ہندوستان
ہندوستانی نوجوانوں کو فزیکل اے آئی میں مہارت دلانے کے لئے نیکسٹ ویو کی اہم شراکت داری
نئی دہلی، یہ شراکت داری تکنیکی قیادت کی سمت ہندوستان کے سفر میں ایک اہم لمحہ کی نشاندہی کرتی ہے اپنے نوجوانوں کو جدید خود مختار گاڑیوں کی مہارت فراہم کرکے ہم نہ صرف ہنر کی کمی کو پورا کر رہے ہیں بلکہ ہندوستان کو فزیکل اختراعات کے لئے ایک عالمی مرکز کے طور پر بھی قائم کر رہے ہیں یہ مستقبل کے لئے تیار افرادی قوت بنانے کے این ایس ڈی سی کے مقصد کے عین مطابق ہے جو ترقی پذیر ٹیکنالوجیوں میں ملکی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہاراین ایس ڈی سی کے سی ای او اور این ایس ڈی سی انٹرنیشنل کے ایم ڈی مسٹر وید منی تیواری نے نیکسٹ ویوکی این ایس ڈی سی اور ٹیئر فور کے ساتھ شراکت داری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شمولیت اور رسائی کو یقینی بناتے ہوئے یہ پروگرام ہندوستان بھر کے طلباءکے لئے آن لائن اور آف لائن طریقوں سے دستیاب ہوگا اور علاقائی زبانوں میں مقامی مواد فراہم کرے گا۔ نیکسٹ ویو اپنے تعاون سے حاصل کردہ علم کو یکجا کرکے اور نئے خصوصی کورس متعارف کرا کر اپنے اے وی نصاب کو بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے۔اس ساجھے داری کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیکسٹ ویو کے بانی اور سی ای او مسٹر راہل اتولوری نے کہاکہ یہ شراکت داری مستقبل کے لئے تیار افرادی قوت سازی کے ہمارے مقصد کے مطابق ہے۔
نیکسٹ ویوابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں ہندوستان کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے میں ایک رہنما نے ٹیئر فوراور آٹوویئر فاو¿نڈیشن کے ساتھ اپ اسکل انڈیا 4.0 چلانے کے لیے شراکت کی ہے، جواین ایس ڈی سی کی ساجھے داری میں شروع کی گئی ہے۔ اس بے مثال شراکت کا مقصد پوری دنیا میں ہونے والے فزیکل اے انقلاب میں ہندوستان کو ایک رہنما کے طور پر کھڑا کرنا ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد تعلیمی نصاب اور صنعت کی ضروریات کے درمیان تفاوت کو ختم کرکے تیزی سے بڑھتے ہوئے خود مختار گاڑیوں کے شعبے میں ہندوستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے لئے تیار ہنر فراہم کرنا ہے۔”ٹیئر IV اورآٹوویئر کی جدید اوپن سورس ٹیکنالوجی کے ساتھ نیکسٹ ویو کے جامع اپ اسکلنگ فریم ورک کے ساتھ مل کر ہمیں اے وی اور فزیکل اے آئی اختراع میں ہندوستان کو مضبوط رتبہ دلانے کا یقین ہے۔
مصنوعی ذہانت اور حقیقی دنیا کے فزیکل نظام کو یکجا کر کے فزیکل اے کا مقصد نقل و حمل، لاجسٹکس، صحت کی دیکھ بھال اور مینوفیکچرنگ جیسی صنعتوں کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اے آئی پر مبنی نقل و حرکت کے حل کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتا ہے بلکہ نوجوان اختراع کاروں کو ہنر مند تجربہ اور عالمی سطح پر متعلقہ مہارت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ذہین خود مختار نظام بنائے جو موثر، محفوظ اور اختراعی ہوں۔
یہ مہم مہارت کے فرق کو ختم کرنے اور اے وی ٹیکنالوجی میں جدت کو فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اے وی ڈیولپر کمیونٹی کا مقصد ہندوستان میں ٹیلنٹ کو درپیش بنیادی چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ اس کا مقصد اے وی ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہی کے فرق کو پر کرنا، صنعت اور اکیڈمی کے درمیان فرق کو ختم کرنا اور اے آئی سے چلنے والی نقل و حرکت میں عالمی سطح پر قابل افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے، ہندوستان فزیکل اے آئی انقلاب کی قیادت کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہاں دنیا بھر سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا اور تحقیق کو فروغ ملے گا جس سے مختلف شعبوں میں تکنیکی ترقی ہوگی۔
اس شراکت داری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹیئرفورکے بانی اور سی ای او اور آٹو ویئر فاو¿نڈیشن کے چیئرمین مسٹر شنپی کاٹو نے کہاکہ ہمارا مقصد ہمیشہ خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کی تعیناتی کو بڑھانا رہا ہے۔ نیکسٹ ویو کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے ہم نظریاتی علم اور عملی اطلاقات کو یکجا کرکے نئے دور کے اختراع کاروں کو تیار کرنے کے لیے اپنی مہارت کو منظم نصابات میں لانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر ٹیئر فور شمالی امریکہ کے صدراور چیئر، اسٹریٹجک پلاننگ کمیٹی، آٹو ویئر فاونڈیشن کے صدر مسٹر کرسچن جان نے کہاکہ آٹو ویئر فاونڈیشن میں ہمارا مشن عالمی تعاون کے ذریعے اوپن سورس خود مختار ڈرائیونگ کو آگے بڑھانا ہے۔ نیکسٹ ویو اوراین ایس دی سی کے ساتھ یہ شراکت داری ہندوستانی طلباءکے لیے ایک پلیٹ فارم بنائے گی تاکہ وہ جدید تحقیق کرتے ہوئے اور خود مختار نقل و حرکت میں جدت طرازی کو تیز کرنے کے لیے عالمی اے وی ڈیولپر کمیونٹی میں شامل ہو کر تجربہ حاصل کر سکیں۔خیال رہے کہ ٹیئر فورکا صدر دفتر جاپان میں ہے۔اس نے خود مختار ڈرائیونگ کے لیے دنیا کے پہلے اوپن سورس سافٹ ویئر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا اور آٹو ویئر جو خود مختار ڈرائیونگ کے لیے دنیا کا سب سے بڑا اوپن سورس سافٹ ویئر پروجیکٹ ہے۔ نیکسٹ ویوکے اس تعاون کا مقصد دنیا کی سب سے بڑی خود مختار گاڑی (اے وی) ڈیولپر کمیونٹی کو باقاعدہ بنانا ہے۔
یو این آئی۔ ع خ۔م الف
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
