ہندوستان
شاہ نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کے منشور کا تیسرا حصہ جاری کیا
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر امت شاہ نے آج دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے منشور کا تیسرا حصہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا کلچر کام کرنے کا ہے۔ جبکہ دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی ( آپ ) کا کلچر وعدوں کے ساتھ آنا اور پھر اگلے انتخابات میں معصوم چہرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔
آپ حکومت اور سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال پر سخت حملہ کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا “کجریوال نے دہلی میں اسکولوں اور مندروں، گرودواروں کو بھی نہیں بخشا۔ سب کو ٹھیکے دیے، ہزاروں کروڑ روپے کا گھپلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال نے ہر الیکشن میں صرف جھوٹے وعدے کیے ہیں، لیکن بی جے پی صرف وعدے نہیں کرتی بلکہ کام کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سال بی جے پی نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا ریزولیوشن منشور تین حصوں میں جاری کیا ہے۔ بی جے پی نے 17 جنوری کو وکست دہلی سنکلپ پتر کا پہلا حصہ جاری کیا تھا۔ اسے جاری کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اسے ‘ترقی یافتہ دہلی کی بنیاد’ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد 21 جنوری کو سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے سنکلپ پتر کا دوسرا حصہ جاری کیا۔
مسٹر شاہ نے کہا “ہم انتخابات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ بی جے پی خالی وعدے نہیں کرتی ، بلکہ وہ جو بھی کہتی ہے، اسے پورا کرتی ہے۔ ہم نے ریزولیوشن لیٹر تیار کرنے کے لیے تجاویز مانگی تھیں اور ایک لاکھ آٹھ ہزار لوگوں نے اپنی تجاویز دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 62 اقسام کے گروپس کے اجلاس منعقد ہوئے۔ یہ سنکلپ پتر ان تجاویز، دہلی کے بجٹ اور دہلی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
مسٹر کیجریوال پر حملہ کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہت سے وعدے کئے تھے، جنہیں پورا کرنے کا نہ تو جوش ہے اور نہ ہی عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال نے کہا تھا کہ میں، میری حکومت اور کوئی وزیر سرکاری بنگلہ نہیں لیں گے، لیکن بنگلہ لے لیا۔ یہی نہیں، انہوں نے 51 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کر کے چار بنگلوں کو ملا کر شیش محل بنایا۔ اس میں کروڑوں کے پردے، لاکھوں کے صوفے اور ایل ای ڈی نصب کئے ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ نے محلہ کلینک بنا کر دہلی کو دھوکہ دیا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپریشن کرانا ہے تو کہاں جائیں؟ کیا محلہ کلینک کے اندر آپریشن اور ایکسرے کیے جا رہے ہیں؟ کیا وہاں ماہر ڈاکٹر ہیں؟ محلہ کلینک کے نام پر آپ اسپتالوں کے وعدے سے مکر گئے۔ بستروں کی تعداد دوگنی کرنے یا 7 دن تک صاف اور مفت پانی فراہم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال اور ان کے وزراء روزانہ تین پریس کانفرنس کرتے ہیں اور دوسری ریاستوں پر الزام لگاتے ہیں، وہ خود آلودگی نہیں ہٹاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دہلی کو کرپشن سے پاک کرنے کا کا وعدہ کیا تھا اور آپ کے وزراء صرف کرپشن کے مقدمات میں جیل گئے۔ ضمانت ملتے ہی وہ کہتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہیں۔ آپ اندھیرے میں رہیں، عوام کو بے وقوف نہ بنائیں۔ ضمانت ملی ہے، کیس چلنا ہے۔ آپ ضمانے ملنے کو کلین چٹ دے کر الزامات سے بچ نہیں سکتے۔‘‘
مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بدعنوانی کی سطح اتنی ب زیادہ کبھی نہیں رہی، جتنی مسٹر کیجریوال نے کی ہے۔ انہوں نے کہا ‘شراب پالیسی بناتے وقت ان کی آمدنی بڑھانے کا خیال رکھا گیا تھا۔ راشن کی تقسیم میں 5400 کروڑ روپے کا گھوٹالہ، 4500 کروڑ روپے کا بس گھوٹالہ، 571 کروڑ روپے کا سی سی ٹی وی گھوٹالہ، 2800 کروڑ روپے کا جل نگم گھوٹالہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے 10 برسوں میں دہلی کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کی ذمہ داری لی ہے۔ ہم نے ریلوے پر 15 ہزار کروڑ روپے، ہوائی اڈے پر 21 ہزار کروڑ روپے اور سڑکوں پر 41 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اگر مرکزی حکومت نے کام نہ کیا ہوتا تو دہلی آج رہنے کے لائق نہ ہوتی ۔
مسٹر شاہ نے کہا ’’ہم نے انا یوجنا کے 73 لاکھ استفادہ کنندگان اور 2.5 لاکھ اسٹریٹ وینڈرس کو قرض دیا ہے۔ 488 دکانوں پر سستی ادویات دیں۔ شرم یوگی مانو دھن کو 11 ہزار سبسکرائبر ملے۔ جن دھن یوجنا کے تحت 65 لاکھ کھاتے کھولے گئے، کسانوں کو کسان سمان ندھی کا فائدہ ملا۔ اُجالا اسکیم کے تحت ایک کروڑ 30 لاکھ بلب تقسیم کیے گئے۔ وعدے کرنا اور کام کرنا بی جے پی کا کلچر ہے۔ آپ کا کلچر یہ ہے کہ آپ وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئیں اور پھر اگلے انتخابات میں معصوم چہرے کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
وزیر داخلہ نے کہا “انتخابات میں سنگین جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ میں اپنے بنگلے پر ایک ملازم سے ملا۔ اس نے کہا کہ میرے فون پر کہا جا رہا ہے کہ اگر بی جے پی آئی تو تمام اسکیموں کو روک دیا جائے گا۔ میں نے عوامی زندگی میں ایسی جھوٹی انتخابی مہم کبھی نہیں دیکھی۔ یہ پتھر کی لکیر کی طرح سچ ہے کہ کوئی ا سکیم نہیں روکی جائے گی۔ میری اپیل نہیں سنیں گے، انا کی نہیں سنی۔ سر جی ایسی جھوٹی باتیں پھیلا کر عوامی زندگی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
