جموں و کشمیر
سالانہ شری امرناتھ یاترا جمعرات سے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے بیچ شروع ہوگی
سری نگر، سالانہ شری امرناتھ جی یاترا فقید المثال سیکورٹی بند وبست کے بیچ کل یعنی جمعرات کو کشمیر سے شروع ہوگی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کی صبح جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے 5 ہزار سے زیادہ یاتریوں پر مشتمل پہلے قافلے کو کشمیر کے لئے روانہ کیا۔یاتری جمعرات کو پہلگام اور ننون راستوں سے پوتر گھپا کی طرف پیش قومی کریں گے جس کے ساتھ ہی اس پوتر یاترا کا با قاعدہ آغاز ہوگا۔
یہ 22 اپریل کو پہلگام میں بیسرن وادی میں پیش آنے والے بہیمانہ واقعے کے بعد پہلی یاترا ہے جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی گھوڑے بان کی موت واقع ہوئی تھی۔اس حملے کے بعد، امرناتھ یاترا کے لیے رجسٹریشن میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی ہے۔
گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران، یاترا جموں و کشمیر پولیس، فوج، سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف)، فوج اور حکومت کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور اس یاترا کی حفاظت اور ہموار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ مختلف سطحوں پر سیکورٹی میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔
ہمالیہ کی گہرائیوں میں واقع یہ پوتر گھپا، اننت ناگ میں پہلگام اور گاندربل کے راستوں میں سونمرگ کے راستے سے قابل رسائی ہے۔ پہلگام کے راستے گھپا کی زیارت کرنے والے یاتریوں کو جنوبی کشمیر کے اضلاع کولگام اور اننت ناگ سے گزرنا ہوگا، جب کہ بالتل سونمرگ کے راستے استعمال کرنے والوں کو کولگام، اننت ناگ، پلوامہ، سری نگر، بانڈی پور اور گاندربل سے گذر ہوگا۔
سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے یاترا کے جڑواں راستوں پر سیکورٹی کے جامع انتظامات کئے گئے ہیں۔ اہم سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ زمین پر سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ حکام نے قومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کی نگرانی کے نیٹ ورک کو بھی مضبوط کیا ہے۔
ایک سینئر سیکورٹی افسر نے بتایا: ‘نہ صرف ہم نے اہلکاروں کی تعیناتی کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، بلکہ ہم بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کر رہے ہیں، یاتریوں کو حقیقی وقت سے باخبر رہنے کے لیے آر ایف آئی ڈی ڈیوائسز کے ساتھ ٹیگ کیا گیا ہے’۔یاترا کے احسن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کثیر سطحی سیکورٹی سسٹم نافذ کیا گیا ہے جموں و کشمیر کی حکومت نے امرناتھ گھپا کو جانے والے تمام راستوں کو “نو فلائنگ زون” قرار دیا ہے، جس میں یاترا کے دوران ڈرون اور غبارے سمیت کسی بھی فضائی آلات کے استعمال پر پابندی ہے۔
سی آر پی ایف کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ فورسز نے یاتریوں کے کم سے کم تکلیف کو یقینی بناتے ہوئے خطرات کو بے اثر کرنے کے لیے اپنی آپریشنل حکمت عملی کو مسلسل بہتر کیا ہے۔سی آر پی ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (نارتھ) سدھیر کمار نے یو این آئی کو بتایا: ‘ ہمارا مقصد ہر ہاتریوں کے لیے ایک محفوظ اور روحانی سفر فراہمی کو یقینی بنانا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘سی آر پی ایف امرناتھ جی یاترا کے حفاظتی آلات کے اہم ستون کے طور پر کام کرتی ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سال سی آر پی ایف نے لگن کے ساتھ اپنی صلاحیت سازی کے اقدامات کو بڑھایا ہے اور مختلف خطرات سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے’۔قابل ذکر ہے کہ 38 دنوں کو محیط امسال سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہوکر 9 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
