ہندوستان
جن دھن یوجنا نے غریبوں کو اقتصادی دھارے میں شامل کیا: سیتا رمن
نئی دہلی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کی ایک دہائی مکمل ہونے کے موقع پر کہا کہ مالی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے سب کے لیے رسمی بینکنگ خدمات تک آسان رسائی ضروری ہےاور پی ایم جے ڈی وائی نے غریبوں کو اقتصادی دھارے میں شامل کرنے کے علاوہ پسماندہ زمرے کے طبقات کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے 28 اگست 2014 کو شروع کی گئی پردھان منتری جن دھن یوجنا(پی ایم جے ڈی وائی) آج کامیاب نفاذ کی ایک دہائی مکمل کر رہی ہے۔
پی ایم جے ڈی وائیٰ دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی شمولیت والا اقدام ہے، وزارت خزانہ اپنی مالی شمولیت کے طریقہ ٔ کار کے ذریعے محروم اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو مدد فراہم کرنے کی خاطر مسلسل کوشش کرتی رہی ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’’بینک سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کو’’بینک اکاؤنٹس، چھوٹی بچت اسکیموں، انشورنس اور کریڈٹ سمیت ہمہ گیر، سستی اور باضابطہ مالی خدمات فراہم کرکے ، پی ایم جن دھن یوجنا نے پچھلی دہائی کے دوران ملک کے بینکنگ اور مالیاتی منظر نامے کو بدل دیا ہے۔‘‘
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ’’ پہل کی کامیابی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ 53 کروڑ لوگوں کو جن دھن کھاتے کھلواکر انہیں باضابطہ طور پر بینکنگ نظام میں لایا گیا ہے ۔ ان بینک کھاتوں میں2.3 لاکھ کروڑ روپے جمع کرائے گئے اور اس کے نتیجے میں 36 کروڑ سے زیادہ مفت رُوپے کارڈ جاری کیے گئے، جو 2 لاکھ روپےکے ایکسیڈنٹ انشورنس کور بھی فراہم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے کی کوئی فیس یا رکھ رکھاؤ کے چارجز نہیں ہیں اور کم از کم بیلنس برقرار رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ’’یہ بات خوش آئند ہے کہ 67فی صد کھاتوں کو دیہی یا نیم شہری علاقوں میں کھولا گیا ہے، اور 55فی صد کھاتوں کو خواتین نے کھولا ہے۔‘‘
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ’’جن دھن-موبائل-آدھار کو جوڑتے ہوئے رضامندی پر مبنی پائپ لائن مالی شمولیت کے ماحولیاتی نظام کے سب سے اہم ستونوں میں سے ایک رہی ہے۔ اس نے اہل استفادہ کنندگان کو سرکاری فلاحی اسکیموں کی تیز، ہموار اور شفاف منتقلی کو قابل بنایا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا ہے۔ ‘‘
اس موقع پر اپنے پیغام میں، مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا، ’’پی ایم جے ڈی وائی نہ صرف ایک اسکیم ہے، بلکہ ایک تبدیلی کی تحریک ہے۔ جس نے بہت سے غیر بینک والی آبادی کو مالی آزادی فراہم کی ہے اور مالی تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ ‘‘
مسٹر چودھری نے کہا کہ’’وزیر اعظم نے اپنی 2021 کے یوم آزادی کی تقریر میں اعلان کیا کہ ہر گھر کے پاس ایک بینک اکاؤنٹ ہونا چاہیے اور ہر بالغ کے پاس انشورنس اور پنشن کی کوریج ہونی چاہیے۔ ملک بھر میں چلائی جانے والی مختلف پایہ تکمیل تک پہنچانے والی مہمات کے ذریعے اس سمت میں مسلسل کوششوں کے ساتھ، ہم بینک کھاتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں اور ملک بھر میں بیمہ اور پنشن کوریج میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔‘‘
مسٹرچودھری نے کہا کہ ’’ تمام شراکت داروں ، بینکوں، بیمہ کمپنیوں اور ریاستی حکومتوں کے تعاون سے، ہم مالی طور پر مزید جامع معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں اورپی ایم جے ڈی وائی کو ملک میں مالی شمولیت کو یکسر تبدیلی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا نہ صرف مشن موڈ میں حکمرانی کی ایک اہم مثال کے طور پر کام کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اگر کوئی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے تئیں پرعزم ہے تو وہ کیا حاصل کر سکتی ہے ‘‘ ۔
پی ایم جے ڈی وائی ہر بالغ کے لیے جس کا بینک میں کھاتہ نہیں ہے، ایک بنیادی بینک اکاؤنٹ فراہم کرتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کے لیے کوئی بیلنس برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس اکاؤنٹ پر کوئی چارجز بھی نہیں لگائے جاتے ہیں۔ اکاؤنٹ میں، ایک مفت رُوپے ڈیبٹ کارڈ جس میں ان بلٹ ایکسیڈنٹ انشورنس کور ہے، ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لیے 2 لاکھ روپے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔پی ایم جے ڈی کھاتے دار10,000 روپےتک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوور ڈرافٹ حاصل کرنے کے بھی اہل ہیں۔
گزشتہ دہائی میں پی ایم جے ڈی وائی کی قیادت میں شروع کیے گئے طریقہ کار کا سفر اثر دار ہے، جس نے تبدیلی کے ساتھ ساتھ سمت طے کرنے والی تبدیلی بھی پیدا کی ہے جس سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ماحولیاتی نظام کو معاشرے کے آخری فرد یعنی غریب سے غریب ترین فرد تک مالی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
پی ایم جے ڈی وائی اکاؤنٹس نہ صرف براہ راست فائدہ کی منتقلی حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ حکومت کی طرف سے مطلوبہ فائدہ اٹھانے والے کو بغیر کسی بچولیے، بغیر کسی رکاوٹ کے لین دین، اور بچت جمع کرنے کے لیے بغیر کسی پریشانی کے سبسڈی/ادائیگی کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ مزید برآں، وہ جن تحفظاتی اسکیموں (مائیکرو انشورنس اسکیموں) کے ذریعے لاکھوں غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو زندگی اور حادثاتی بیمہ فراہم کرنے میں اہم رہے ہیں۔
جن دھن آدھار اور موبائل (جے اے ایم) تثلیث،پی ایم جے ڈی وائی کے ساتھ اس کے ایک ستون کے طور پر، ایک ڈائیورشن پروف سبسڈی کی فراہمی کا طریقہ کار ثابت ہوا ہے۔جے اے ایم کے ذریعے، براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر کے تحت، حکومت نے کامیابی سے سبسڈی اور سماجی فوائد براہ راست پسماندہ افراد کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے ہیں۔
گزشتہ 10 سالوں کے دوران پی ایم جے ڈی وائی کے کامیاب نفاذ نے کئی سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ پی ایم جے ڈی وائی کے اہم پہلوؤں اور کامیابیوں کو ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
-
ہندوستان1 week agoگروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین اب ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر نہیں لے سکیں گے ڈپوٹیشن
