جموں و کشمیر
مذہبی تنظیموں،سیول سوسائٹی اور تاجر انجمنوںکی کال پر مہلوک سیاحوں وعام شہریوں کے لواحقین کیساتھ مکمل اظہار یکجہتی
پورے جموں وکشمیرمیں ماتمی اور احتجاجی ہڑتال،ماحول سوگوار
جموں شہر میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ، پاکستان مخالف نعرے ،حملہ آوروں کیخلاف فوری اور موثر کارروائی کامطالبہ
سری نگر، جے کے این ایس : جنوبی کشمیرمیں واقع مشہورسیاحتی مقام پہلگام کی مضافاتی وادی بایسران (بیتاب ویلی)میں منگل کومشتبہ ملی ٹنٹوں کے ہاتھوں 26معصوم اور نہتے سیاحوں اور دیگر عام شہریوں کی بہیمانہ ہلاکت نیز سبزہ زار کو لہولہان کرنے کیخلاف بدھ کے روز پورے جموں وکشمیر میں مختلف مذہبی تنظیموں ،تاجر ودیگر انجمنوں کی کال پرمکمل ہڑتال رہی ۔ہڑتال کال کی حمایت حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی سمیت تمام سیاسی پارٹیوںنے کی تھی اور لوگوںسے اپیل کی گئی کہ وہ اس ہڑتال کو کامیاب بناکر مہلوکین کے لواحقین کیساتھ مکمل یکجہتی کااظہار کریں ۔
یادرہے دہشت گردوں نے منگل کو جنوبی کشمیر کے پہلگام میں ایک اہم سیاحتی مقام وادی بایسران (بیتاب ویلی) پر اچانک حملہ کیا، جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔جے کے این ایس کے مطابق بدھ کو صبح سے ہی پوری کشمیر وادی بشمول گرمائی راجدھانی سری نگرمیں معمول کی زندگی مفلوج رہی ،سڑکیں اور بازار سنسان دکھائی دے رہے تھے ،نجی اسکول بندتھے جبکہ سرکاری تعلیمی اداروںمیںحاضری بہت کم تھی ۔شہر سری نگر میں زیادہ تر دکانیں، فیول اسٹیشن اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔ شہر بھر میں صرف اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی نظرآئیں۔لوگوںنے بتایاکہ اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی کم تھی، لیکن نجی گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ وادی بھر میں پرائیویٹ اسکول بھی بند تھے، لیکن سرکاری اسکول کھلے تھے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر وادی کے دیگر ضلع ہیڈکوارٹروں میں بھی بند کا مکمل اثر دیکھا گیا۔وادی میں کئی مقامات پر پرامن احتجاج بھی کیا گیا، مظاہرین نے حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے معصوم لوگوں کے قتل کو روکنے کا مطالبہ کیا۔کئی سیاسی جماعتوں، سماجی مذہبی تنظیموں، تجارتی اداروں اور سول سوسائٹی کے گروپوں نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سیاحتی مقامی پہلگام کی وادی بایسران دہشت گردانہ حملے کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے کشمیر میں بند کی کال دی تھی۔حکمران نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، پیپلز کانفرنس، اور اپنی پارٹی ان سیاسی تنظیموں میں شامل تھیں جنہوں نے حملے کے خلاف احتجاج کے لیے بند کی حمایت کی۔متحدہ مجلس علماء( متعدد مذہبی اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم) جس کی سربراہی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کررہے ہیں،نے جموں کشمیر کے لوگوں سے بدھ کو بند کرکے اس گھناو ¿نے جرم کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔میرواعظ نے منگل کی شام کو کہاکہ متحدہ مجلس علما کے ذریعے جموں و کشمیرکی اسلامی برادری ہلاک ہونے والوں کے غمزدہ خاندانوں کی حمایت اور یکجہتی کے طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ کل بند کے ذریعے اس گھناو ¿نے جرم کے خلاف پرامن احتجاج کریں۔کشمیر کے تجارتی اور سیاحتی اداروں بشمول کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن نے بھی بند کی کال دی تھی۔متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ احترام اور یکجہتی کے طور پر، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن آف جموں و کشمیر نے بدھ کو جموں و کشمیر میں تمام نجی سکولوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا۔کشمیر یونیورسٹی نے بدھ کو ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دئیے۔ادھر پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے خلاف بدھ کو جموں خطہ کے کئی حصوں نے مکمل بند منایا۔ حکام نے بتایاکہ جموں شہر کے علاوہ ریاسی، ادھم پور، کٹرا، کٹھوعہ اور سانبہ میں بھی بند منایا گیا۔جموں شہر کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، بہت سے مظاہرین نے پاکستان مخالف نعرے لگائے۔جموں شہرمیں تمام اہم بازار بندرہے ،دکانات ،شورومز اوردیگر تجارتی اداروں کو مقفل رکھاگیا تھا جبکہ سڑکوں پر معمول سے کم تعدادمیں گاڑیاں چلتی نظرآرہی تھیں۔اس دوران مختلف سیاسی وغیرسیاسی جماعتوں کے کارکنوںنے ہلاکتوں کیخلاف احتجاج بھی کیا ۔ریاسی میں سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مارچ کیا اور ٹائر جلائے۔معلوم ہواکہ بند کے باعث جموں شہر میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ متعدد سول سوسائٹی گروپوں اور تجارتی اداروں کی طرف سے دی گئی بند کال کے جواب میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بند رہا۔کئی تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں حاضری معمول سے کم رہی۔ جموں بار ایسوسی ایشن نے بھی ہلاکتوں کے خلاف بند منایا۔
جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، وشو ہندو پریشد ، ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن، جموں بار ایسوسی ایشن، اور کانگریس سمیت کئی تنظیموں نے جموں میں مکمل بند کی کال دی تھی۔ایک پولیس افسر نے کہا،کہ جموںمیں بند کے دوران صورتحال معمول پر رہی۔ خطے میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔انتظامیہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کمیونٹی رہنماو ¿ں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔حکام نے بتایا کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی تعیناتیاں حساس مقامات پر کی گئیں، جبکہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے چوکیاں قائم کی گئیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
