جموں و کشمیر
شری امرناتھ یاترا:جموں میں سیکورٹی گرڈ کو مزید بڑھا دیا گیا
جموں، سالانہ شری امرناتھ جی یاترا سے قبل جموں پولیس نے حفاظتی بند وبست کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ضلع بھر میں اہم اور حساس جگہوں پر چوکیاں قائم کی ہیں۔
واضح رہے کہ 38 دنوں پر محیط شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 9 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔یہ مقدس یاترا روایتی راستوں 48 کلو میٹر ننون پہلگام راستے اور 14 کلو میٹر بالتل راستے سے بہ یک وقت شروع ہوگی اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا 2 جولائی کو جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے یاتریوں کے پہلے قافلے کو کشمیر کے لئے روانہ کریں گے۔
حکام نے بتایا کہ شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر، جموں پولیس نے ضلع بھر میں متعدد اسٹریٹجک مقامات پر مشترکہ ناکے (چیک پوائنٹس) قائم کرکے سیکورٹی انتظامات کو نمایاں طور پر تقویت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ چوکیاں نیم فوجی دستوں کے ساتھ مل کر قائم کی گئی ہیں تاکہ یاترا کے بغیر کسی رکاوٹ اور محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں، شہر کے اطراف اور بھگوتی نگر بیس کیمپ کی طرف جانے والے راستوں سمیت حساس ترین اور زیادہ نقل و حرکت والے علاقوں میں چوکیاں چوبیس گھنٹے کام کریں گی۔
حکام نے بتایا کہ پولیس، سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سخت تلاشی، نگرانی اور ویریفکیشن کارروائیوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے سینئر افسران چوکسی، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے چوکیوں پر کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے: ‘ ناکہ ٹیموں کو سخت چیکنگ اور یاتریں اور شہریوں کے ساتھ احترام کے رویے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے’۔حکام نے بتایا کہ گاڑیوں کی جانچ، شناخت کی تصدیق اور مشکوک نقل و حرکت کا پتہ لگانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور لاجمنٹ سینٹرز کی چیکنگ کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔پولیس نے شہریوں اور یاتریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ناکہ ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں، درست شناختی ثبوت رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں پولیس فوری اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ مقدس یاترا کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے میں عوامی تعاون بہت ضروری ہے۔
دریں اثنا، جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)، جوگندر سنگھ نے ایس پی جی کے گروپ کمانڈر اور دیگر سینئر پولیس افسران کے ساتھ، جموں – سری نگر قومی شاہراہ پر نگروٹا میں ٹریفک چیک پوسٹ سے سلورا تک یاترا کے راستے کے ساتھ ایک جامع سیکورٹی جائزہ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کہ اعلیٰ سطحی ٹیم نے تعیناتی پوائنٹس کا معائنہ کیا اور روٹ پر تعینات افسران سے بات چیت کی۔انہوں نے کہا: ‘افسران کو ممکنہ خطرے کے منظر نامے اور فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنائے جانے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے ایک تفصیلی بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا’۔ان کا کہنا ہے: ‘ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ روزانہ انسداد تخریب کاری کی چیکنگ کریں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ایکسپریس وے کی تعمیر جاری ہے، جن کی نشاندہی خطرے سے دوچار علاقوں کے طور پر کی گئی ہے’۔انہوں نے مزید کہا: ‘چوکسی کو برقرار رکھنے اور تمام سیکیورٹی اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
