیکن یہاں کے لوگوں نے اُن کو چُنا لیکن اس کے بعد یہاں کو کوئی فائدہ نہیںملا اور آج وہ پھر آپ کے سامنے آرہے ہیں ۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اب معلوم نہیں کہ یہ لوگ کون سا دھوکہ دینے جارہے ہیں اور کون سی سازشیں رچانے جارہے ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے ہی ہماری عزت، وقار اور پہچان کو پار ہ پارہ کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج ہمارے نوجوان نوکریوں اور روزگا کیلئے در بہ در ٹھوکریں کھا رہے ہیں، سرکاری بھرتیوں کا لسٹ نکلتا ہے لیکن پھردوسرے ہی دن دھاندلیوں کے الزام کی بناد پر منسوخ کردیا جاتاہے اور بھرتی عمل وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ بجلی پروجیکٹ ہم بناتے ہیں لیکن بجلی باہر کی ریاستوں کو فراہم کی جارہی ہے۔
موجودہ حکمرانوں یہاں نئے سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال، پرائمری ہیلتھ سینٹر اور روزگار دینے میں ناکام رہے لیکن ایک کام ان لوگوںنے بہت اچھی طرح سے کیا اور وہ ہر گلی اور ہر سڑک پر شراب کی دکانیں کھولنا ہے۔ اور پھر حکمران کہتے ہیں ہم نے جموں وکشمیر کی کمائی بڑھائی لیکن یہ نہیں کہتے کہ شراب سے کمائی بڑھائی۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا ان لوگو ں نے شراب اور نشیلی ادویات کے سوا ہمارے بچوں کو گذشتہ8برس سے کچھ نہیں دیا اور آج منشیات کے استعمال کس حد تک بڑھ گیا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
یو این آئی-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
