دنیا
ڈھائی صدی سے رائج ’’پینی‘‘ امریکا پر کیسے بوجھ بن گئی؟ صدر ٹرمپ کا نیا حکم جاری
واشنگٹن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینی (ایک سینٹ کا سکا) کو امریکی خزانے پر بوجھ قرار دیتے ہوئے محکمہ خزانہ کو نئے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
ارب پتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے دوسری مدت کے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، تب سے ان کے کیے گئے فیصلے تنقید کی زد میں آ رہے ہیں۔
اب صدر ٹرمپ نے تقریباً ڈھائی صدی سے امریکی معیشت میں استعمال ہونے والی پینی (ایک سینٹ کا سکہ) کو امریکی خزانے پر بوجھ قرار دیتے ہوئے محکمہ خزانہ کو یہ نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا ہے، تاہم پرانے سکے مارکیٹ میں موجود رہیں گے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا سائٹ ’‘ ٹروتھ سوشل’’ پر ٹرمپ نے نے پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’طویل عرصے سے امریکا ایک سینٹ کا سکہ بنانے میں دو سینٹ سے زائد کی لاگت آ رہی ہے، اس لیے یہ سکا امریکی خزانے پر بوجھ ہی ہے۔‘‘
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں مزید بتایا کہ انہوں نے سیکریٹری آف یو ایس ٹریژری کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے سکے بنانا بند کر دیں۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک سینٹ کا سکہ ختم کرنے کی اپنی خواہش کا کبھی ذکر نہیں کیا تھا لیکن ان کے حکومتی کارکردگی کے محکمے کے نگران ایلون مسک نے پچھلے مہینے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ایک پینی (سینٹ) کا سکہ ڈھالنے پر اٹھنے والے اخراجات سے متعلق سوال اٹھایا تھا۔
امریکی ٹکسال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 2024 کے مالی سال کے دوران جو 30 ستمبر کو ختم ہوا تھا، ایک سینٹ کے تین ارب 20 کروڑ سکے ڈھالنے پر 8 کروڑ 53 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ تفصیل کے مطابق ایک سینٹ کا سکہ ڈھالنے پر لگ بھگ پونے چار سینٹ خرچ ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں ایک سینٹ کے سکے کا پہلی بار اجرا 1793 میں کیا گیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
تل ابیب، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایویگاڈور لیبرمین نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ منگل کے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی جماعت ‘یسرائیل بیتینو’ کے رہنما لیبرمین نے اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اپنے خط میں لیبرمین نے کہا کہ نیتن یاہو گزشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام پر ایسے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
لیبرمین نے لکھا کہ “گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان پر ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کا باعث بن سکتے ہیں۔”
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے اسرائیل کو ایک اور جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “انتخابات کے موقع پر ریاستِ اسرائیل کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش، اور محض انتخابی شکست کے خوف سے آئی ڈی ایف کے سپاہیوں کو قربان کرنے کی آمادگی، ریاست، اس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی ایف کے جوانوں کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میں غداری کے شبہ میں نیتن یاہو کے خلاف فوری طور پر مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
اسرائیلی اخبار ‘معاریو’ کے مطابق، اس سے قبل پیر کو لیبرمین نے اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن 103FM کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔
لیبرمین نے نیتن یاہو پر انتخابی شکست کے خوف سے فوجیوں کی جانیں قربان کرنے پر آمادگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “نیتن یاہو واضح طور پر ریاست کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور وہ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اب تک کی بے مثال کشیدگی کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کی نیتن یاہو کی کوششوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اس طرح کے کشیدہ تعلقات پہلے کبھی نہیں رہے جیسے آج ہیں۔
لیبرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا فوجی اقدام جو ممکنہ طور پر جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہو، اسرائیلی قانون کے تحت حکومتی غور و خوض اور منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کے جواز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا، اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں شدید اندرونی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم بیک وقت نیتن یاہو کی جانب سے سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی تیز تر کوششیں دیکھ رہے ہیں، چاہے اس کی قیمت شدید اندرونی تصادم، خانہ جنگی اور ریاست کی تباہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔”
لیبرمین نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو انتخابات ہارنے کے امکان سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، “نیتن یاہو بھی جانتے ہیں کہ وہ ہارنے والے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ تمام تر گھبراہٹ اور ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
لیبرمین کے الزامات پر نیتن یاہو کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ڈرون حملوں میں بیلگوروڈ میں زخمی شہریوں کی تعداد 18 ہوگئی: گورنر
بیلگوروڈ، روسی شہر بیلگوروڈ میں 25 اکتوبر کو یوکرین کے ڈرون حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی ہے۔ گورنر الیگزینڈر شووایف نے پیر کو بتایا کہ پانچ مزید افراد نے اسپتالوں میں علاج کے لیے رجوع کیا۔
اتوار کو یوکرینی مسلح افواج نے بیلگوروڈ پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس میں دو شہری ہلاک اور ایک طبی امدادی کارکن سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ روسی تحقیقاتی کمیٹی نے اس واقعے کے سلسلے میں دہشت گردی کے شبہے میں مجرمانہ تحقیقات شروع کی ہیں۔
شووایف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میکس پر کہا، ”تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رات کے وقت بیلگوروڈ پر ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔”
گورنر کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ افراد نے اسپتالوں میں علاج کرایا، جن میں 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ ان سبھی کو دھماکے سے ہونے والی چوٹوں کی تشخیص کے بعد علاج کرکے اسپتال سے رخصت کردیا گیا۔
شووایف نے بتایا کہ علاقے کے دیگر مقامات پر یوکرینی حملوں میں بھی 14 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلگوروڈسکی، گرے وورونسکی اور شیبیکنسکی اضلاع میں مجموعی طور پر 14 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
گورنر کے مطابق، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا7 days agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoروبِیو کا دورۂ ازبکستان، وسطی ایشیا کی متنوع شراکت داروں کی تلاش کا عکاس
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
