ہندوستان
ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے:نریندر مودی
نئی دہلی، جمہوریت کی ماں میں جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار کا ایک سنگ میل آج یکم جون کو مکمل ہواکنیا کماری میں تین دن کے روحانی سفر کے بعد میں ابھی دہلی کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوا ہوں… کاشی اور دیگر کئی سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے بہت سارے تجربات ہیں، بہت سارے احساسات ہیں … میں اپنے اندر لامحدود توانائی کا بہاؤ محسوس کررہا ہوں۔درحقیقت 2024 کے اس الیکشن میں کئی خوش گوار اتفاقات سامنے آئے ۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ امرت کال کے اس پہلے لوک سبھا انتخاب میں، میں نے میرٹھ سے مہم کا آغاز کیا، جو 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی جائے تحریک ہے۔ ماں بھارتی کی پریکرما کے دوران اس الیکشن کا میرا آخری عوامی جلسہ پنجاب کے ہوشیار پور میں ہوا۔ سنت روی داس جی کی مقدس سرزمین، ہمارے گروؤں کی زمین پنجاب میں آخری جلسہ منعقد کرنے کا اعزاز بھی بہت خاص ہے۔ اس کے بعد مجھے کنیا کماری میں بھارت ماتا کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان ابتدائی لمحات میں میرے ذہن میں انتخابات کا شور گونج رہا تھا۔ جلسوں اور روڈ شوز میں نظر آنے والے ان گنت چہرے میری آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی بے پناہ محبت کی وہ لہر، ان کا آشیرواد … ان کی آنکھوں میں میرے لیے وہ بھروسہ، وہ پیار … میں سب کچھ اپنے اندر سمو رہا تھا۔ میری آنکھیں نم ہو رہی تھیں… میں خالی پن میں جا رہا تھا، دھیان میں داخل ہو رہا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ چند لمحوں میں سیاسی بحثیں، حملے اور جوابی حملے… الزامات کی آوازیں اور الفاظ، یہ سب خود بخود معدوم ہوتے چلے گئے۔ میرے ذہن میں لاتعلقی کا احساس مزید شدید ہو گیا… میرا دماغ بیرونی دنیا سے بالکل الگ ہوگیا۔اتنی بڑی ذمہ داریوں کے درمیان ایسی سادھنا مشکل ہے، لیکن کنیا کماری کی سرزمین اور سوامی وویکانند کی ترغیب نے اسے آسان بنا دیا۔ میں یہاں ایم پی کے طور پر اپنا انتخاب اپنے کاشی کے ووٹروں کے قدموں میں چھوڑ کر آیا تھا۔
میں خدا کا بھی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے پیدائش سے ہی یہ سنسکار دیے۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ سوامی وویکانند جی نے اس مقام پر سادھنا کرتے ہوئے کیا تجربہ کیا ہوگا! میری سادھنا کا کچھ حصہ اسی طرح کے خیالات کے بہاؤ میں بہہ گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس لاتعلقی کے درمیان، امن اور خاموشی کے درمیان، میرے ذہن میں ہندوستان کے روشن مستقبل کے لیے، ہندوستان کے مقاصد کے لیے خیالات مسلسل اُمنڈ رہے تھے۔ کنیا کماری کے اُگتے ہوئے سورج نے میرے خیالات کو نئی بلندیاں دیں، سمندر کی وسعت نے میرے خیالات کو وسعت دی اور اُفق کے پھیلاؤ نے کائنات کی گہرائیوں میں سمائی ہوئی وحدت نے مجھے ایک ہونے کا مسلسل احساس دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہمالیہ کی گود میں کئی دہائیوں پہلے کیے گئے غور و فکر اور تجربات دوبارہ زندہ ہو رہے ہوں۔
کنیا کماری کی یہ جگہ ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہی ہے۔ کنیا کماری میں وویکانند راک میموریل کی تعمیر جناب ایکناتھ رانڈے جی نے کرائی تھی۔ مجھے ایکناتھ جی کے ساتھ کافی سفر کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس یادگار کی تعمیر کے دوران کچھ وقت کنیا کماری میں رہنا اور وہاں آنا جانا فطری طور پر ہوتا تھا۔
کشمیر سے کنیا کماری… یہ ہماری مشترکہ شناختیں ہیں جو ملک کے ہر فرد کے دل میں سمائی ہوئی ہیں۔ یہ وہ شکتی پیٹھ ہے جہاں ماں شکتی نے کنیا کماری کی شکل میں اَوتار لیا تھا۔ اس جنوبی سرے پر ماں شکتی نے ان بھگوان شیو کے لیے تپسیا کی اور انتظار کیا جو ہندوستان کے سب سے شمالی سرے کے ہمالیہ پر براجمان رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ کنیا کماری سنگموں کے سنگم کی سرزمین ہے۔ ہمارے ملک کی مقدس ندیاں الگ الگ سمندروں میں جاکر ملتی ہیں اور یہاں ان سمندروں کا سنگم ہوتا ہے۔ اور یہاں ایک اور عظیم سنگم نظر آتا ہے –
وویکانند راک میموریل کے ساتھ ہی، یہاں پر سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، گاندھی منڈپم اور کامراجر منی منڈپم ہیں۔ عظیم ہیروز کے خیالات کے یہ دھارے یہاں قومی سوچ کا سنگم بناتے ہیں۔ اس سے قوم کی تعمیر کے لیے عظیم تحریکات کا جنم ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جو ہندوستان کے ایک قوم ہونے اور ملک کے اتحاد پر شک کرتے ہیں، کنیا کماری کی یہ سرزمین اتحاد کا انمٹ پیغام دیتی ہے۔
کنیا کماری میں سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، سمندر سے ماں بھارتی کے پھیلاؤ کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی بناوٹ ’تھروکورل‘ تمل ادب کے جواہرات سے جڑے تاج کی مانند ہے۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو کو بیان کیا گیا ہے، جو ہمیں اپنے اور قوم کے لیے اپنا بہترین دینے کی تحریک دیتا ہے۔ ایسی عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔
سوامی وویکانند جی نے کہا تھا – ہر قوم کے پاس پہنچانے کے لیے ایک پیغام ہے، پورا کرنے کے لیے ایک مشن ہے، پہنچنے کے لیے ایک منزل ہے۔
ہندوستان اس جذبے کے ساتھ ہزاروں سالوں سے ایک بامعنی مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان ہزاروں سالوں سے نظریات کی تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ ہم نے جو کچھ کمایا ہے اسے کبھی بھی اپنا ذاتی سرمایہ نہیں سمجھا گیا اور اسے کبھی معاشی یا مادی معیارات پر نہیں تولا۔ یہی وجہ ہے کہ ’اِدہ نہ مم‘ ہندوستان کے کردار کا ایک فطری حصہ بن گیا ہے۔
ہندوستان کی فلاح سے دنیا کی فلاح، ہندوستان کی ترقی سے دنیا کی ترقی، اس کی ایک بڑی مثال ہماری تحریک آزادی بھی ہے۔ ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک غلامی میں تھے۔ ان ممالک کو بھی ہندوستان کی آزادی سے تحریک اور طاقت ملی، انہوں نے آزادی حاصل کی۔ ابھی کورونا کے مشکل دور کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جب غریب اور ترقی پذیر ممالک کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، لیکن ہندوستان کی کامیاب کوششوں سے بہت سے ممالک کو حوصلہ اور تعاون بھی ملا۔
آج ہندوستان کا گورننس ماڈل دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ صرف 10 سالوں میں 25 کروڑ لوگوں کو غریبی سے نکالنا بے مثال ہے۔ پرو- پیپل گڈ گورننس، اسپیریشنل ڈسٹرکٹ، اسپیریشنل بلاک جیسے نئے تجربات آج دنیا میں زیر بحث ہیں۔ غریبوں کو بااختیار بنانے سے لے کر آخری میل ڈیلیوری تک، معاشرے کے آخری صف میں کھڑے فرد کو ترجیح دینے کی ہماری کوششوں نے دنیا کو تحریک دی ہے۔ ہندوستان کی ڈیجیٹل انڈیا مہم آج پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح ہم غریبوں کو بااختیار بنانے، شفافیت لانے اور انہیں ان کے حقوق دلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارت میں سستا ڈیٹا آج اطلاعات و خدمات تک غریبوں کی رسائی کو یقینی بناکر سماجی برابری کا وسیلہ بن رہا ہے۔ پوری دنیا ٹیکنالوجی کی اس جمہوریت کاری کو تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور بڑی عالمی تنظیمیں بہت سے ممالک کو ہمارے ماڈل سے سیکھنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔
آج ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کا عروج صرف ہندوستان کے لیے ہی بڑا موقع نہیں ہے۔ بلکہ یہ دنیا کے تمام ہم سفر ممالک کے لیے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ جی- 20 کی کامیابی کے بعد دنیا بھارت کے اس کردار کو زیادہ کھل کر قبول کر رہی ہے۔ آج ہندوستان کو گلوبل ساؤتھ کی ایک مضبوط اور اہم آواز کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی پہل ہی افریقی یونین جی- 20 گروپ کا حصہ بنا۔ یہ سبھی افریقی ممالک کے مستقبل کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نئے ہندوستان کی یہ شکل ہمیں فخر اور شان سے بھر دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ 140 کروڑ ہم وطنوں کو ان کے فرائض کا بھی احساس کراتی ہے۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ہمیں بڑی ذمہ داریوں اور بڑے اہداف کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ ہمیں نئے خواب دیکھنے ہیں۔ اپنے خوابوں کو اپنی زندگی بنانا ہے، اور ان خوابوں کو جینا شروع کرنا ہے۔
ہمیں ہندوستان کی ترقی کو عالمی تناظر میں دیکھنا ہوگا، اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ہندوستان کے باطن میں پوشیدہ صلاحیت کو سمجھیں۔ ہمیں ہندوستان کی طاقتوں کو قبول بھی کرنا ہوگا، انہیں مضبوط بھی کرنا ہوگا اور دنیا کے مفاد میں ان کا بھرپور استعمال بھی کرنا ہوگا۔ آج کے عالمی حالات میں، ایک نوجوان قوم کے طور پر ہندوستان کی صلاحیت ہمارے لیے ایک ایسا خوشگوار اتفاق اور موقع ہے جہاں سے ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج 21ویں صدی کی دنیا بڑی امیدوں کے ساتھ ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اور عالمی منظر نامے میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں بہت سی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ ہمیں اصلاحات کے حوالے سے اپنی روایتی سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔ ہندوستان اصلاحات کو صرف اقتصادی تبدیلیوں تک محدود نہیں رکھ سکتا ہے۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہماری اصلاحات بھی 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزائم کے مطابق ہونی چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اصلاحات کبھی بھی کسی ملک کے لیے یک رُخی عمل نہیں ہوسکتیں۔ اسی لیے، میں نے ملک کے لیے ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کا وژن سامنے رکھا۔ اصلاحات کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد پر ہماری بیوروکریسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور پھر جب عوام اس سے جڑ جاتے ہیں تو ہم تبدیلی ہوتی ہوئی دیکھتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے ہمیں عمدگی کو اپنی بنیادی قدر بنانا ہوگا۔ ہمیں اسپیڈ، اسکیل، اسکوپ اور اسٹینڈرڈز، چاروں سمتوں میں تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ کوالٹی پر بھی زور دینا ہوگا، ہمیں زیرو ڈیفیکٹ- زیرو ایفیکٹ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔
ہمیں ہر لمحہ اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ خدا نے ہمیں ہندوستان کی سرزمین میں جنم دیا ہے۔ خدا نے ہمیں ہندوستان کی خدمت کرنے اور اس کے بلندی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں قدیم اقدار کو جدید شکل میں اپناتے ہوئے اپنے ورثے کو جدید انداز میں نئی شکل دینا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم بھی اپنی فرسودہ سوچ اور عقائد پر نظر ثانی بھی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے معاشرے کو پیشہ وارانہ مایوسیوں کے دباؤ سے آزاد کرنا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ منفی ذہنیت سے آزادی، کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے پہلی جڑی بوٹی ہے۔ کامیابی مثبت ذہنیت کی گود میں ہی پنپتی ہے۔ہندوستان کی لامحدود اور لافانی طاقت پر میرا ایمان، عقیدت اور یقین بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان کی اس صلاحیت کو زیادہ بڑھتے دیکھا ہے اور زیادہ محسوس کیا ہے۔جس طرح ہم نے 20ویں صدی کی چوتھی- پانچویں دہائی کو اپنی آزادی کے لیے استعمال کیا، اسی طرح ہمیں 21ویں صدی کے ان 25 سالوں میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھنی ہے۔ جنگ آزادی کے دوران وطن عزیز کے لیے قربانیاں دینے کا وقت تھا۔ آج قربانی کا وقت نہیں بلکہ مسلسل تعاون کا وقت ہے۔
سوامی وویکانند نے 1897 میں کہا تھا کہ ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے۔ ان کی اس اپیل کے ٹھیک 50 سال بعد، ہندوستان 1947 میں آزاد ہوگیا۔
آج ہمارے پاس ایسا سنہری موقع ہے۔ آیئے آئندہ 25 سال صرف قوم کے لیے وقف کریں۔ ہماری یہ کوششیں آنے والی نسلوں اور آنے والی صدیوں کے لیے نئے ہندوستان کی مضبوط بنیاد کے طور پر لازوال رہیں گی۔ میں ملک کی توانائی کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ ہدف اب دور نہیں ہے۔ آئیے، تیز قدموں سے چلیں … مل کر چلیں اور ہندوستان کو ترقی یافتہ بنائیں۔
یو این آئی-ا یف ا ے-م ا
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
