ہندوستان
نوزائیدہ بچوں کی زندگیو ں کا تحفظ یو آئی پی کا کلیدی مقصد :جےپی نڈا
نئی دہلی امراض کی روک تھام کے معاملے میں ٹیکے جو کردار ادا کرتے ہیں وہ بات 1796 سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے جب چھوٹی چیچک جیسے مرض کے خلاف پہلی مرتبہ ٹیکہ آزمایا گیا تھا گذشتہ پچاس برسوں کے دوران ہی ٹیکوں نے عالمی پیمانے پر 15 کروڑ سے زائد زندگیاں بچائی ہیں یہ تعداد ہر سال، ہر منٹ 6 زندگیاں بچانے کے مساوی ہے ان خیالات کا اظھار صحت و خاندانی بہبود، کیمیاوی اشیا اور کیمیاوی کھادوں کے مرکزی وزیر جےپی نڈایہاں جاری ایک مضمون میں کیا –
انہوں نے کہا کہ زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہندوستان کے آفاقی طور پر امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے پروگرام (یو آئی پی) کا کلیدی مقصد ہے۔ ہر سال، 2.6 کروڑ سے زائد نوزائیدہ بچوں کو 12 لائق تدارک امراض مثلاً خسرہ، کالی کھانسی، پولیو، وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بیماریاں مہلک یا ایک بچے کی صحت اور اس کی خیر و عافیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اگرچہ اس پروگرام کا آغاز 1985 میں ہوا، تاہم گذشتہ دس برسوں کے دوران اس نے بڑی تیزی سے وسعت حاصل کی ہے۔ مشن اندرادھنش جیسی شدید مہمات نے ہمہ گیر پیمانے پر ٹیکوں کے ذریعہ احاطہ کرنے کے عمل میں اضافہ کیا ہے اور 90 فیصد سے زائد آبادی پر احاطہ کیا جا چکا ہے۔ اب بھی ہمارے سامنے چنوتیاں ہیں یعنی 100 فیصد بنیاد پر ٹیکہ احاطہ حاصل کرنا باقی ہے۔ اس کے تحت کچھ خطوں اور برادریوں میں ٹیکے لگوانے کے سلسلے میں پایا جانے والا تذبذب اور نقل مکانی کی وجہ سے ٹیکے سے محروم رہ جانے والے افراد اور متعدد دیگر عناصر شامل ہیں جس کے نتیجے میں کچھ بچے جذوی طور پر یا کلی طور پر ٹیکہ کاری سے محروم رہ جاتے ہیں۔
معزز وزیر اعظم نریندر مودی جی کی تصوریت پر مبنی قیادت کے تحت، حکومت ہند نے صحت ،خواتین اور بچوں کے تغذیے کو اعلیٰ ترجیح دی ہے اور پوری مضبوطی کے ساتھ اس مقصد کے لیے وقف ہے کہ کوئی بھی بچہ یا حاملہ خاتون ٹیکہ کاری سے محروم نہ رہ جائے۔اس مقصد کے حصول کے لیے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت یو-وِن (آفاقی طور پر امراض سے تحفظ فراہم کرنے والا پروگرام-وِن) لے کر آئی ہے تاکہ ٹیکہ کاری کے احاطے کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے اور اس شکل میں اس کا تکنیکی حل نکالا جائے۔
یو وِن اصل میں ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو بھارت بھر میں الیکٹرانک طور پر تمام تر حاملہ خواتین اور بچوں کو الیکٹرانک طور پر رجسٹر کرتا ہے اور ٹیکہ لگانے کے عمل اور اس کی نوعیت کی نگرانی کرتا ہے۔
یووِن لازمی طور پر ایک نام پر مبنی رجسٹری کا عمل ہے جس کے تحت کہیں بھی رسائی حاصل کرنے، کسی بھی وقت ٹیکہ لگوانے کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔ اسے عوامی ارتکاز کے نظریے کے تحت وضع کیا گیا ہے، یہ پلیٹ فارم ٹیکہ کاری کے عمل کو سہل بنانے کے لیے مختلف النوع خوبیوں کا حامل ہے۔ حاملہ خواتین اپنے طور پر بذاتِ خود یووِن ایپ یا پورٹل کے توسط سے خود کو رجسٹر کر سکتی ہیں یا سادے طریقے سے نزدیک ترین واقع ٹیکہ کاری مرکز تک جا کر خود کو رجسٹر کرا سکتی ہیں۔
ایک مرتبہ رجسٹر ہونے کے بعد، حفظانِ صحت کے کارکنان حاملہ خواتین کے لیے اہم ٹیکہ کاری کے سلسلے کی نگرانی کر سکتے ہیں، زچگی کے نتائج کو ریکارڈ کر سکتے ہیں اور نوزائیدہ کو بھی رجسٹر کرسکتے ہیں اور ان کے لیے ٹیکہ کاری کا پروگرام ترتیب دے سکتے ہیں۔ اس پورے نظام الاوقات کو پروگرام کے منتظمین کے ذریعہ بچے کے 16 برس کی عمر تک پہنچنے تک زیر نگرانی رکھا جا سکتا ہے۔
یو-وِن والدین اور سرپرستوں کو اہم فوائد فراہم کرتا ہے، انہیں ملک میں کہیں بھی واقع ٹیکہ کاری خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لائق بناتا ہے اور وہ اس کا استعمال کرکے محض ایک بٹن دباکر اپنے بچے کو تحفظ فراہم کر سکتےہیں۔ یہ پلیٹ فارم صحتی کارکنان کے ساتھ رابطہ کرنے اور ملاقات کرنے کی خوبیوں کا بھی حامل ہے جو بطور خاص نقل مکانی کرنے والے کارکنان کے لیے مفید ہے۔
یو-وِن 11 زبانوں میں دستیاب ہے، اس کے نتیجے میں پلیٹ فارم تک رسائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک دیگر کلیدی خصوصیت یہ ہےکہ اس کے تحت تمام تر ریکارڈ کو ڈیجیٹائز شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر مرتبہ جب ایک مصدقہ استفادہ کنندہ کو ٹیکہ لگتا ہے تو اصل وقت پر مبنی ڈیجیٹل ٹیکہ کاری ریکارڈ وجود میں آجاتا ہے۔ استفادہ کنندگان کو ڈیجیٹل طور پر اس کی رسید بھی حاصل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کیوآر پر مبنی سند بھی حاصل ہوتی ہے جسے موبائل ایپ پر کہیں بھی تصدیق کے لیے پیش کیے جانے کی غرض سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے، خصوصاً یہ اسکول انتظامیہ اور سفر کرنے والے افراد کے لیے مفید ہے۔
اضافی طور پر یہ پلیٹ فارم ایس ایم ایس پر مبنی نوٹی فکیشن ارسال کرتا ہے اور آئندہ لگنے والے ٹیکوں کی خوراک کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہے، اس امر کو یقینی بناتا ہےکہ والدین اور حفظانِ صحت کارکنان دو خوراکوں کے درمیان تشخیص شدہ کم از کم وقفے کا لحاظ رکھیں۔
یو – وِن ایک رابطہ کار کے طور پر کام کرتا ہے، یہ والدین- سرپرستوں ، ڈاکٹروں، حفظانِ صحت کارکنان اور ایک واحد پلیٹ فارم پر ایک وسیع تر حفظانِ صحت نظام کو مربوط کرتا ہے۔ یہ ملک بھر میں امراض سے محفوظ کرنے کی پیش رفت کی مؤثر نگرانی کا بھی انتظام کرتا ہے۔ اس میں احاطے کے مکمل دائرے کی بھی تفصیل ہوتی ہے۔ یہ استفادہ کنندگان کو آیوشمان بھارت صحتی کھاتہ (آبھا) اور اطفال آبھا آئی ڈی یعنی شناخت نامہ فراہم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں صحت سے متعلق ریکارڈ کو طبی پیشہ واران اور دیگر خدمات فراہم کاران کے ساتھ ساجھا کیا جاسکتا ہے، ایسا عمل متعلقہ فرد کی مرضی سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے طبی پیشہ واران سرسری طور پر کسی بھی شخص کی طبی روداد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور مریض کے لیے بہتر نتائج فراہم ہو سکتے ہیں۔
یو-وِن، اے این ایم اور آشا کارکنان کو بھی ٹیکہ کاری کے لیے درکار فہرست وضع کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے استفادہ کنندگان کو بروقت ٹیکہ کاری بہم پہنچائی جا سکے، کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو بھی تقویت بہم پہنچاتا ہے۔
گذشتہ دس برسوں کے دوران ہندوستان نے حفظانِ صحت کی دنیا میں انقلاب لانے کی غرض سے اندرونِ ملک صحتی نظام پر بھروسہ کیا ہے۔ الیکٹرانک ٹیکہ انٹیلی جینس نیٹ ورک (ای وی آئی این) جو 2014 میں متعارف کرایا گیا تھا، اس نے ٹیکوں کی حصولیابی، ذخیرے اور آخری منزل تک ان کی بہم رسانی کے تمام تر عمل کو یکسر تغیر سے ہمکنار کیا ہے۔
کووِڈ19 وبائی مرض کے دوران پوری دنیا نے کووِن کی کامیابی ملاحظہ کی۔ یہ تکنالوجی بھارت کے کووِڈ19 ٹیکہ کاری پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی تھی جس نے محض 18 مہینے سے بھی کم کی مدت میں 220 کروڑ کے بقدر کووِڈ19 ٹیکوں کی خوراکوں کو لگانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب یو وِن ملک میں قابل ذکر طور پر ٹیکہ کاری کے عمل کے احاطے میں اصلاح لاکر امراض سے تحفظ فراہم کرنے کی خدمات کے پیش منظر کو بدلنے کے لیے مستعد ہے۔
اب جب ہندوستان ایک آزاد ملک کے طور پر اپنے سو سال مکمل کرنے کی جانب رواں دواں ہے، مضبوط ٹیکہ کاری پروگرام کے تحت اس کی عہدبندگی محض ایک صحتی پہل قدمی نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک بنیادی سرمایہ کاری بھی کہی جا سکتی ہے۔ جدید ترین ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور جامع عوامی صحتی حکمت عملیوں کے توسط سے اپنے نوجوان ترین شہریوں کو امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے عمل کو ترجیح فراہم کرکے، بھارت نہ صرف یہ کہ قابل تدارک امراض سے نبرد آزمائی کر رہا ہے بلکہ ایک صحت مند اور اقتصادی لحاظ سے لچک کی حامل آبادی کو بھی پروان چڑھا رہا ہے۔
یہ تمام تر کوششیں ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کے عزم محکم کی مظہر ہیں جہاں کوئی بھی بچہ زندگی بچانے والے ٹیکوں سے محروم نہیں رہے گا ۔ جہاں جموں و کشمیر کے برفانی پیش منظر میں رہنے والوں سے لے کر کچھ کے ریگستانوں تک، اور اروناچل پردیش کی سرحدوں تک، یا انڈمان نکوبار جزائر کے نیلے سمندر کے پانی سے گھرے ہوئے گاؤں کا کوئی بچہ ٹیکہ کاری سے محروم نہیں رہے گا۔
یواین آئی۔ف ا-م ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
