ہندوستان
ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے:نریندر مودی
نئی دہلی، جمہوریت کی ماں میں جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار کا ایک سنگ میل آج یکم جون کو مکمل ہواکنیا کماری میں تین دن کے روحانی سفر کے بعد میں ابھی دہلی کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوا ہوں… کاشی اور دیگر کئی سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے بہت سارے تجربات ہیں، بہت سارے احساسات ہیں … میں اپنے اندر لامحدود توانائی کا بہاؤ محسوس کررہا ہوں۔درحقیقت 2024 کے اس الیکشن میں کئی خوش گوار اتفاقات سامنے آئے ۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ امرت کال کے اس پہلے لوک سبھا انتخاب میں، میں نے میرٹھ سے مہم کا آغاز کیا، جو 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی جائے تحریک ہے۔ ماں بھارتی کی پریکرما کے دوران اس الیکشن کا میرا آخری عوامی جلسہ پنجاب کے ہوشیار پور میں ہوا۔ سنت روی داس جی کی مقدس سرزمین، ہمارے گروؤں کی زمین پنجاب میں آخری جلسہ منعقد کرنے کا اعزاز بھی بہت خاص ہے۔ اس کے بعد مجھے کنیا کماری میں بھارت ماتا کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان ابتدائی لمحات میں میرے ذہن میں انتخابات کا شور گونج رہا تھا۔ جلسوں اور روڈ شوز میں نظر آنے والے ان گنت چہرے میری آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی بے پناہ محبت کی وہ لہر، ان کا آشیرواد … ان کی آنکھوں میں میرے لیے وہ بھروسہ، وہ پیار … میں سب کچھ اپنے اندر سمو رہا تھا۔ میری آنکھیں نم ہو رہی تھیں… میں خالی پن میں جا رہا تھا، دھیان میں داخل ہو رہا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ چند لمحوں میں سیاسی بحثیں، حملے اور جوابی حملے… الزامات کی آوازیں اور الفاظ، یہ سب خود بخود معدوم ہوتے چلے گئے۔ میرے ذہن میں لاتعلقی کا احساس مزید شدید ہو گیا… میرا دماغ بیرونی دنیا سے بالکل الگ ہوگیا۔اتنی بڑی ذمہ داریوں کے درمیان ایسی سادھنا مشکل ہے، لیکن کنیا کماری کی سرزمین اور سوامی وویکانند کی ترغیب نے اسے آسان بنا دیا۔ میں یہاں ایم پی کے طور پر اپنا انتخاب اپنے کاشی کے ووٹروں کے قدموں میں چھوڑ کر آیا تھا۔
میں خدا کا بھی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے پیدائش سے ہی یہ سنسکار دیے۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ سوامی وویکانند جی نے اس مقام پر سادھنا کرتے ہوئے کیا تجربہ کیا ہوگا! میری سادھنا کا کچھ حصہ اسی طرح کے خیالات کے بہاؤ میں بہہ گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس لاتعلقی کے درمیان، امن اور خاموشی کے درمیان، میرے ذہن میں ہندوستان کے روشن مستقبل کے لیے، ہندوستان کے مقاصد کے لیے خیالات مسلسل اُمنڈ رہے تھے۔ کنیا کماری کے اُگتے ہوئے سورج نے میرے خیالات کو نئی بلندیاں دیں، سمندر کی وسعت نے میرے خیالات کو وسعت دی اور اُفق کے پھیلاؤ نے کائنات کی گہرائیوں میں سمائی ہوئی وحدت نے مجھے ایک ہونے کا مسلسل احساس دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہمالیہ کی گود میں کئی دہائیوں پہلے کیے گئے غور و فکر اور تجربات دوبارہ زندہ ہو رہے ہوں۔
کنیا کماری کی یہ جگہ ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہی ہے۔ کنیا کماری میں وویکانند راک میموریل کی تعمیر جناب ایکناتھ رانڈے جی نے کرائی تھی۔ مجھے ایکناتھ جی کے ساتھ کافی سفر کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس یادگار کی تعمیر کے دوران کچھ وقت کنیا کماری میں رہنا اور وہاں آنا جانا فطری طور پر ہوتا تھا۔
کشمیر سے کنیا کماری… یہ ہماری مشترکہ شناختیں ہیں جو ملک کے ہر فرد کے دل میں سمائی ہوئی ہیں۔ یہ وہ شکتی پیٹھ ہے جہاں ماں شکتی نے کنیا کماری کی شکل میں اَوتار لیا تھا۔ اس جنوبی سرے پر ماں شکتی نے ان بھگوان شیو کے لیے تپسیا کی اور انتظار کیا جو ہندوستان کے سب سے شمالی سرے کے ہمالیہ پر براجمان رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ کنیا کماری سنگموں کے سنگم کی سرزمین ہے۔ ہمارے ملک کی مقدس ندیاں الگ الگ سمندروں میں جاکر ملتی ہیں اور یہاں ان سمندروں کا سنگم ہوتا ہے۔ اور یہاں ایک اور عظیم سنگم نظر آتا ہے –
وویکانند راک میموریل کے ساتھ ہی، یہاں پر سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، گاندھی منڈپم اور کامراجر منی منڈپم ہیں۔ عظیم ہیروز کے خیالات کے یہ دھارے یہاں قومی سوچ کا سنگم بناتے ہیں۔ اس سے قوم کی تعمیر کے لیے عظیم تحریکات کا جنم ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جو ہندوستان کے ایک قوم ہونے اور ملک کے اتحاد پر شک کرتے ہیں، کنیا کماری کی یہ سرزمین اتحاد کا انمٹ پیغام دیتی ہے۔
کنیا کماری میں سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، سمندر سے ماں بھارتی کے پھیلاؤ کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی بناوٹ ’تھروکورل‘ تمل ادب کے جواہرات سے جڑے تاج کی مانند ہے۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو کو بیان کیا گیا ہے، جو ہمیں اپنے اور قوم کے لیے اپنا بہترین دینے کی تحریک دیتا ہے۔ ایسی عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔
سوامی وویکانند جی نے کہا تھا – ہر قوم کے پاس پہنچانے کے لیے ایک پیغام ہے، پورا کرنے کے لیے ایک مشن ہے، پہنچنے کے لیے ایک منزل ہے۔
ہندوستان اس جذبے کے ساتھ ہزاروں سالوں سے ایک بامعنی مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان ہزاروں سالوں سے نظریات کی تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ ہم نے جو کچھ کمایا ہے اسے کبھی بھی اپنا ذاتی سرمایہ نہیں سمجھا گیا اور اسے کبھی معاشی یا مادی معیارات پر نہیں تولا۔ یہی وجہ ہے کہ ’اِدہ نہ مم‘ ہندوستان کے کردار کا ایک فطری حصہ بن گیا ہے۔
ہندوستان کی فلاح سے دنیا کی فلاح، ہندوستان کی ترقی سے دنیا کی ترقی، اس کی ایک بڑی مثال ہماری تحریک آزادی بھی ہے۔ ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک غلامی میں تھے۔ ان ممالک کو بھی ہندوستان کی آزادی سے تحریک اور طاقت ملی، انہوں نے آزادی حاصل کی۔ ابھی کورونا کے مشکل دور کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جب غریب اور ترقی پذیر ممالک کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، لیکن ہندوستان کی کامیاب کوششوں سے بہت سے ممالک کو حوصلہ اور تعاون بھی ملا۔
آج ہندوستان کا گورننس ماڈل دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ صرف 10 سالوں میں 25 کروڑ لوگوں کو غریبی سے نکالنا بے مثال ہے۔ پرو- پیپل گڈ گورننس، اسپیریشنل ڈسٹرکٹ، اسپیریشنل بلاک جیسے نئے تجربات آج دنیا میں زیر بحث ہیں۔ غریبوں کو بااختیار بنانے سے لے کر آخری میل ڈیلیوری تک، معاشرے کے آخری صف میں کھڑے فرد کو ترجیح دینے کی ہماری کوششوں نے دنیا کو تحریک دی ہے۔ ہندوستان کی ڈیجیٹل انڈیا مہم آج پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح ہم غریبوں کو بااختیار بنانے، شفافیت لانے اور انہیں ان کے حقوق دلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارت میں سستا ڈیٹا آج اطلاعات و خدمات تک غریبوں کی رسائی کو یقینی بناکر سماجی برابری کا وسیلہ بن رہا ہے۔ پوری دنیا ٹیکنالوجی کی اس جمہوریت کاری کو تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور بڑی عالمی تنظیمیں بہت سے ممالک کو ہمارے ماڈل سے سیکھنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔
آج ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کا عروج صرف ہندوستان کے لیے ہی بڑا موقع نہیں ہے۔ بلکہ یہ دنیا کے تمام ہم سفر ممالک کے لیے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ جی- 20 کی کامیابی کے بعد دنیا بھارت کے اس کردار کو زیادہ کھل کر قبول کر رہی ہے۔ آج ہندوستان کو گلوبل ساؤتھ کی ایک مضبوط اور اہم آواز کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی پہل ہی افریقی یونین جی- 20 گروپ کا حصہ بنا۔ یہ سبھی افریقی ممالک کے مستقبل کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نئے ہندوستان کی یہ شکل ہمیں فخر اور شان سے بھر دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ 140 کروڑ ہم وطنوں کو ان کے فرائض کا بھی احساس کراتی ہے۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ہمیں بڑی ذمہ داریوں اور بڑے اہداف کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ ہمیں نئے خواب دیکھنے ہیں۔ اپنے خوابوں کو اپنی زندگی بنانا ہے، اور ان خوابوں کو جینا شروع کرنا ہے۔
ہمیں ہندوستان کی ترقی کو عالمی تناظر میں دیکھنا ہوگا، اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ہندوستان کے باطن میں پوشیدہ صلاحیت کو سمجھیں۔ ہمیں ہندوستان کی طاقتوں کو قبول بھی کرنا ہوگا، انہیں مضبوط بھی کرنا ہوگا اور دنیا کے مفاد میں ان کا بھرپور استعمال بھی کرنا ہوگا۔ آج کے عالمی حالات میں، ایک نوجوان قوم کے طور پر ہندوستان کی صلاحیت ہمارے لیے ایک ایسا خوشگوار اتفاق اور موقع ہے جہاں سے ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج 21ویں صدی کی دنیا بڑی امیدوں کے ساتھ ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اور عالمی منظر نامے میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں بہت سی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ ہمیں اصلاحات کے حوالے سے اپنی روایتی سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔ ہندوستان اصلاحات کو صرف اقتصادی تبدیلیوں تک محدود نہیں رکھ سکتا ہے۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہماری اصلاحات بھی 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزائم کے مطابق ہونی چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اصلاحات کبھی بھی کسی ملک کے لیے یک رُخی عمل نہیں ہوسکتیں۔ اسی لیے، میں نے ملک کے لیے ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کا وژن سامنے رکھا۔ اصلاحات کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد پر ہماری بیوروکریسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور پھر جب عوام اس سے جڑ جاتے ہیں تو ہم تبدیلی ہوتی ہوئی دیکھتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے ہمیں عمدگی کو اپنی بنیادی قدر بنانا ہوگا۔ ہمیں اسپیڈ، اسکیل، اسکوپ اور اسٹینڈرڈز، چاروں سمتوں میں تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ کوالٹی پر بھی زور دینا ہوگا، ہمیں زیرو ڈیفیکٹ- زیرو ایفیکٹ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔
ہمیں ہر لمحہ اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ خدا نے ہمیں ہندوستان کی سرزمین میں جنم دیا ہے۔ خدا نے ہمیں ہندوستان کی خدمت کرنے اور اس کے بلندی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں قدیم اقدار کو جدید شکل میں اپناتے ہوئے اپنے ورثے کو جدید انداز میں نئی شکل دینا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم بھی اپنی فرسودہ سوچ اور عقائد پر نظر ثانی بھی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے معاشرے کو پیشہ وارانہ مایوسیوں کے دباؤ سے آزاد کرنا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ منفی ذہنیت سے آزادی، کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے پہلی جڑی بوٹی ہے۔ کامیابی مثبت ذہنیت کی گود میں ہی پنپتی ہے۔ہندوستان کی لامحدود اور لافانی طاقت پر میرا ایمان، عقیدت اور یقین بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان کی اس صلاحیت کو زیادہ بڑھتے دیکھا ہے اور زیادہ محسوس کیا ہے۔جس طرح ہم نے 20ویں صدی کی چوتھی- پانچویں دہائی کو اپنی آزادی کے لیے استعمال کیا، اسی طرح ہمیں 21ویں صدی کے ان 25 سالوں میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھنی ہے۔ جنگ آزادی کے دوران وطن عزیز کے لیے قربانیاں دینے کا وقت تھا۔ آج قربانی کا وقت نہیں بلکہ مسلسل تعاون کا وقت ہے۔
سوامی وویکانند نے 1897 میں کہا تھا کہ ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے۔ ان کی اس اپیل کے ٹھیک 50 سال بعد، ہندوستان 1947 میں آزاد ہوگیا۔
آج ہمارے پاس ایسا سنہری موقع ہے۔ آیئے آئندہ 25 سال صرف قوم کے لیے وقف کریں۔ ہماری یہ کوششیں آنے والی نسلوں اور آنے والی صدیوں کے لیے نئے ہندوستان کی مضبوط بنیاد کے طور پر لازوال رہیں گی۔ میں ملک کی توانائی کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ ہدف اب دور نہیں ہے۔ آئیے، تیز قدموں سے چلیں … مل کر چلیں اور ہندوستان کو ترقی یافتہ بنائیں۔
یو این آئی-ا یف ا ے-م ا
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
