ہندوستان
جمہوری ادارے جتنے زیادہ مضبوط ہوں گے ، عوامی بہبود اور ملک کی ترقی اتنی تیزرفتار ہوگی : برلا
نئی دہلی ، پٹنہ، 2 لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج کہا کہ قانون سازوں میں رکاوٹوں سے پاک اور منظم بحث اور بہترین مذاکرات کی روایت کو برقرار رکھا جانا چاہیے اجلاسوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ تمام پریذائیڈنگ افسران کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ایوانوں میں کوئی خلل نہ پڑے، اتفاق رائے اور اختلاف رائے کے باوجود ہمارے ایوان وسیع تر عوامی مفاد میں اور بہتر ماحول میں چلیں تاکہ ہم اپنے ایوانوں میں اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کر سکیں، وہ عوامی خدمت اور گڈ گورننس میں بہتر کردار ادا کر سکیں گے۔ پٹنہ میں منعقدہ 85ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں مسٹر برلا نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ تمام پریزائیڈنگ افسران نے آئین کی 75 ویں سالگرہ کو تہوار کے طور پر منانے کے لیے تخلیقی خیالات پیش کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ اور تمام ریاستوں کی مقننہ – پنچایتی راج ادارے، شہری ادارے، کوآپریٹو ادارے، نوجوان، خواتین، طلباء، پیشہ ور افراد، این جی اوز، کاروباری افراد، میڈیا اور جمہوریت کے تمام اسٹیک ہولڈرز، سال بھر اس میں شامل رہیں گے۔ ملک کے ہر کونے میں ہماری عظیم جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے مہم چلائیں گے اور مختلف پروگراموں کا انعقاد کریں گے۔
قانون سازوں کے لیے بہترین تحقیقی تعاون پر زور دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ اراکین کی استعداد کار بڑھانے اور مدد کے لیے قانون ساز اداروں میں بہترین تحقیق اور حوالہ جات کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا منصوبہ ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں/قانون ساز کونسلوں کے لیے لوک سبھا میں ایک ریسرچ پول قائم کرنا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون سازوں کو بھی ریسرچ سپورٹ کی سہولت فراہم کی جاسکے۔
قانون ساز اداروں میں کمیٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ ہم نے ہندوستان کی پارلیمنٹ میں پارلیمانی کمیٹیوں کے کام کاج کو مضبوط بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کیے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، تخمینہ کمیٹی اور دیگر کمیٹیاں ملک کی مختلف ریاستوں کے قانون ساز اداروں میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال اے آئی پی او سی کے بینر تلے تمام ریاستی مقننہ کی کمیٹیوں کے لیے ٹریننگ اور صلاحیت سازی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن – “ایک قوم ایک قانون سازی پلیٹ فارم” کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ پچھلے سال میں اس سمت میں بے مثال پیش رفت ہوئی ہے۔ جہاں پارلیمنٹ کے مباحثوں کا ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اور آن لائن دستیاب کرایا جا رہا ہے، ریاستی مقننہ نے بھی اپنی موجودہ اور ماضی کی بحثوں کے ڈیجیٹلائزیشن میں قابل ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سال 2025 میں وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ہم ہندوستان کے شہریوں کو ایسا منفرد پلیٹ فارم فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جہاں وہ کلیدی لفظ کے ذریعے کسی بھی موضوع پر نہ صرف پارلیمنٹ کی بحث کو تلاش کر سکیں گے، میٹا ڈیٹا اور اے آئی کے ذریعے آپ مقننہ میں ہونے والی بحثوں تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا کی تمام پارلیمانوں سے آگے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے، ہندوستان کی پارلیمنٹ میں 22 سرکاری زبانوں میں سے دس میں بیک وقت ترجمہ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی یہ سہولت اراکین کو تمام بائیس زبانوں میں دستیاب ہو جائے گی۔ یہ بتاتے ہوئے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے ہر قسم کے پارلیمانی دستاویزات ہندستان کی پارلیمنٹ کے اراکین کو دس علاقائی زبانوں میں دستیاب کرائے جا رہے ہیں، مسٹر برلا نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان دنیا کی ایسی واحد جمہوریت ہے ، جس میں ہم تمام تر ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سمت میں مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔ مسٹر برلا نے پریزائیڈنگ افسران کو مطلع کیا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ ریاستی مقننہ کے ساتھ تکنیکی آلات کا اشتراک کرے گی تاکہ ان کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
لوک سبھا اسپیکر نے مزید کہا کہ پریزائیڈنگ افسران کا یہ عزم ہے کہ ہم ہندوستان کی پارلیمنٹ، ریاستی مقننہ، پنچایتی راج اداروں، شہری اداروں، کوآپریٹو اداروں اور تمام جمہوری اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتے رہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوری ادارے جتنے مضبوط ہوں گے، ملک کی ترقی اور عوامی بہبود میں ہندوستان کے شہریوں کی فعال شرکت کو اتنا ہی یقینی بنایا جائے گا۔
مسٹر برلا نے کہا کہ ہمارا عزم ہونا چاہیے کہ یہ قانون ساز ادارے 2047 تک ملک کو بات چیت، مذاکرات ، معاہدے اور اختلاف رائے کے ساتھ آگے لے کر ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کریں۔
دنیا بھر میں قانون سازوں اور پارلیمانی عہدیداروں کو تربیت دینے میں لوک سبھا سکریٹریٹ کی پرائڈ تنظیم کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ پرائڈ کے ذریعے ہم 100 سے زیادہ مختلف ممالک کی پارلیمانوں اور تقریباً تمام ریاستی مقننہ اداروں کو تربیتی پروگرام فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے 25 ریاستی مقننہ کے لیے قانون سازی کے مسودے پر خصوصی پروگرام منعقد کیے ہیں۔ اب پرائڈ کے ذریعے ہم پنچایتی راج اداروں، شہری اداروں، کوآپریٹو اداروں اور تمام جمہوری اداروں کو بااختیار بنا رہے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
