ہندوستان
نوزائیدہ بچوں کی زندگیو ں کا تحفظ یو آئی پی کا کلیدی مقصد :جےپی نڈا
نئی دہلی امراض کی روک تھام کے معاملے میں ٹیکے جو کردار ادا کرتے ہیں وہ بات 1796 سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے جب چھوٹی چیچک جیسے مرض کے خلاف پہلی مرتبہ ٹیکہ آزمایا گیا تھا گذشتہ پچاس برسوں کے دوران ہی ٹیکوں نے عالمی پیمانے پر 15 کروڑ سے زائد زندگیاں بچائی ہیں یہ تعداد ہر سال، ہر منٹ 6 زندگیاں بچانے کے مساوی ہے ان خیالات کا اظھار صحت و خاندانی بہبود، کیمیاوی اشیا اور کیمیاوی کھادوں کے مرکزی وزیر جےپی نڈایہاں جاری ایک مضمون میں کیا –
انہوں نے کہا کہ زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہندوستان کے آفاقی طور پر امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے پروگرام (یو آئی پی) کا کلیدی مقصد ہے۔ ہر سال، 2.6 کروڑ سے زائد نوزائیدہ بچوں کو 12 لائق تدارک امراض مثلاً خسرہ، کالی کھانسی، پولیو، وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بیماریاں مہلک یا ایک بچے کی صحت اور اس کی خیر و عافیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اگرچہ اس پروگرام کا آغاز 1985 میں ہوا، تاہم گذشتہ دس برسوں کے دوران اس نے بڑی تیزی سے وسعت حاصل کی ہے۔ مشن اندرادھنش جیسی شدید مہمات نے ہمہ گیر پیمانے پر ٹیکوں کے ذریعہ احاطہ کرنے کے عمل میں اضافہ کیا ہے اور 90 فیصد سے زائد آبادی پر احاطہ کیا جا چکا ہے۔ اب بھی ہمارے سامنے چنوتیاں ہیں یعنی 100 فیصد بنیاد پر ٹیکہ احاطہ حاصل کرنا باقی ہے۔ اس کے تحت کچھ خطوں اور برادریوں میں ٹیکے لگوانے کے سلسلے میں پایا جانے والا تذبذب اور نقل مکانی کی وجہ سے ٹیکے سے محروم رہ جانے والے افراد اور متعدد دیگر عناصر شامل ہیں جس کے نتیجے میں کچھ بچے جذوی طور پر یا کلی طور پر ٹیکہ کاری سے محروم رہ جاتے ہیں۔
معزز وزیر اعظم نریندر مودی جی کی تصوریت پر مبنی قیادت کے تحت، حکومت ہند نے صحت ،خواتین اور بچوں کے تغذیے کو اعلیٰ ترجیح دی ہے اور پوری مضبوطی کے ساتھ اس مقصد کے لیے وقف ہے کہ کوئی بھی بچہ یا حاملہ خاتون ٹیکہ کاری سے محروم نہ رہ جائے۔اس مقصد کے حصول کے لیے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت یو-وِن (آفاقی طور پر امراض سے تحفظ فراہم کرنے والا پروگرام-وِن) لے کر آئی ہے تاکہ ٹیکہ کاری کے احاطے کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے اور اس شکل میں اس کا تکنیکی حل نکالا جائے۔
یو وِن اصل میں ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو بھارت بھر میں الیکٹرانک طور پر تمام تر حاملہ خواتین اور بچوں کو الیکٹرانک طور پر رجسٹر کرتا ہے اور ٹیکہ لگانے کے عمل اور اس کی نوعیت کی نگرانی کرتا ہے۔
یووِن لازمی طور پر ایک نام پر مبنی رجسٹری کا عمل ہے جس کے تحت کہیں بھی رسائی حاصل کرنے، کسی بھی وقت ٹیکہ لگوانے کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔ اسے عوامی ارتکاز کے نظریے کے تحت وضع کیا گیا ہے، یہ پلیٹ فارم ٹیکہ کاری کے عمل کو سہل بنانے کے لیے مختلف النوع خوبیوں کا حامل ہے۔ حاملہ خواتین اپنے طور پر بذاتِ خود یووِن ایپ یا پورٹل کے توسط سے خود کو رجسٹر کر سکتی ہیں یا سادے طریقے سے نزدیک ترین واقع ٹیکہ کاری مرکز تک جا کر خود کو رجسٹر کرا سکتی ہیں۔
ایک مرتبہ رجسٹر ہونے کے بعد، حفظانِ صحت کے کارکنان حاملہ خواتین کے لیے اہم ٹیکہ کاری کے سلسلے کی نگرانی کر سکتے ہیں، زچگی کے نتائج کو ریکارڈ کر سکتے ہیں اور نوزائیدہ کو بھی رجسٹر کرسکتے ہیں اور ان کے لیے ٹیکہ کاری کا پروگرام ترتیب دے سکتے ہیں۔ اس پورے نظام الاوقات کو پروگرام کے منتظمین کے ذریعہ بچے کے 16 برس کی عمر تک پہنچنے تک زیر نگرانی رکھا جا سکتا ہے۔
یو-وِن والدین اور سرپرستوں کو اہم فوائد فراہم کرتا ہے، انہیں ملک میں کہیں بھی واقع ٹیکہ کاری خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لائق بناتا ہے اور وہ اس کا استعمال کرکے محض ایک بٹن دباکر اپنے بچے کو تحفظ فراہم کر سکتےہیں۔ یہ پلیٹ فارم صحتی کارکنان کے ساتھ رابطہ کرنے اور ملاقات کرنے کی خوبیوں کا بھی حامل ہے جو بطور خاص نقل مکانی کرنے والے کارکنان کے لیے مفید ہے۔
یو-وِن 11 زبانوں میں دستیاب ہے، اس کے نتیجے میں پلیٹ فارم تک رسائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک دیگر کلیدی خصوصیت یہ ہےکہ اس کے تحت تمام تر ریکارڈ کو ڈیجیٹائز شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر مرتبہ جب ایک مصدقہ استفادہ کنندہ کو ٹیکہ لگتا ہے تو اصل وقت پر مبنی ڈیجیٹل ٹیکہ کاری ریکارڈ وجود میں آجاتا ہے۔ استفادہ کنندگان کو ڈیجیٹل طور پر اس کی رسید بھی حاصل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کیوآر پر مبنی سند بھی حاصل ہوتی ہے جسے موبائل ایپ پر کہیں بھی تصدیق کے لیے پیش کیے جانے کی غرض سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے، خصوصاً یہ اسکول انتظامیہ اور سفر کرنے والے افراد کے لیے مفید ہے۔
اضافی طور پر یہ پلیٹ فارم ایس ایم ایس پر مبنی نوٹی فکیشن ارسال کرتا ہے اور آئندہ لگنے والے ٹیکوں کی خوراک کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہے، اس امر کو یقینی بناتا ہےکہ والدین اور حفظانِ صحت کارکنان دو خوراکوں کے درمیان تشخیص شدہ کم از کم وقفے کا لحاظ رکھیں۔
یو – وِن ایک رابطہ کار کے طور پر کام کرتا ہے، یہ والدین- سرپرستوں ، ڈاکٹروں، حفظانِ صحت کارکنان اور ایک واحد پلیٹ فارم پر ایک وسیع تر حفظانِ صحت نظام کو مربوط کرتا ہے۔ یہ ملک بھر میں امراض سے محفوظ کرنے کی پیش رفت کی مؤثر نگرانی کا بھی انتظام کرتا ہے۔ اس میں احاطے کے مکمل دائرے کی بھی تفصیل ہوتی ہے۔ یہ استفادہ کنندگان کو آیوشمان بھارت صحتی کھاتہ (آبھا) اور اطفال آبھا آئی ڈی یعنی شناخت نامہ فراہم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں صحت سے متعلق ریکارڈ کو طبی پیشہ واران اور دیگر خدمات فراہم کاران کے ساتھ ساجھا کیا جاسکتا ہے، ایسا عمل متعلقہ فرد کی مرضی سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے طبی پیشہ واران سرسری طور پر کسی بھی شخص کی طبی روداد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور مریض کے لیے بہتر نتائج فراہم ہو سکتے ہیں۔
یو-وِن، اے این ایم اور آشا کارکنان کو بھی ٹیکہ کاری کے لیے درکار فہرست وضع کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے استفادہ کنندگان کو بروقت ٹیکہ کاری بہم پہنچائی جا سکے، کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو بھی تقویت بہم پہنچاتا ہے۔
گذشتہ دس برسوں کے دوران ہندوستان نے حفظانِ صحت کی دنیا میں انقلاب لانے کی غرض سے اندرونِ ملک صحتی نظام پر بھروسہ کیا ہے۔ الیکٹرانک ٹیکہ انٹیلی جینس نیٹ ورک (ای وی آئی این) جو 2014 میں متعارف کرایا گیا تھا، اس نے ٹیکوں کی حصولیابی، ذخیرے اور آخری منزل تک ان کی بہم رسانی کے تمام تر عمل کو یکسر تغیر سے ہمکنار کیا ہے۔
کووِڈ19 وبائی مرض کے دوران پوری دنیا نے کووِن کی کامیابی ملاحظہ کی۔ یہ تکنالوجی بھارت کے کووِڈ19 ٹیکہ کاری پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی تھی جس نے محض 18 مہینے سے بھی کم کی مدت میں 220 کروڑ کے بقدر کووِڈ19 ٹیکوں کی خوراکوں کو لگانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب یو وِن ملک میں قابل ذکر طور پر ٹیکہ کاری کے عمل کے احاطے میں اصلاح لاکر امراض سے تحفظ فراہم کرنے کی خدمات کے پیش منظر کو بدلنے کے لیے مستعد ہے۔
اب جب ہندوستان ایک آزاد ملک کے طور پر اپنے سو سال مکمل کرنے کی جانب رواں دواں ہے، مضبوط ٹیکہ کاری پروگرام کے تحت اس کی عہدبندگی محض ایک صحتی پہل قدمی نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک بنیادی سرمایہ کاری بھی کہی جا سکتی ہے۔ جدید ترین ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور جامع عوامی صحتی حکمت عملیوں کے توسط سے اپنے نوجوان ترین شہریوں کو امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے عمل کو ترجیح فراہم کرکے، بھارت نہ صرف یہ کہ قابل تدارک امراض سے نبرد آزمائی کر رہا ہے بلکہ ایک صحت مند اور اقتصادی لحاظ سے لچک کی حامل آبادی کو بھی پروان چڑھا رہا ہے۔
یہ تمام تر کوششیں ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کے عزم محکم کی مظہر ہیں جہاں کوئی بھی بچہ زندگی بچانے والے ٹیکوں سے محروم نہیں رہے گا ۔ جہاں جموں و کشمیر کے برفانی پیش منظر میں رہنے والوں سے لے کر کچھ کے ریگستانوں تک، اور اروناچل پردیش کی سرحدوں تک، یا انڈمان نکوبار جزائر کے نیلے سمندر کے پانی سے گھرے ہوئے گاؤں کا کوئی بچہ ٹیکہ کاری سے محروم نہیں رہے گا۔
یواین آئی۔ف ا-م ا
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
