جموں و کشمیر
کشمیر میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ہلکے درجے کے برف و باراں کا امکان
سری نگر، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکے درجے کے برف و باراں کا امکان ہے۔متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 22 جنوری کو موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 23 جنوری کو بھی وادی میں موسم کی کم و بیش یہی صورتحال جاری رہنے کا امکان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعد میں وادی میں 24 سے 28 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں 29 سے 31 جنوری تک کچھ مقامات پر ایک بار پھر ہلکی برف باری یا بارش ہوسکتی ہے۔
ادھر مطلع جزوی ابر آلود رہنے سے وادی کے بیشتر مقامات پر شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہوئی ہے۔گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت 1.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سری نگر میں 21 دسمبر کو شبانہ درجہ حرارت منفی 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوکر رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جو گذشتہ 133 برسوں میں سری نگر میں ماہ دسمبر میں ریکارڈ ہونے والا تیسرا کم ترین درجہ حرارت ہے۔
سری نگر میں سال 1974 کے ماہ دسمبر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.3 ڈگری سینٹی گریڈ اور 13 دسمبر سال 1964 کو شبانہ درجہ حرارت منفی 12.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی3.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے ایک اور سیاحتی مقام سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت 1.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب بھی یہی درجہ حرارت ریکارڈ ہوا تھا۔وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اور 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی1.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔سائبیریا کے بعد دنیا کے دوسرے سرد ترین علاقہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی18.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں سردیوں کا باد شاہ چالیس روزہ چلہ کلان بر سر اقتدار ہے جو 21 دسمبر سے شروع ہوکر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ چلہ ٹھٹھرتی سردیوں اور بھاری باری کے لئے مشہور ہے اور اس کے بعد 20 دنوں پر محیط چلہ خورد شروع ہوجاتا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس کو ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جاننے کا حق کس نے دیا: راہل
