ہندوستان
طلباء اور والدین کو نمبروں پر زور نہیں دینا چاہئے، بچوں کی منفرد صلاحیتوں کو پہچانیں: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کلاس 10 اور 12 کے طلباء، ان کے والدین اور اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ نمبروں کے بارے میں دباؤ نہ ڈالیں اور بچوں کی منفرد صلاحیتوں کو پہچان کر اور ان کو نکھارنے میں مدد کریں یہاں سندر نرسری میں بچوں کے ایک گروپ کے ساتھ امتحانات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے ان کے حوصلے بڑھانے کے لیے حوصلہ افزا خیالات کا اشتراک کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ اگر ہم اسکول میں مخصوص نمبر نہیں لائے، دسویں اور بارہویں میں مخصوص نمبر نہیں لائے تو ہماری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ اس لیے پورے گھر میں تناؤ ہوجاتا ہے، ایسے میں آپ کو خود کو تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اس تناؤ کو اپنے ذہن میں نہ لیں اور فیصلہ کریں کہ آج آپ کو کتنی پڑھائی کرنی ہے… اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ خود کو اس تناؤ سے آزاد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ صفائی کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن گندگی پیدا کر رہے ہیں تو آپ لیڈر نہیں بن سکتے۔ لیڈر بننے کے لیے سمجھداری اور صبر کے ساتھ ٹیم ورک ضروری ہے۔ آپ کو اپنے ساتھیوں کے لیے وہاں ہونا ضروری ہے، اور اس سے اعتماد آئے گا۔ یہ اعتماد آپ کی قیادت کو یقینی بنائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا، “آپ احترام کا مطالبہ نہیں کر سکتے، آپ کو عزت حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے لیے خود کو بدلنا ہو گا۔ قیادت مسلط نہیں ہوتی، آپ کے اردگرد کے لوگ آپ کو قبول کرتے ہیں۔ لیڈر بننے کے لیے ٹیم ورک سیکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’تعلیم ہمہ گیر ترقی کے لیے ہے۔ طلباء کو دیواروں کے اندر قید نہیں ہونا چاہیے۔ بڑھنے کے لیے، انہیں اپنے جذبات کو دریافت کرنے کی آزادی کی ضرورت ہے۔ اس خیال کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے کہ امتحان ہی سب کچھ ہے۔ ہم روبوٹ کی طرح نہیں رہ سکتے، ہم انسان ہیں۔ آخر اسی لیے ہم پڑھتے ہیں… آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم ہر سطح پر اپنی ہمہ جہت ترقی کے لیے مطالعہ کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا، ‘اپنے دوستوں کی مدد کرنے کے لیے، اچھی چیزیں تلاش کریں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ان سے بات کریں۔ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے لکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ایک استاد کا کام ہر طالب علم کی منفرد صلاحیتوں کو دریافت کرنا اور ان کو نکھارنا ہوتا ہے۔ لوگوں میں اچھائی تلاش کرنے سے آپ کو ہر چیز میں مثبتیت تلاش کرنے کی عادت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ وقت کے انتظام کے لیے، دن کے کاموں کو لکھیں اور ٹریک کریں کہ کتنے مکمل ہوئے ہیں۔ ان موضوعات کا مطالعہ کرکے شروع کریں جو آپ کو سب سے مشکل لگتے ہیں۔”
وزیر اعظم نے کہا، ’’اگر آپ (اساتذہ، والدین) بچوں کو دیواروں میں قید کر لیں اور کتابوں کی جیل بنائیں تو بچے بڑھ نہیں سکتے۔ بچے کھلا آسمان چاہتے ہیں، وہ اپنی پسند کی چیزیں چاہتے ہیں۔ اگر وہ اپنے پسندیدہ کام اچھے طریقے سے کرے گا تو وہ پڑھائی بھی اچھی کرے گا۔ امتحان ہی زندگی کا سب کچھ ہے، ایسے جذبات کے ساتھ نہیں جینا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ سب سے قیمتی ٹپ یہ ہے: حال میں جیو۔ اگر وہ لمحہ چلا جائے تو وہ ماضی بن جاتا ہے، لیکن اگر ہم اس لمحے کو جیتے ہیں تو وہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ پریشانی سے نمٹنے کے لیے، اپنے جذبات اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں بلکہ ان کے جذبے کی حمایت کریں، کیونکہ ہر بچے میں منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ مہارت کی نشوونما پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ ان کی طاقتوں کو دریافت کرنے میں مدد ملے۔
انہوں نے بچوں سے کہا کہ “خود کو الگ تھلگ نہ کریں،” ۔ اپنے آپ کو متحرک کرنے کے لیے دوسروں کی مدد لیں۔ مدد کے لیے کنبہ کے اراکین یا بزرگوں سے رابطہ کریں۔ خود کو چیلنج کریں اور ایک مقصد طے کریں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ایک اسٹریم کا انتخاب کرتے وقت، اپنے والدین کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان سے مشورہ لیں۔ اس کے بعد ان کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے کی کوشش کریں۔ امتحان میں وقت کا انتظام کرنے کے لیے، پچھلے سال کے سوالات کی مشق کریں۔ ہمیں ایسا طرز زندگی اپنانا چاہیے جو آب و ہوا اور فطرت کی حفاظت کرے۔ ہم درختوں کی پوجا کرتے ہیں اور دریاؤں کو ماں سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنی ثقافت پر فخر ہونا چاہیے۔ ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ مہم ماؤں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ ماں کے نام پر درخت لگائیں۔ اس سے درخت لگانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
یو این آئی۔م ع۔1455
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
