ہندوستان
غالب نے درد و الم کو راحت کا ذریعہ بنا لیا تھا: پروفیسر قاضی جمال حسین
نئی دہلی، غالب کی ذہنی زندگی اور حقیقی زندگی میں ایسی کشمکش تھی جو آخر عمر تک باقی رہی ان کے کلام میں نالہ و فریاد کا ایک بڑا سرچشمہ تھا ان کے ذہن میں معانی و شوق کا جو وفور تھا وہ اظہار کے کسی پیرائے کی گرفت میں نہ آتا تھا اس کی وجہ سے ان کے کلام میں لفظ و معنی کی آویزش اکثر محسوس ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر قاضی جمال حسین نے بین الاقوامی غالب سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ درد و الم سے کبیدہ خاطر ہونے کے بجائے غالب نے اسے راحت کا ذریعہ بنا لیا چنانچہ لذت درد، شکست آرزو، غم ہستی وغیرہ اسی لذت اندوزی کا شاخسانہ ہیں۔
غالب تقریبات کاافتتاح 20 دسمبر کو شام چھ بجے ایوان غالب میں سابق چیف انفارمیشن کمشنر جناب وجاہت حبیب اللہ نے کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ غالب تقریبات کے تحت ہونے والی سرگرمیاں ہماری علمی اور ثقافتی وابستگی کو واضح کرتی ہیں۔ سمینار کا موضوع ’فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے‘ غور و فکر کے بہت سے زاویے اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔
غالب نے درد و غم اور نارسائی کو جس سطح پر محسوس کیا وہ عام سطح سے بہت بلند ہے اور وہی انھیں بڑا تخلیق کار بناتی ہے۔
اجلاس کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کی انھوں نے کہا کہ انسان کی تمناو ں کا ،خوابوںکا اور اُس کے عزم کا جس قدر خوبصورت اور پراعتماد بیان غالب کے یہاں ہے کہیں اور نہیں ملتا۔ ’فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے احساس غم کسی ضابطے کا پابند نہیں، نہ ہی اس کے اظہار کا مخصوص پیرایہ ہو سکتا ہے۔ یہ موضوع جتنا سادہ نظر آتا ہے اصلاً اتنا ہی گہرا اور پیچیدہ ہے۔
جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر محمد افشار عالم نے افتتاحی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ ہر برس بین الاقوامی غالب تقریبات کا انعقاد کرتا ہے اور یہاں ہر سال ایک ایسا موضوع منتخب کیا جاتا ہے جس میں نئی بات کہنے کی بہت گنجائش ہو۔ غالب کو پڑھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انھیں نئے زاویے سے دیکھا جائے کیوں کہ وہ خود ساری زندگی فرسودگی سے دامن کش رہے۔ غالب کو یاد کرنا ایک اعتبار سے تازہ دم رہنےکے ہم معنی ہے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا غالب انسٹی ٹیوٹ ہر برس غالب کے یوم پیدائش کے موقع پر دسمبر میں غالب تقریبات کا اہتمام کرتا ہے اور یہ تقریبات محض رسمی نہیں ہوتیں بلکہ ہم نے پورے سال کیا کیا اس کی ایک رپورٹ بھی ہوتی ہے یہ رپورٹ کتابوں کی رونمائی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سال کا سمینار بھی بہت کامیاب رہے گا اور جب یہ کتابی شکل میں شائع ہوگا تو اس سے گفتگو آگے بڑھے گی۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی کو فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے تحقیق و تنقید، پروفیسر محمد رضا نصیری (ایران) کو فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید، اور پروفیسر عبدالرشید کو غالب انعام برائے مجموعی ادبی خدمات پیش کیا گیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کی درج ذیل نئی مطبوعات کی رسم رونمائی ہوئی: (۱) غالب اور جشن زندگی، ڈاکٹر ادریس احمد (۲) غالب راز حیات اور اضطراب آگہی، پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی (۳) توضیحی اشاریہ غالب نامہ، پروفیسر فاروق انصاری (۴) اردو ادب کی تشکیل جدید، پروفیسر ناصر عباس نیر (۵) کچھ غالب کے بارے میں، ڈاکٹر محضر رضا (۶) دیوان غالب (تمل ترجمہ ڈاکٹر سید رفیق پاشا حسینی) (۷) غالب نامہ کے دو شمارے (۸) ڈائری کلینڈر2025۔
افتتاحی اجلاس کے بعد معروف غزل سرا ڈاکٹر رادھیکا چوپڑا نے غالب اور دوسرے شعرا کی غزلیں پیش کیں۔ سمینار کے بقیہ اجلاس 21 اور 22دسمبر کو صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک ایوان غالب میں ہوں گے۔ 21 دسمبر کو شام چھ بجے عالمی مشاعرہ اور 22 دسمبر کو شام چھ بجے اردو ڈرامہ ’نظیر کتھا کیرتن‘ پیش کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔ م ا
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
