جموں و کشمیر
تولیدی بائیوٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت:سکاسٹ کشمیر میں ملک کی پہلی جین ایڈٹ شدہ بھیڑ تیار
سری نگر، ایک اہم سائنسی پیش رفت میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سکاسٹ کشمیر) نے کامیابی کے ساتھ ہندوستان کی پہلی جین ایڈٹ شدہ بھیڑ تیار کی ہے جو جانوروں کی بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ مثالی ترقی ہندوستان کو جدید جینوم ایڈیٹنگ ٹیکنالوجیز کے عالمی نقشے پر رکھتی ہے اور سکاسٹ – کشمیر کو تولیدی بائیو ٹیکنالوجی کی تحقیق میں سب سے آگے رکھتی ہے۔سکاسٹ میں بائیوٹیکنالوجی کے سربراہ ڈاکٹر ریاض احمد شاہ نے یو این آئی کو بتایا: ‘اس اہم پروجیکٹ پر گذشتہ قریب 6 برسوں سے بنیادی سطح پرکام چل رہا تھا اور ہمیں اس میں پہلی کامیابی حاصل ہوئی ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہم نے بھیڑ کے ڈی این اے میں تبدیلی کی ہے تاکہ ایک نئی نوع معرض وجود میں آسکے، جس کے زیادہ فائدے ہوں’۔ان کا کہنا تھا: ‘یہ تحقیق پر مبنی ایک تجربہ ہے جس میں ہم کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں،اس سے یہ ممکن بنانے کی بھی کوشش کی گئی ہے جو بھیڑوں میں بیماریاں ہیں ان کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے’۔
موصوف سربراہ نے بتایا کہ بھیڑ کی اس قسم کو کسانوں تک پہنچانے میں ابھی دو تین برس لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پالنے پوسنے میں یہ بھی ایک عام بھیڑ کی طرح ہے اور اس کی خوراک بھی معمول کی ہے۔جین میں ترمیم شدہ بھیڑ کے بچے کو میوسٹیٹین جین کے لیے تبدیل کیا گیا ہے جو کہ پٹھوں کی نشوونما کا ایک ریگولیٹر ہے۔ اس جین میں خلل ڈالنے سے، جانوروں میں پٹھوں کی مقدار میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے، یہ ایک خاصیت قدرتی طور پر ہندوستانی بھیڑوں کی نسلوں میں موجود نہیں ہے جبکہ ٹیکسل جیسی منتخب یورپی نسلوں میں جانا جاتا ہے۔
وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی کا کہنا ہے: ‘یہ صرف ایک بھیڑ کے بچے کی پیدائش نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں مویشیوں کی جینیات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے’۔انہوں نے کہا: ‘جین ایڈیٹنگ کے ساتھ، ہمارے پاس غیر ملکی ڈی این اے کو متعارف کرائے بغیر درست، فائدہ مند تبدیلیاں لانے کی صلاحیت ہے تاکہ اس عمل کو موثر، محفوظ، اور ریگولیٹرز اور صارفین دونوں کے لیے ممکنہ طور پر قابل قبول بنایا جا سکے’۔انہوں نے محققین ڈاکٹر ریاض احمد شاہ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی اور قومی اور عالمی سطح پر تحقیق اور جدت طرازی میں یونیورسٹی کے عزم کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا:
‘بائیوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اگلی نسل کی دیگر ٹیکنالوجیز کے ساتھ مل کر، ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ایک پائیدار بایو اکانومی کے حصول کے لیے ایک کلیدی محرک کے طور پر ابھر رہی ہے’۔ان کا کہنا ہے کہ سکاسٹ کشمیر جیسے سرکردہ ادارے مستقبل کی نسلوں کے لیے روزی روٹی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
موصوف وائس چانسلر نے کہا کہ یہ کامیابی سکاسٹ کشمیر کے زراعت اور مویشی پالنے کے لیے حقیقی دنیا کی ایپلی کیشنز کے ساتھ جدید ترین تحقیق کو یکجا کرتے ہوئے، ہندوستان کی جدید ترین تولیدی بائیو ٹیکنالوجی کی سہولت کی تعمیر کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا: ‘ یہ کامیابی پروفیسر ریاض شاہ کی جدید بائیوٹیکنالوجی میں اہم وراثت پر استوار ہے جن کی ٹیم نے اس سے قبل 2012 میں ہندوستان کے پہلے پشمینہ بکرے کے کلون، “نوری” کی کلوننگ کی تھی جو ایک تاریخی سنگ میل ہے اور جس نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔وائس چانسلر نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو اس مثالی تحقیق کے بارے میں آگاہ کیا جنہوں نے خطے میں سائنسی سرحدوں کو آگے بڑھانے میں ٹیم کی کوششوں اور ان کے تعاون کی سراہنا کی۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
