جموں و کشمیر
موبائیل فون کا زیادہ استعمال بچوں کو مختلف امراض میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہا ہے :معروف معالجین
سری نگرامر سنگھ کلب سری نگر میں ڈیجیٹل ایڈکشن کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد ہوا جس دوران اس اہم موضوع پر معروف معالجین نے کہاکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز خاص کر موبائیل فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بچے اور معمر شہری مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں ۔
ڈاکٹر رازدان نے اس موقع پر کہاکہ موبائیل فون کے برے اثرات سے بچنے کی خاطر سائیکلنگ، تیراکی، ورزش ، فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کی طرف لوگوں کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
اطلاعات کے مطابق امر سنگھ کلب سری نگر میں ڈیجیٹل ایڈکشن (ایک وبائی بیماری)کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد ہوا۔
کلب کے سیکریٹری ناصر حامد خان نے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر سشیل رازدان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر صاحب کے والد مرحوم ست لال رازدان جنہیں پیار سے ماسٹر جی کے نام سے بھی جانا جا تا تھا نے اپنی رہنمائی کے ذریعے کشمیری سماج کی کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر سشیل رازدان نے اپنے والد مرحوم کے مشن کو آگے بڑھایا اور کشمیر ی لوگوں کے لئے محبت اور احترام کے رشتوں کو مزید مضبوط و مستحکم کیا۔
ان کے مطابق کشمیری عوام ڈاکٹر رازدان کے خاندان کے مقروض ہیں۔
اس موقع پر ظفر شاہ نے کہاکہ اگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو اس کا حل کیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے والدین ، عوام الناس اور حکومت کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
ظفر شاہ کے مطابق آج کل بچے زیادہ تر وقت ان ہی اسکرینوں پر صرف کرتے ہیں اور اس کا ان پر اثر پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ موبائیل فون کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والی جسمانی کیفیت کے علاوہ اس سے بچے کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق سری نگر میں پیدل چلتے یا پھر گاڑی چلاتے ہوئے دس لڑکیوں اور لڑکوں میں سے سات موبائیل فون کا استعمال کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں ۔
پروگرام سے خطاب کے دوران معروف معالج ڈاکٹر سشیل رازدان نے کہاکہ گزشتہ چند دہائیوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
پہلے ہم ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے لیکن آج کل ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کر رہی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ۔
انہوں نے شرکاءسے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دور میں پید ا ہونے یا پرورش پانے والے بچوں کو ڈیجیٹل مقامی کہا جاتا ہے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آج کل ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرنے کو ترجیح دی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی ، جسمانی اور تعلیمی نشود نما پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر سشیل رازدان نے کہاکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال بچوں کو نشے میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہا ہے اور ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹوں کے ذریعے اب یہ بات سائنسی طورپر بھی ثابت ہو چکی ہے ۔
عمر رسیدہ لوگوں کی طرف سے ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے حوالے سے ڈاکٹر سشیل رازدان نے کہاکہ اس کے نتیجے میں جسمانی اور نفسیاتی بیماری جیسے سردرد، گردن میں درد ، نیند میں خلل ، بے چینی، اداسی، جنونی کیفیت ، سماجی میل جول میں کمی اور جاریحانہ رویہ پیدا ہورہا ہے۔
ڈاکٹر رازدان نے حاضرین کو بتایا کہ جب تک بچہ پانچ سال کی عمر پار نہ کریں تب تک اس کو موبائیل فون کے استعمال سے دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہاکہ بچوں کو بیرونی سرگرمیاں جیسے سائیکلنگ، تیراکی، ورزش ، فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کی طرف راغب کریں ۔
ڈاکٹر قیصر احمد نے اس موقع پر کہاکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کا مسلہ دراصل ایک سے 18سال کی عمر کے افراد میں کافی سنگین پایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چار سے چھ سال کے بچے فون پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا دماغ متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ موبائیل فون کے استعمال سے آنکھوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں ان کے ذہن ڈیجیٹل ڈیوائس کو اپنے والدین سمجھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بصارت اور سماعت کی خرابی، موٹا پا، ہابیر ایکٹیویٹی، بچوں میں زیادہ جاریحانہ رویہ ، ڈپرشن اور پریشانی ، سماجی مہارتوں اور تعلقات میں کمی اور یاداشت کم ہونے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
ڈاکٹر نوید شاہ نے اس موقع پر کہاکہ آج کل یہ مسئلہ صرف بچوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بڑوں اور بزرگوں کا بھی یہی حال ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کی وجہ سے جسم کمزور ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف بیماریاں بھی سماج میں پھیل رہی ہے۔
ان کے مطابق والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو موبائیل فون کے استعمال سے پرے رکھنے کی کوشش کریں ۔
انہوں کے مطابق ڈیجیٹل لت کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور متوازن طرز زندگی کی وکالت کرنا ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔
ڈاکٹر ماجد شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سمارٹ فونز کے زیادہ استعمال سے نیند میں کمی، ڈپرشن، اضطراب اور دوسری بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل میڈیا کے صحت مند استعمال کے بارے میں بچوں اور بڑوں کے لئے طبی رہنما خطوط ناگزیر ہے۔
انہوں نے آسٹریلیا کی مثال دی جہاں 16 سال کی عمر تک سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے استعمال کے لیے رہنما اصولوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اسے غیر منظم ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے بچوں کی پرورش مناسب ماحول میں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر طارق ترمبو نے اپنے طبی تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں بہت سے عضلاتی امراض ظاہر ہو رہے ہیں، خاص طور پر گردن میں درد ۔
انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ جب ہم اپنے اسمارٹ فون کو دیکھنے کے لیے اپنی گردن کو موڑتے ہیں تو گردن کا ساٹھ ڈگری موڑ آپ کی گردن پر 27 کلوگرام کے برابر بوجھ ڈالتا ہے جو آپ کے پہلووں کے جوڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جوڑوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر نجیب درابو نے بتایا کہ اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں کلائی کے اعصاب میں پھنسنے، گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل میں مبتلا مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے خود ڈیجیٹل استعمال کے اثرات کو محسوس کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی توجہ کا دورانیہ کم ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر خورشید احمد نے کہا کہ اسمارٹ فونز کا انحصار ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اور اب یہ نہ صرف ایک دوسرے سے رابطے کے آلات ہیں بلکہ ایک سماجی ضمنی ڈیوائس میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری آنکھیں سب سے پہلے اس سے متاثر ہونے والے اعضا ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
