جموں و کشمیر
سرحدی کشیدگی: پونچھ میں 12 شہری ہلاک، درجنوں زخمی، لوگ محفوظ مقامات کی اور منتقل
سری نگر،پاکستانی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کی گئی شدید شیلنگ کے نتیجے میں بدھ کو جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں کم از کم 12 عام شہری ہلاک اور 60 دیگر زخمی ہو گئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، سب سے زیادہ تباہی پونچھ ضلع میں دیکھی گئی جہاں تمام ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ متعدد دیہات میں گھروں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام نے بتایا کہ یہ شیلنگ ہندوستانی افواج کی جانب سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب “آپریشن سندور” کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر میں واقع دہشت گرد تنظیموں کے نو ٹھکانوں پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد شروع ہوئی۔
معلوم ہوا ہے کہ پونچھ کے بالاکوٹ، مینڈھر، کرشنا گھاٹی، گلپور اور کرنی علاقوں میں شیلنگ سب سے زیادہ شدید رہی۔ حکام کے مطابق، پونچھ بس اسٹینڈ تک کو نشانہ بنایا گیا، جہاں کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور متاثرہ افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مہلوکین کی شناخت بلوندر کور عرف روبی، محمد زین خان ، زویا خان ، محمد اکرم ، امرک سنگھ ، محمد اقبال ، رنجیت سنگھ ، شکیلہ بی ، امرجیت سنگھ ، مریم خاتون ، وہان بھارگو اور محمد رفعی کے بطور کی گئی ہے۔
ادھر بارہمولہ کے اُوڑی سیکٹر میں بھی گولہ باری سے دس افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ راجوری میں تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ کپواڑہ کے کرناہ سیکٹر میں گولہ لگنے سے کئی رہائشی مکانات میں آگ لگ گئی۔
ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار کے مطابق، جموں، سانبہ، کٹھوعہ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں آج تمام تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ اطلاعات نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ بھمبر گلی پونچھ اور راجوری میں پاکستانی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹلری فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا ۔
دریں اثنا پاکستانی افواج کی تازہ شیلنگ کے بعد جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں شہری اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پونچھ، راجوری، اور اوڑی کے متاثرہ علاقوں میں لوگ زیر زمین بنکروں، اسکولوں، پنچایت گھروں اور دیگر سرکاری عمارات میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ کئی خاندان رات کے وقت کھلے میدانوں میں قیام کرنے پر مجبور ہیں۔
حکام کے مطابق، پونچھ کے بالاکوٹ، کرنی، مینڈھر، گلپور، اور کرشنا گھاٹی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ نے شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ درجنوں مکانات، گاڑیاں اور دیگر املاک تباہ ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے ان علاقوں سے لوگوں کو نکال کر قریبی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
متاثرین کو ابتدائی طور پر سرکاری اسکولوں اور پنچایت گھروں میں رکھا جا رہا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات، خوراک، پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، جن لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے ہیں، ان میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے۔ مرد حضرات اپنے علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے رُکے ہوئے ہیں۔ تاہم، شیلنگ کی شدت اور تواتر کے باعث مرد بھی محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ متاثرہ دیہات سے نقل مکانی کا سلسلہ رات گئے سے جاری ہے اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔’ہم نے ضلعی اور تحصیل سطح پر کنٹرول روم قائم کیے ہیں، جہاں لوگوں کی شکایات سننے اور امداد فراہم کرنے کے لیے ٹیمیں چوبیس گھنٹے موجود ہیں۔‘
دوسری جانب، فوج نے سرحدی دیہات میں پہلے سے بنائے گئے زیر زمین بنکروں کی حفاظت سخت کر دی ہے اور مقامی لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں بنکروں میں پناہ لیں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
