جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں شروع کی جانے والی ترقی کی رفتار کو تھمنے نہیں دیا جائے گا:امیت شاہ
پونچھ، وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار بہت جلد حالیہ پاکستانی گولہ باری سے تباہ شدہ گھروں اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر نو کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی۔
انہوں نے کہا: ‘میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جو جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کی یاترا سال 2014 سے شروع ہوئی تھی اور اس میں جو ٹھہراؤ دکھ رہا ہے وہ عارضی ہے، یہ یاترا آنے والے دنوں میں دوبارہ شروع ہوگی’۔
ان کہنا تھا: ‘جو ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اس کو بھر پور جواب دیا جائے گا’۔
وزیر داخلہ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز پونچھ میں پاکستانی گولہ باری کے متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا: ‘پورا ملک اور مرکزی حکومت حالیہ پاکستانی گولہ باری سے متاثر ہونے والے کنبوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے،جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے متاثرین کو امداد دی گئی ہے لیکن مرکزی سرکار بہت جلد حالیہ پاکستانی گولہ باری سے تباہ شدہ گھروں اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر نو کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جو جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کی یاترا سال 2014 سے شروع ہوئی تھی اور اس میں جو ٹھہرائو دکھ رہا ہے وہ عارضی ہے، یہ یاترا آنے والے دنوں میں دوبارہ شروع ہوگی’۔
وزیر داخلہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین دنوں کے جنگی حالات کے دوران جموں وکشمیر انتظامیہ کے رول کی سراہنا کی۔
انہوں نے کہا: ‘جو یہ تین دنوں کی آفت آئی اس میں، میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے رول کی سراہنا کرتا ہوں، جو اس دوران ہر دم عوام کے ساتھ کھڑا رہی، ہر جگہ انتظامیہ موجود تھی اور اس دوران ایک سینئر افسر نے اپنی جان بھی گنوائی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں جو انتظامیہ نے کوششیں کیں اس سے یقیناً ہماری فکر بھی کم ہوگئی’۔
سرحدی علاقوں میں بنکروں کی تعمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا: ‘نریندی مودی کے وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد سرحدی علاقوں میں بنکر تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ 9 ہزار 5 سو سے زیادہ بنکر تعمیر کئے گئے اور یہ بنکر ان تین دنوں کے دوران لوگوں کو جان بچانے کے کام آگئے’۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ گولہ باری کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں بنکر بنائے گی تاکہ ان کو اس طرح کے حالات میں استعمال میں لایا جا سکے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘پی ایم مودی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات اور دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں، اور خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا ہے’۔
وزیر داخلہ نے کہا: ‘ہم نے پاکستان اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کیا لیکن پاکستان نے اس کو اپنے پر حملہ مان لیا اور پوری دنیا کے سامنے یہ واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو پناہ دے رہا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے پاکستان کے ایک بھی فوجی اڈے پر حملہ نہیں کیا، ایک بھی شہری کو ہلاک نہیں کیا لیکن پاکستان بوکھلا گیا اس نے ہمارے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا اور گولہ باری کا سب سے زیادہ نقصان پونچھ کو ہوا، رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ گردواروں، مندروں اورا سکولوں پر بھی گولہ باری کی گئی آج پوری دنیا پاکستان کے حملے کی مذمت کرتی ہے’۔
ان کا کہنا ہے: ‘جب پاکستان نے ہمارے نہتے شہریوں پر حملہ کیا تب ہماری فوج نے اس کا موثر جواب دیا اور ان کے نو ہوائی اڈوں کو تباہ کیا جس کے بعد پاکستان سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوا’۔
امت شاہ نے کہا: ‘اس سے یہ واضح ہوا کہ بھارت اپنے معصوم شہریوں، فوج یا سرحد پر کسی بھی طرح کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا’۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ کے شہریوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا اس سے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘پہلگام میں جو ہمارے بے قصور سیاحوں پر بزدلامہ حملہ کیا گیا، مودی سرکار کا فیصلہ ہے کہ ہر دہشت گردانہ حملے کا جواب اسی طاقت سے دیا جائے گا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے 7 مئی کی رات پاکستان زیر قبضہ کشمیر اور پاکستان میں جو دہشت گرد ٹھکانے تھے ان کو ختم کر دیا، پہلی بار بھارتی فوج پاکستان کے اندر کھڑا ہوئی اور دہشت گردوں کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا اور سینکڑوں کی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا’۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستانی گولہ باری سے سے جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے کنبوں کے ایک فرد کو نوکری کے لئے تقرری نامے دئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا: ‘اگرچہ موت کا کوئی معاوضہ نہیں ہے تاہم یہ جموں و کشمیر سرکار اور حکومت ہندکی طرف سے اظہار ہمدردی کی ایک علامت ہے’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
