جموں و کشمیر
وزیردفاع راجناتھ سنگھ کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف،فوج ، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کیساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ
سرحدی کشیدگی ،مجموعی صورتحال اور مسلح افواج کی دفاعی ا ورجوابی کارروائیوں پروزیراعظم نریندر مودی کی ہمہ وقت نظر
روزانہ کی بنیادپر تازہ پیش رفت اور حکمت عملی کاجائزہ
وزیرداخلہ امت شاہ نے لیاسرحداور ہوائی اڈوں پر سیکورٹی کا جائزہ ، علاقائی فوج کی14 انفنٹری بٹالین کو فعال کرنے کافیصلہ
سرینگر:جے کے این ایس : پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت کی جوابی کارروائی کے بعد ہندوپاک کے درمیان جاری سخت سفارتی اور سرحدی کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی مجموعی صورتحال اور مسلح افواج کی کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ کمانڈروںاور افسران کیساتھ میٹنگیں کرکے تازہ پیش رفت اور حکمت عملی کاجائزہ لینے میں مصروف ہیں۔دریں اثناءہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے بیچ وزارت دفاع نے علاقائی فوج کی14 انفنٹری بٹالین کو فعال کیاہے ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی کے بعد سے وزیراعظم مودی مسلسل قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوول سے صورتحال کی جانکاری لے رہے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پل پل کی خبررکھنے کیساتھ ساتھ وزیراعظم شام کے وقت مجموعی صورتحال کا اعلیٰ سطحی میٹنگوںمیں جائزہ لے رہے ہیں ۔اس دوران پاکستان کےساتھ جاری کشیدگی کے درمیان راج ناتھ سنگھ نے دفاعی سربراہوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعہ کی صبح ساو ¿تھ بلاک میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی،جس میں تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کیساتھ ساتھ آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غوروخوض کیاگیا۔
میٹنگ کے دوران چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی نے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کو تازہ ترین پیش رفت اور حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ میٹنگ کی اور قومی سلامتی کے منظر نامے کا جامع جائزہ لیا۔وزیر دفاع نے تمام پہلوو ¿ں پر اجلاس کیا، میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا یہ جائزہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنائے جانے کے ایک دن بعد کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹنگ میں سیکورٹی کی بدلتی صورتحال سے متعلق ہر پہلو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بریفنگ کے دوران کہاکہ بھارت کاآگے بڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن اگر دشمن قوتیں دوبارہ حملہ کرتی ہیں، تو ہم جوابی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔اسی بیچ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے اعلیٰ حکام کےساتھ ہند پاک سرحد، ہوائی اڈوں پر سیکورٹی کا جائزہ لیا۔دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں انھوں نے ہوائی اڈوں کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل، سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام کے ساتھ سرحدی صورتحال اور ہوائی اڈوں پر سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔۔ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان اورپاکستان سرحد پر سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ،امت شاہ نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر سیکورٹی بڑھانے کےلئے کئے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔جہاں بی ایس ایف ہندوستان،پاکستان سرحد کی حفاظت کرتا ہے، سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس ملک کے ہوائی اڈوں، میٹرو نیٹ ورکس اور دیگر اہم تنصیبات کی حفاظت کرتی ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ کی زیر صدارت میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف اور بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی کے ڈائریکٹر جنرل شامل تھے۔دریں اثناءہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے بیچ وزارت دفاع نے علاقائی فوج کی14 انفنٹری بٹالین کو فعال کیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت نے آرمی چیف کو شمالی، مغربی اور مشرقی کمان میں 2028 تک تعیناتی کے لئے علاقائی فوج کی14 انفنٹری بٹالین کو طلب کرنے کا اختیار دیا ہے۔ حکومت کی تازہ ترین گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابقعلاقائی فوج کے اصول1948 کے قاعدہ 33 کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کے استعمال میں، مرکزی حکومت آرمی چیف کو اس قاعدے کے تحت اختیارات کا استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے کہ وہ علاقائی فوج کے ہر افسر اور ہر اندراج شدہ فرد کو ضروری گارڈ فراہم کرنے کے لیے بلائے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
