ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان نے فوجی کارروائی روک دی، پانچ دنوں میں پاکستانی دفاعی نظام تباہ
نئی دہلی، پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں دہشت گرد اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ہندوستان کی فوجی کارروائی کو ہفتہ کو ڈرامائی انداز میں روک دیا گیا۔
گزشتہ پانچ دنوں میں پاکستان نے ہندوستان پر پانچ سو سے زائد ڈرون، راکٹ اور میزائلوں سے حملہ کیا، لیکن ہندوستانی فضائی دفاعی نظام نے کسی بھی ہندوستانی فوجی یا اہم تنصیبات کو نقصان نہیں ہونے دیا، جبکہ ہندوستانی کارروائی سے پاکستان کے فوجی تنصیبات اور دہشت گرد اڈوں کو تباہ کر کے پاکستانی دفاعی نظام کی کمر اور پاکستانی فوجیوں کا حوصلہ توڑ دیا گیا۔
ہندوستانی فوجوں کی پاکستان میں موجود دہشت گرد اڈوں اور پاکستانی فوجی ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچانے کے بعد پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے آج دوپہر ہندوستانی فوج کے ڈی جی ایم او سے ٹیلی فون پر بات کی اور دونوں فریقین نے ہندوستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے سے زمین، فضا اور سمندر سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا۔ تاہم، فوجی کارروائی روکنے کے معاہدے پر ہندوستان نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ صرف فوجی کارروائی تک محدود ہے اور ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر سندھ طاس معاہدے کی پابندی سمیت تمام پابندیاں بدستور جاری رہیں گی۔
سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے شام چھ بجے کے قریب ایک خصوصی پریس کانفرنس میں فوجی کارروائی روکنے کے معاہدے کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او نے آج دوپہر اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت شروع کی۔ اس کے بعد ہونے والی گفت و شنید میں دونوں فریق شام پانچ بجے سے ہر قسم کی فوجی کارروائی روکنے پر متفق ہو گئے۔
سیکریٹری خارجہ نے کہا، “پاکستان کے ڈی جی ایم او نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ دن تین بج کر 35 منٹ پر بات کی تھی۔ دونوں فریق ہندوستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے سے زمین، فضا اور سمندر کے تمام شعبوں میں فوجی کارروائی بند کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے اپنی مسلح افواج کو اس پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ دونوں ڈی جی ایم او صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پیر یعنی 12 مئی کو دوپہر بارہ بجے دوبارہ بات کریں گے۔”
سیکریٹری خارجہ کے اعلان کے کچھ دیر بعد وزارت دفاع کی بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کی مشترکہ بریفنگ منعقد کی گئی۔ ہندوستانی بحریہ کے کموڈور رگھو آر نائر نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر سمندر، فضا اور زمین پر تمام فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے معاہدہ ہو گیا ہے۔ ہندوستانی فوج، بھارتی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ کو اس معاہدے کی پابندی کی ہدایت دی گئی ہے۔ لیکن اس تنازع کے دوران پاکستان کی طرف سے پروپیگنڈا مہم چلائی گئی تھی۔
پاکستان کے پروپیگنڈا مہم کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے جے ایف-17 سے ہمارے ایس-400 اور برہموس میزائل بیس کو نقصان پہنچایا، جو مکمل طور پر غلط ہے۔ دوسرے، اس نے ایک جھوٹی معلومات کی مہم بھی چلائی کہ سرسہ، جموں، پٹھان کوٹ، بٹھنڈہ، نلیا اور بھج میں ہمارے ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچایا گیا، اس کا یہ دعویٰ بھی مکمل طور پر غلط ہے۔ تیسرے، چنڈی گڑھ اور بیاس میں ہمارے گولہ بارود کے ڈپو کو نقصان پہنچایا گیا، یہ بھی مکمل طور پر غلط ہے۔
کرنل قریشی نے کہا، “پاکستان نے جھوٹے الزامات لگائے کہ ہندوستانی فوج نے مساجد کو نقصان پہنچایا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ہماری فوج ہندوستان کے آئینی اقدار کی ایک بہت خوبصورت عکاسی ہے۔ ہمارے آپریشنز خاص طور پر ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے دہشت گرد ٹھکانوں پر نشانہ بنائے گئے۔ ہندوستانی مسلح افواج کی طرف سے کسی بھی مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔”
ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے پاکستانی نقصانات کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار، چوکس اور ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، گزشتہ کچھ دنوں میں پاکستان کو ہمارے ٹھکانوں پر بلا اشتعال حملہ کرنے کے بعد بہت بھاری اور ناقابل برداشت نقصان اٹھانا پڑا۔ اسے زمین اور فضا دونوں جگہوں پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ونگ کمانڈر سنگھ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے پار، فوجی ڈھانچے، کمانڈ کنٹرول سینٹرز اور لاجسٹک تنصیبات کو وسیع اور درست نقصان پہنچایا گیا ہے، اس کے علاوہ، دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت نے اس کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت اور پاکستانی حوصلے کو مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔
کموڈور رگھو آر نائر نے کہا، “ہم ہندوستانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان معاہدے کی پابندی کریں گے، ہم وطن کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار، چوکس اور پرعزم ہیں۔ پاکستان کے ہر جرات مندانہ اقدام کا جواب طاقت سے دیا گیا ہے۔ مستقبل میں ہر اشتعال ایک فیصلہ کن جواب کو دعوت دے گا۔ ہم ملک کے تحفظ کے لیے جو بھی کارروائی ضروری ہو اسے شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔”
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
