جموں و کشمیر
پونچھ ،راجوری ،کپوارہ ،بارہمولہ اضلاع کے سرحدی علاقوںمیں نقل مکانی اورشہریوںکی منتقلی
لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحدپرپاکستانی فوج کی گولہ باری اور اندھادُھند فائرنگ
4بچوں و2خواتین سمیت12عام شہری ہلاک،تقریباً50زخمی
سری نگر:جے کے این ایس : حکام نے بتایاکہ پاکستانی فوج نے بدھ کے روز جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ آگے کے دیہاتوں کو نشانہ بناتے ہوئے بھاری توپ خانے اور مارٹر گولہ باری کا سہارا لیا، 4بچوں اور 2خواتین سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔جے کے این ایس کے مطابق سرحد پار سے شدید گولہ باری اس کے فوراً بعد شروع ہوئی جب ہندوستانی مسلح افواج نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے9اہداف پر میزائل حملے کیے۔حکام نے بتایا کہ ہندوستانی فوج گولہ باری کا مناسب انداز میں جواب دے رہی ہے جس کے نتیجے میں دشمن کی جانب سے فائرنگ میں مصروف ان کی متعدد پوسٹوں کو تباہ کرنے کے بعد کئی جانی نقصان ہوا ہے۔
حکام نے بتایا کہپاکستانی گولہ باری میں سب سے زیادہ متاثر ضلع پونچھ تھا جس میں تمام9 شہریوں کی موت ہوئی، اور 28 افراد زخمی بھی ہوئے اور ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اندھا دھند گولہ باری نے سرحدی باشندوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا جو زیر زمین بنکروں میں پناہ لینے یا اپنے گاو ¿ں کے اندر یا باہر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ گولہ باری کی اطلاع پونچھ میں ایل او سی کے ساتھ ساتھ بالاکوٹ، مینڈھر، منکوٹ، کرشنا گھاٹی، گلپور، کیرنی اور یہاں تک کہ پونچھ ضلع ہیڈکوارٹر سے بھی ملی، جس کے نتیجے میں درجنوں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔حکام نے ابھی تک مرنے والوں کی شناخت33سالہ بلویندر کور عرف روبی ، 10سالہ محمد زین خان ، اس کی بڑی بہن12سالہ زویا خان ، 40سالہ محمد اکرم ، 55سالہ امریک سنگھ ، 45سالہ محمد اقبال ، 48سالہ رنجیت سنگھ ،40سالہ شکیلہ بی اور47سالہ امرجیت سنگھ کے طور پر کی ہے۔بارہمولہ ضلع کے اوڑی سیکٹر میں سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں5کمسن بچوں سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ ضلع راجوری میں 3 دیگر زخمی ہوئے، حکام نے بتایا کہ کپواڑہ ضلع کے کرناہ سیکٹر میں گولہ باری کی وجہ سے کئی گھروں میں بھی آگ لگ گئی۔اس دوران حکام نے بتایاکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سیکڑوں رہائشیوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کردیا گیا کیونکہ حکام نے شہریوں کو پاکستانی گولہ باری سے بچانے کے لیے جوابی اقدامات کیے تھے۔پاکستانی فوج نے جموں خطے کے پونچھ اور راجوری اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور کپواڑہ کے آگے دیہاتوں پر دن کے اوائل میں توپ خانے اور مارٹر گولوں سے گولہ باری کی جس میں 4بچوں اور 2خواتین سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ لیاقت علی، آئی بی کے قریب جوریاں گاو ¿ں کے رہائشی نے کہاکہ اگرچہ ہمارے گاو ¿ں میں سرحد پار سے فائرنگ نہیں ہوئی تھی، لیکن ہمیں آر ایس پورہ کے آئی ٹی آئی کالج میں منتقل ہونے کے لیے کہا گیا ہے جہاں موجودہ کشیدہ صورت حال کے پیش نظر حکومت کی طرف سے ہمارے قیام کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں ۔علی نے کہا کہ گاوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا اور ماضی میں بھی پاکستانی گولہ باری سے اسے زمین بوس کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے باہر جانے کے لیے کہا گیا ہے، اور ہم حکومت کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گاو ¿ں کی آبادی ایک ہزار سے زیادہ ہے، زیادہ تر دودھ اور دودھ کی مصنوعات بیچ کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام میں دہشت گردوں کے ذریعہ حالیہ شہری ہلاکتوں کے بعد وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مکمل جنگ سے خوفزدہ ہیں۔اکھنور سیکٹر میں ایل او سی کے قریب پرگوال سمیت گگریاں اور ملحقہ دیہات کے مکینوں نے بتایا کہ انہیں بھی حکام نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اطلاع دی ہے۔منشی رام نے کہاکہ ہم سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار گاو ¿ں میں آیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ کسی سرکاری رہائش گاہ میں پناہ لیں یا فی الحال کسی رشتہ دار کے گھر۔انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے سیکورٹی اداروں کی آنکھ اور کان ہیں لیکن موجودہ جنگ جیسی صورتحال نے سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔منشی رام نے کہاکہ حالات معمول پر آنے تک اس وقت کے لیے باہر نکلنا محفوظ ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں بالخصوص خواتین کی سہولت کے لئے ضروری انتظامات کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل کو متحرک کیا ہے تاکہ انہیں عارضی پناہ گاہوں میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔تاہم، پونچھ جیسے متاثرہ علاقوں میں صورتحال بالکل مختلف تھی جہاں لوگوں کو اپنے طور پر محفوظ علاقوں میں منتقل ہوتے دیکھا گیا۔سب سے زیادہ متاثرہ منکوٹ کے ایک رہائشی محمد ارشد نے کہاکہ ہماری رات بے خواب گزری۔انہوںنے بتایاکہ میں اپنے چھ افراد کے خاندان کو ایک رشتہ دار کے گھر منتقل کرنے کے لیے گولہ باری کے رکنے کا انتظار کر رہا تھا۔بدھ کی علی الصبح گاو ¿ں میں شدید گولہ باری سے ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، اور اس کی نابالغ بیٹی سمیت کئی دیگر زخمی ہوگئے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
