جموں و کشمیر
آپریشن سندور کے دوران ٹنگڈار سیکٹرمیں فوج کی کامیاب جوابی کارروائیاں
لیپا وادی میں پاکستانی فوج کاملٹری ڈھانچہ مکمل تباہ
تعمیر نو میں مہینوں لگیں گے،دہشت گردی کے 9 کیمپ زمین بوس : فوجی حکام
ٹنگڈار :جے کے این ایس: پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندورکے تحت مسلح افواج کی جانب سے پاکستانی زیرانتظام میں قائم پاکستانی فوج کے ٹھکانوں اوربالخصوص لیپا وادی میں بنیادی ملٹری ڈھانچے کومکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوجی کمانڈروںنے کہاکہ پاکستان کو تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرمیں8سے12ماہ لگیں گے ۔جے کے این ایس کے مطابق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو ٹنگڈار سیکٹر کادورہ کرانے کے دورا ن فوج کے افسران نے نامہ نگاروں کواپنی کارروائیوں کے بارے میں بتایا۔فوج کے حکام نے کہاکہ ہندوستانی فوج کی چنار کور نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی وادی لیپا میں پاکستانی فوج کے انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے ۔بھارتی فوج کے حکام کا اندازہ ہے کہ پاکستان کو انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں8 سے 12 ماہ لگیں گے۔جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈار سیکٹرمیں ایل اﺅسی کے نزدیک ایک سرحدی گاﺅں کے دورے کے دوران نامہ نگاروںنے دیکھاکہ آپریشن سندورکے دوران مئی کے دوسرے ہفتے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ہندوستانی فوج کے ردعمل کے نتیجے میں پاکستانی فوجی انفراسٹرکچر کی تباہی واضح تھی۔ہندوستانی فوج کے ایک سینئر اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ہم نے ٹنگڈار سیکٹرمیں سرحدپار دیگر اہداف کے علاوہ کم از کم پاکستانی فوج کی3 چوکیوں، ایک گولہ بارود کا ڈپو، ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولت، اور توپ خانے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔انہوںنے کہاکہ ہماری جوابی کارروائی اتنی تباہ کن تھی کہ پاکستان کوتباہ شدہ ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کم از کم 8سے12 ماہ لگیں گے،یا ممکنہ طور پر اس سے زیادہ۔ایک فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس میں فضائی پلیٹ فارم بھی شامل تھے، بھارتی پوزیشنوں کو نشانہ بنانے کےلئے استعمال کیے گئے لیکن کوئی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے مقامی طور پر تیار کردہ آکاش دیپ ریڈار سسٹم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ ہماری فضائی دفاعی بندوقوں نے ان کے فضائی پلیٹ فارم کو بے اثر کر دیا۔حکام نے کہاکہ ہمارا فوجی انفراسٹرکچر برقرار ہے، جبکہ دشمن کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔حکام نے مزید بتایا کہ وادی لیپا میں کئی خالی فوجی ڈھانچے موجود تھے لیکن بھارتی فوج نے صرف ان کو نشانہ بنایا جہاں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا تھا۔مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر،حکام نے کہا کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں چنار کور کے جوابی حملوں کے دوران کم از کم64 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک اور96 زخمی ہوئے۔فوج کی چنار کور کے ایک اعلیٰ افسر نے کہاکہ ہماراپیغام واضح تھا ، ہماری جوابی کارروائی1:3کے تناسب سے ہوتی ہے، یعنی ہندوستانی فوج ہر پاکستانی جنگ بندی کی خلاف ورزی پر 3 گنا زیادہ سخت حملہ کرے گی۔22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے پر ہندوستان کے ردعمل کے تحت7 مئی کو پاکستانی زیرقبضہ کشمیر میں مظفر آباد کے قریب 25 منٹ تک کی کارروائی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے، فوجی حکام نے کہا کہ مربوط حملے اتنے شدید تھے کہ پاکستانی زیرقبضہ کشمیر میں75 ویں انفنٹری بریگیڈ کے کمانڈر نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ جانوں کی حفاظت کو ترجیح دیں۔چنار کور کے ایک سینئر اہلکار نے کہاکہ ریکارڈ ہونے والی بات چیت سے پتہ چلا کہ کس طرح ایک پاکستانی آرمی کمانڈر، ایک مسجد کے اندر چھپا ہوا، فوجیوں کو پہلے جانیں بچانے کی ہدایت کر رہا تھا۔پاکستانی آرمی کمانڈر کاایک پیغام تھا’پہلے جانیں بچائیں، دفاتر بعد میں کھل سکتے ہیں‘۔آپریشن سندور کے تحت، بھارت نے 7 مئی کو پاکستان اور پاکستانی زیرقبضہ کشمیرمیں دہشت گردی کے9 کیمپوں کو مسمار کر دیا۔ جواب میں پاکستان نے 8، 9 اور 10 مئی کو بھارتی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔دونوں ممالک نے 4 دن کی جھڑپوں کے بعد 10 مئی کو دشمنی روکنے یعنی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
