جموں و کشمیر
ہندوستان اور پاکستان کوامن کی راہ اپنانے پر قائل کرکے اچھاکام کیا:امریکی صدر ٹرمپ
2مضبوط ایٹمی ممالک کاٹکراﺅہوتابہت بھیانک
ہم فریقین کے درمیان براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں:امریکی محکمہ خارجہ
سری نگر :جے کے این ایس: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ واشنگٹن ہندوستان اور پاکستان کےساتھ ملوث ہوا۔انہوںنے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اسے وہ پسند نہیں کرتے اور بقول ٹرمپ انہوں نے اچھا کام کیا کیونکہ اس نے دونوں ممالک کو قائل کیا کہ آو ¿ امن قائم کریں اور چلیں اور تجارتی معاہدے کریں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ منگل کو سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ایئر فورس وین میں فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے بھارت اور پاکستان کو جنگ بندی پرقائل کیا۔ ہفتہ کے بعد یہ پانچواں موقع ہے جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان ’جنگ بندی‘ کی ثالثی کی۔
تاہم نئی دہلی میں ہندوستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز نے زمینی، فضائی اور سمندری فائرنگ اور فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے مفاہمت کی ہے۔ خارجہ سیکرٹری ورم مصری نے منگل کو کہاکہ کوئی تیسرا فریق ملوث نہیں ہے۔ٹرمپ نے فوکس نیوز کے شان ہینٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ٹھیک ہے، میں مصروف رہا، لیکن میں نے اس سے لطف اٹھایا، کیونکہ ہم چیزیں پوری کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس ایسا وقت ہو سکتا ہے جب آپ بہت محنت کر رہے ہوں اور کام نہیں کر رہے ہوں۔ ایسا بھی ہوتا ہے، لیکن ہم بہت کچھ کر رہے ہیں۔ٹرمپ ایک سوال کا جواب دے رہے تھے کہ یہ اب تک کا ایک حیرت انگیز ہفتہ رہا ہے، صدر نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا، ہندوستان اور پاکستان میں بڑا کردار ادا کیا اور نسخے کی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ممکنہ جوہری جنگ کے ساتھ اس طرح کا تھوڑا سا دور کبھی گزرا ہے۔ اور دو ممالک (ہندوستان اور پاکستان) کے پاس بہت اچھے رہنما ہیں، جن لوگوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔جب پردے کے پیچھے کیا ہوا اس کے بارے میں بصیرت فراہم کرنے کے لئے کہا گیا توامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہاکہ ٹھیک ہے، مجھے یہ پسند نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔
اور آپ کو معلوم ہے، وہ دو بہت مضبوط ایٹمی ملک ہیں، جن میں جوہری کی بہت سنگین چیزیں، بہت طاقتور مقدار بھی ہے، ۔انہوںنے کہاکہ اگر یہ کبھی شروع ہوتا ہے، یہ کسی ایسی چیز کی شروعات ہے جو واقعی بری ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک کم سے کم، آپ لاکھوں لوگوں کو ہلاک کر سکتے ہیں اور ایک گولی سے، دو گولیوں سے۔ اور میں نے سوچا کہ یہ ایسی چیز ہے جس میں ہم ملوث ہو سکتے ہیں ۔ٹرمپ کے بقول اور میں نے ایک اچھا کام کیا۔ (سیکرٹری آف اسٹیٹ) مارکو (روبیو) نے اچھا کام کیا، اور (نائب صدر) جے ڈی (وانس) نے اچھا کام کیا۔ ہم ایک طرح سے ایک ٹیم تھے۔ اور ہم، میرے خیال میں، ہم نے انہیں اس بات پر قائل کیا کہ آو ¿ امن قائم کریں اور چلیں اور تجارتی معاہدے کریں۔
اس سے چند گھنٹے قبل ریاض میں سعودی،امریکی سرمایہ کاری فورم میں ایک اعلیٰ سطحی سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ پسند نہیں کرتے اور وہ ایک امن ساز اور متحد ہونا چاہتے ہیں۔بھارت اور پاکستان ہفتہ 10مئی کو ایک مفاہمت پر پہنچے،اورجنگ بندی پراتفاق کیا ،جس کا دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوﺅزنے 12مئی کو اعادہ کیا۔اس دوران امریکی محکمہ خارجہ نے کہاکہ ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے کہا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو امن کا راستہ منتخب کرنے پر سراہتا ہے۔محکمہ خارجہ کے پرنسپل نائب ترجمان تھامس پیگوٹ نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہاکہ ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں اور امن کا راستہ منتخب کرنے پر وزیر اعظم مودی اور شریف کو سراہتے ہیں۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، ان کا فیصلہ طاقت، دانشمندی اور استقامت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دونوں فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے براہ راست رابطہ برقرار رکھیں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا، پاکستانی رہنماو ¿ں کے ساتھ ان کی بات چیت میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو کوئی عہد ملا ہے کہ وہ (پاکستان) دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیں گے، تھامس پیگوٹ نے کہا کہ وہ نجی سفارتی بات چیت کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔انہوںنے مزیدکہاکہ میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں ،وہ اس بات کا اعادہ کر رہا ہوں جو ہم کچھ دنوں سے کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اس ہفتے کے آخر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم دونوں وزرائے اعظم کو امن کا راستہ منتخب کرنے پر سراہتے ہیں۔صدر نے اس بارے میں سچ کہاکہ وہ اس معاملے میں بہت واضح تھے۔ ہم فریقین کے درمیان براہ راست رابطے کی بھی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں ہم بھی واضح رہے ہیں ۔بھارت کی جانب سے ثالثی کی کسی بھی امریکی کوشش سے انکار اور واشنگٹن دونوں ممالک کو بات چیت کے لیے ایک ہی کمرے میں لانے کے لیے کتنا پر امید ہے، پگوٹ نے کہاکہ ٹھیک ہے، میں اس پر قیاس آرائی نہیں کروں گا۔ میں جو کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم اس پر واضح رہے ہیں۔ ہم اس براہ راست بات چیت کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جنگ بندی کو دیکھ کر خوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ یہیں پر ہماری توجہ برقرار ہے۔ اور ہم جنگ بندی کو برقرار دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہم براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری توجہ یہاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری توجہ جنگ بندی ہے۔ ہماری توجہ براہ راست رابطے کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ ہماری توجہ اسی جگہ پر رہے گی۔ صدر نے اس پر بات کی ہے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں پیگوٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن جنگ بندی کو دیکھ کر خوش ہے۔ ہم فریقین کے درمیان براہ راست رابطہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور جب دنیا بھر کے خطوں میں موجود تنازعات کو دوبارہ حل کرنے کی بات آتی ہے تو صدر ان تنازعات کو حل کرنا چاہتے ہیں جب وہ کر سکتے ہیں۔(ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
