تازہ ترین
مسئلہ کشمیر کا آؤٹ آف بکس حل تمام فریقین کے ساتھ مل بیٹھ کر تلاش کیا جاسکتا ہے: میر واعظ
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی (ہندی) کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران نئی دہلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جس کسی بھی ہندنواز سیاستی جماعت کی حکومت قائم ہو بہر حال راج نئی دہلی ہی کرتی ہے۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اس بات سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کہ حکومت نیشنل کانفرنس کی ہو یا پی ڈی پی کی کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور گورنر نے تو بذات خود اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں صرف نئی دہلی کا سکہ چلتا ہے۔ ریاست میں امن و امان کی بحالی میں رول ادا کرنے پر میر واعظ نے بتایا کہ اگر ہم نے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بات کی تو ہمیں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کون سی ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نئی دہلی میں براجمان مودی سرکار اصل میں حقیقت کو ماننے سے کترارہی ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل طلب مانے سے انکار کررہے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ بات چیت ناممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہے، ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر ی عوام جو آر پار بٹے ہوئے ہیں اور جب تک نہ تینوں فریقین مل بیٹھ کر کوئی ایسا حل تلاش کریں گے جو لوگوں کی خواہشات کا آئنہ دار ہو ۔ میر واعظ نے بتایا کہ بی جے پی نے کبھی بھی نیک نیتی سے مذاکرات کی دعوت نہیں دی بلکہ انہوں نے فی الوقت ریاست جموں وکشمیر میں جبروزیادتیوں پرمبنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے طریق کار نے نوجوانوں کو سیاسی طور پر مایوس کیا ہو اہے اور وہ بیگانگی کی مزید گہرائیوں میں چلے گئے ہیں ۔ میر واعظ نے بتایا کہ وادی میں 1990میں جب کہی کریک ڈاؤن کیا جاتا تھا یا کہی گولیاں چلتی تھی تو لوگ اپنی جانوں کو بچانے کی خاطر علاقوں سے بھاگ جاتے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے ، آج نوجوان اور عام لوگ انکاؤنٹر والے مقامات کی طرف دوڑکر اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ حکومت ہند کشمیریوں پر آج تک یہ الزامات عائد کرتا تھا کہ یہاں جاری عوامی تحریک کی پاکستان درپردہ حمایت کرتا ہے لیکن آج جو صورتحال ہمارے سامنے ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ کشمیر یوں کی تحریک آزادی کا کوئی بیرونی معاون نہیں ہے بلکہ یہ سب کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہے۔وادی میں جاری قتل و غارت کے سلسلے پر بولتے ہوئے میر واعظ نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اُس کے مطابق رواں سال کے جنوری مہینے سے اب تک فورسز نے 400کشمیریوں کو جاں بحق کردیا جن میں 160عسکریت پسند شامل ہیں اور جن میں 155مقامی نوجوان شامل ہیں۔ حریت کانفرنس کے غیر متعلق ہونے پر ایک سوال کے جواب میں حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ آج کے دور میں اگر چہ اس طرح کا شوشہ پھیلانے کی بے حد کوشش کی جارہی ہے تاہم اصل حقیقت تب واضح ہوجاتی ہے جب آپ کی نظریں زمینی حقائق پر ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تاریخ میں حریت کانفرنس کی قیادت اور کارکنان کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ ہمیں نہ ہی اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت ہیں، نہ ہمیں میڈیا کانفرنس بلانے اور نہ ہی کسی مذہبی پروگرام میں شامل ہونے دیا جارہا ہے لہٰذا ایسے میں حریت پر بلاوجہ الزامات عائد کرنا کہ ہم غیر متعلق ہوچکے ہیں ، صحیح نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا نئی دہلی آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لہٰذا تالی ایک ہاتھ سے بج نہیں سکتی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ حریت کانفرنس 1993میں وجود میں لائی گئی تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی طور اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے لیکن نئی دہلی نے ہمیشہ ظلم و جبر اور فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی کوششیں کیں لہٰذا ہم سمجھتے ہیں نئی دہلی ان جابرانہ پالیسیوں سے ہم ناکام ہوگئے۔ نئی دہلی نے آج کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا ہوا ہے ، انہیں ہتھیار اُٹھانے پرمجبور کیا جارہا ہے جو کہ کشمیری قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کا موقعہ فراہم کریں۔نئی دہلی کو چاہیے کہ یہاں فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کا سلسلہ بند کرے۔ آئے روز نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں بدنام زمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے اوراب آئے روز نوجوانوں کو جاں بحق کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں امن کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ جب تک نہ حکومت ہند کشمیر میں فوجی بربریت پر باندباندھے گی اور یہاں کے نوجوانوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ روک دے گی تب تک امن کی باتیں کرنا زمینی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے کشمیریوں کو سزا دینے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ فی الوقت نہ ہی قیادت کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جارہی ہے اور ہمارے کارکنان کو بے بنیاد کیسوں میں ملوث دکھا کر بیرون ریاست کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ عوام پر بھی مصائب کا پہاڑ توڑ ا جارہا ہے ، آئے روز آبادیوں کا محاصرہ کرکے نوجوانوں پر بلاجواز تشدد روارکھا جارہا ہے۔
ریاست میں جاری پتھر بازی کی درپردہ معاونت پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ یہ صرف اورصرف نئی دہلی کا پروپگنڈہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے متعدد بار آج تک سنگ باری کو ختم کرانے کے دعوے کئے ہیں لیکن آج جو پتھر بازی ہورہی ہے وہ کیسے دوبارہ شروع ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے حالات نئی دہلی کے سامنے عیاں ہے ، وہاں نہ حریت کانفرنس نوجوانوں کو سنگ بازی کے لیے روپے فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی پاکستان یہاں آکرنوجوانوں کو پتھر بازی کے لیے پیسے فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کوئی بھی نوجوان اپنی آنکھیں یا جان 100یا 500روپے کے عوض جوکھم میں نہیں ڈال سکتا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام کے اندر ایک جذبہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے لیکن نئی دہلی کشمیریوں کے جذبے کی قدر کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا بدقسمتی سے جب ریاست میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو نئی دہلی کو بات چیت کی یاد آجاتی ہے اور جب یہاں حالات پرامن ہوتے ہیں تو بھارت مسئلہ کو اپنے ذہن سے نکال لیتا ہے۔ کشمیرنیو زسروس کے مطابق میر واعظ نے بتایا کہ بندوق مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں بھارت کے لاکھوں بندوقیں راج کررہی ہے لہٰذابھارت کو اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اُٹھانا چاہیے اور ہمیں اُمید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ میر واعظ نے بتایا کہ پاکستان نے بار ہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرتے ہوئے زمینی حالات سے نظریں چرائی ہیں۔میرواعظ نے بتایا کہ نئی دہلی نے گزشتہ دس برسوں سے حریت کانفرنس کی تمام سرگرمیوں پر قدغن عائد کی ہوئی ہے، ہمیں میڈیا کے ساتھ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی زمین کو تنگ کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ہمیں سیاسی اسپیس دے کر عوام کے پاس جانے کا موقعہ دیا جائے۔ ہمیں پرامن طریقے سے عوام کے درمیان اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور انتخابات الگ الگ معاملے ہیں اور دونوں کو خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں پر درجنوں مرتبہ اسمبلی کے لیے انتخابا ت ہوئے ، یہاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے الیکشن میں حصہ لیا ، لیکن مسئلہ کشمیر وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ این سی اور پی ڈی پی والے جنہوں نے متعدد بار یہاں انتخابات میں حصہ لیا ، آج نئی دہلی انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ میرواعظ نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے اور یہاں ریفرنڈم کرایا جائے ، اس کے بعد ہی الیکشن کوئی معنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کردیا کہ انتخابات ریفرنڈم کا متبادل نہیں ہوسکتے کیوں کہ آج تک ہندوستان نے یہاں 10مرتبہ الیکشن کروائے لیکن مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق تلاش کیا جائے یا پھر تینوں فریق مل بیٹھ کر اس کا ایک ایسا حل تلاش کریں جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران اگر لوگوں نے کسی موقعے پر شرکت بھی کی ، ووٹ بھی ڈالے لیکن وہ صرف بنیادی ضروریات کے حصول کی خاطر تھا تاہم درجنوں الیکشن کرانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کی پوزیشن جوں کی توں ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
