جموں و کشمیر
1971کی ہندپاک جنگ کے بعدملک میں اپنی نوعیت کی پہلی بڑی شہری دفاعی مشق مرکزی داخلہ سیکرٹری نے لیا تیاریوں کا جائزہ
آج جموں وکشمیر سمیت کئی ریاستوں کے تقریباً250اضلاع میں مورک ڈرل کاانعقاد
عوامی تربیت، بلیک آو ٹ، اہم ڈھانچوںکی چھپائی اور انخلاءکے منصوبوںکی تازہ کاری شامل
سری نگر:جے کے این ایس : پہلگام حملے کے بعد پاکستان کیساتھ بڑھتی سفارتی وسرحدی کشیدگی کے بیچ مرکزی حکومت نے ایک غیر معمولی اقدام کے تحت پیر کو کئی ریاستوں کو ہدایت کی کہ وہ بدھ، 7 مئی کو شہری دفاع کی تیاریوں کو بڑھانے کےلئے سیکورٹی کی فرضی مشقیں کریں۔قابل توجہ ہے کہ یہ شہری دفاعی یافرضی مشق ،1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی مشق ہے۔معلوم ہواکہ سرحدی ریاستوںمیں بدھ کوموک ڈرل 244 اضلاع میں کرائی جائے گی۔یہ بھی معلوم ہواکہ عوامی مقامات، اسکولوں، مالوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹانڈوں اور دیگر پرہجوم علاقوں میں7 مئی کو موک ڈرل کی جائے گی۔ اس کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عام لوگوں، سیکورٹی اہلکاروں اور ریسکیو ٹیموں کے فوری ردعمل اور تیاریوں کو جانچنا ہے۔اس دوران مرکزی داخلہ سیکرٹری گووندموہن نے منگل کومتعلقہ ریاستوںکے چیف سیکرٹریوں اور اور ملک بھر سے سول ڈیفنس کے سربراہان کیساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شہری دفاع کے میکانزم کو مضبوط بنانے کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کی ملک گیر مشق کے لئے پانچ اہم ہدایات میں فضائی حملے کے سائرن کو چالو کرنا،شہری دفاع کے پروٹوکول پر عوامی تربیت، کریش بلیک آو ٹ کا نفاذ، اہم بنیادی ڈھانچے کی چھپائی اور ریہرسل اور انخلاءکے منصوبوں کی تازہ کاری شامل ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن منگل کو شہری دفاع کے میکانزم کو مضبوط بنانے کی تیاریوں کا جائزہ لیا، جس میں فضائی حملے کے وارننگ سائرن پر فرضی مشقیں کرنا، دشمنانہ حملے کی صورت میں شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے تربیت دینا اور بنکروں اور خندقوں کی صفائی شامل ہے۔پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناو ¿ کے درمیان ابھرنے والے نئے اور پیچیدہ خطرات کے پیش نظر وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں سے بدھ کو فرضی مشقیں کرنے کو کہا ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکزی داخلہ سیکرٹری نے متعلقہ ریاستوںکے چیف سیکرٹریوں اور اور ملک بھر سے سول ڈیفنس کے سربراہان کیساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے244اضلاع میں سول ڈیفنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ شہری دفاعی یاحفاظتی مشق یعنی مورک ڈرل کے تحت دیگر اقدامات کریش بلیک آو ¿ٹ کے اقدامات، اہم پلانٹس اور تنصیبات کی جلد چھپائی اور انخلاء کے منصوبوں کو اپ ڈیٹ اور ریہرسل کرنے کے انتظامات ہیں۔فرضی مشقوں میں ہندوستانی فضائیہ کےساتھ ہاٹ لائن اور ریڈیوومواصلاتی روابط کو فعال کرنا، کنٹرول رومز اور شیڈو کنٹرول رومز کی فعالیت کی جانچ کرنا بھی شامل ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل فائر سروس، سول ڈیفنس اور ہوم گارڈز کے خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں، نئے اور پیچیدہ خطرات وچیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں، لہذا، یہ سمجھداری کی بات ہوگی کہ ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شہری دفاع کی بہترین تیاری ہر وقت برقرار رکھی جائے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے7 مئی کو ملک کے 244 زمرہ بند سول ڈیفنس اضلاع میں سول ڈیفنس مشق اور ریہرسل منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خط میں کہا گیاکہ مشق کے انعقاد کی منصوبہ بندی گاو ¿ں کی سطح تک کی گئی ہے۔ اس مشق کا مقصد تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شہری دفاع کے طریقہ کار کی تیاری کا جائزہ لینا اور اسے بڑھانا ہے ۔
اس میں کہا گیا ہے کہ مشق میں ضلعی کنٹرولرز، مختلف ضلعی حکام، سول ڈیفنس وارڈنز، رضاکاروں، ہوم گارڈز (ایکٹو اور ریزروسٹ رضاکار)، نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی)، نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس)، نہرو یووا کیندر سنگٹھن (این وائی کے ایس)، کالج اور اسکول کے طلباءکی فعال شرکت کا تصور کیا گیا ہے۔اس نے کہاکہ مذکورہ سول ڈیفنس مشق کا مقصد مختلف شہری دفاعی اقدامات کی آپریشنل افادیت اور آپریشنل کوآرڈینیشن کا جائزہ لینا ہے۔موک ڈرل کیا ہے؟:موک ڈرل پہلے سے منصوبہ بند مشق ہوتی ہے جس میں کسی آفت یا خطرے کی صورت حال کو ڈرامائی طور پر نقل کیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس وقت لوگ کیا ردعمل ظاہر کریں گے۔موک ڈرل کے دوران کئی بار حقیقت پسندانہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جیسے کہ کہیں آگ لگی ہو، دہشت گرد حملہ ہوا ہو یا زلزلہ آ گیا ہو۔ لوگوں کو بحفاظت نکالنے اور اس صورت حال میں امدادی کارروائیاں کرنے کا پورا عمل سنجیدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔موک ڈرل کیوں ضروری ہیں؟:کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال اور ایمرجنسی کے لیے ہمیشہ تیار رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ان تیاریوں کو انتظامیہ موک ڈرل کے ذریعہ چیک کرتی ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں عام لوگ کیسا رویہ اختیار کریں گے؟، سیکورٹی اور ریسکیو ٹیمیں کتنی تیزی سے رد عمل دیتی ہیں؟ علاقوں کے موجودہ سیکیورٹی ٹولز اور الرٹ سسٹم کتنے موثر ہیں۔موک ڈرل کس طرح کی جاتی ہے؟:موک ڈرل کے دوران مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ پہلے سے طے شدہ وقت پر الارم یا الرٹ کی آواز آتی ہے، لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ صورتحال کیا ہے، جیسے کہ آتشزدگی، بم کا گرنے یا پھٹنے کا خطرہ یا زلزلہ، سب کو تیزی سے اور محفوظ طریقے سے نکالنے کی مشق، فائر بریگیڈ، این ڈی آر ایف، پولیس اور طبی ٹیمیں جائے واقعہ پر فوری پہنچتی ہیں اور موک ڈرل کے دوران پورے عمل کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس میں کتنا وقت لگا، کیا کوتاہیاں تھیں، اور کیا بہتر کیا جا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
