تازہ ترین
خونین نومبر:9کمانڈروں سمیت37 جنگجو،7عام شہری اور4اہلکارازجان
خبراردو:
گزشتہ برس ماہ جولائی ،اگست میں فوج ،فورسزاورریاستی پولیس نے سرگرم جنگجوؤں کیخلاف مشترکہ طورپراعلانیہ ’آپریشن آل آؤٹ‘چھیڑدیا،اورجنوبی کشمیرمیں تینوں فورسزنے سرگر م جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پرکارروائیاں شروع کردیں ۔سال2017کے دوران فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے کشمیرمیں سرگرم جنگجوتنظیموں حز ب المجاہدین ،لشکرطیبہ ،جیش محمداورالبدرمجاہدین کے علاوہ الاانصارغزوۃ الہندکیخلاف بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں ،اورگزشتہ برس الگ الگ کارروائیوں کے دوران جنوبی ،وسطی اورشمالی کشمیرکے مختلف علاقوں میں 207سرگرم جنگجومارے گئے جن میں 15سے زیادہ اعلیٰ جنگجوکمانڈربھی شامل تھے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ برس کی طرح ہی امسال بھی فوج ،فورسزاورریاستی پولیس نے سرگرم جنگجوؤں کیخلاف مشترکہ طورپراپنی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ برس کے بعدرواں سال بھی فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کوجنگجومخالف کارروائیوں کے دوران بڑی کامیابیاں ملیں ۔پولیس ذرائع کے مطابق نومبر 2018میں پوری وادی کشمیر میں کل 48افرادتشددکے مختلف واقعات کے دوران جانیں گنوابیٹھے ، جن میں37جنگجو،7عام شہری4فورسز اہلکار بھی شامل ہیں۔یکم نومبر کو شاہ پورہ ترال میں2 جنگجوجاں بحق ہوئے جبک4نومبرکو شوپیان کے کھڈ پورہ علاقے میں ایک جنگجو اور ایک عام شہری جھڑپ میں مارا گیا ہے۔شوپیان میں ہی7نومبرایک مسلح جھڑپ میں2جنگجوازجان ہوئے جبکہ ترال کے ڈار گنائی گنڈ علاقے میں10نومبرایک سگرم جنگجو،ٹکن پلوامہ11نومبرکو2جنگجو، ربن شوپیان 19نومبر2 جنگجونوجوان ، نادی گام شوپیان میں21نومبرکوہوئے تصادم میں 4جنگجواورشالہ گنڈبجبہاڑہ میں 23نومبرکو ہوئے تصادم میں3کمانڈروں سمیت6جنگجوؤں جاں بحق ہوئے ہیں۔اس دوران یہاں ایک پیرا کمانڈؤ سمیت 2 فورسز اہلکاربھی ہلاک ہوئے ۔ اس دوران کولگام ضلع میں فورسز اور جنگجو کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں ایک کم عمر لڑکی گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئی جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھی ۔
اھرضلع شوپیان میں جنگجووں نے3عام شہریوں کو مخبری کرنے کے الزام میں ہلاک کیا ۔مہلوکین میں ایک سابق پولیس اہلکار بھی شامل ہے، اسی طرح جنوبی کشمیرکے اچھہ بل علاقے میں نا معلوم بندوق برداروں نے تحریک حریت کے ضلع صدر اننت ناگ میر حفیظ اللہ کو گولی مار کر جاں بحق کر دیا ۔ہندوارہ اور بڈگام میں ہوئی جھڑپوں میں جاں بحق 3جنگجومارے گئے ۔ادھرشوپیان کے کاپرن علاقے میں اتوار کے روزفورسز کے ساتھ ایک خونین تصادم آرائی میں6جنگجوجاں بحق ہوئے ، جن میں ایک غیر ملکی بھی شامل تھا۔ اس جھڑپ میں ایک مقامی فوج اہلکار کے علاوہ عام شہری بھی جاں بحق ہوا ہے۔ جنوبی قصبہ پانپور کے کھریو علاقے میں ہی اتوار کی شام ہی ایک مختصر تصادم میں ایک پاکستانی جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ جھڑ پ کے دوران ایک مقامی جنگجو کو زندہ گرفتار کیا گیا ۔ 27نومبر کو ضلع کولگام میں ایک جھڑپ کے دوران 2جنگجواورایک اہلکارازجان ہوگیا۔ اسی روز ترال میں ایک مسلح تصادم کے دوران الاانصار غزوۃ الہند نامی عسکری تنظیم سے وابستہ جنگجو جاں بحق ہوا۔28نومبر2018کوچھتر گام بڈگام میں تصادم آرائی میں2جنگجوں جاں بحق ہوئے جبکہ قصبہ پانپور سے چند کلو میٹرشار شالی کھریو علاقے میں29نومبر کو 2مقامی جنگجوجاں بحق ہوئے جن میں ایک ضلع کمانڈر بھی شامل تھا۔ادھرقومی سطح کے ایک موقرانگریزی روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘نے ریاستی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کاحوالہ دیتے ہوئے ایک نیوزرپورٹ میں اسبات کاخلاصہ کیاہے کہ رواں برس ماہ نومبرکے اواخرتک جھڑپوں کے دوران کتنے جنگجومارے گئے ۔رپورٹ میں محکمہ داخلہ کے مرتب کردہ اعدادوشمارکاحوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیاگیاکہ رواں برس ماہ نومبرکے اواخرتک کل227جنگجوازجان ہوئے جن میں سے 37سرگرم عساکرصرف ماہ نومبرکے دوران جھڑپو ں میں جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق نومبرمیں جو37سرگرم جنگجومارے گئے ،اُن میں مختلف جنگجوگروپوں کے9اعلیٰ کمانڈربشمول نویدجٹ ،سبزاراحمدبٹ ،منان وانی بھی شامل ہیں ۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے ان اعدادوشمارکی روشنی میں کہاہے کہ رواں برس خونین جھڑپوں کے دوران ماہ نومبرکے اواخرتک جو227مقامی اورغیرملکی سرگرم جنگجومارے گئے ،اُن میں بیشترکاتعلق حزب المجاہدین اورلشکرطیبہ سے تھا۔انہوں نے بتایاکہ رواں برس جنگجوگروپوں کوبڑے پیمانے پرچوٹ پہنچائی گئی کیونکہ سرگرم اورمطلوب ترین جنگجوؤں کیساتھ ساتھ جنگجوگروپوں کے متعدداعلیٰ کمانڈربھی فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کی جانب سے مشترکہ طورپرعملائے گئے جنگجومخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ امسال جنگجوگروپوں کی افرادی قوت کوچوٹ پہنچائی گئی جبکہ ان کی کمان بھی کمزوربنادی گئی ۔پولیس سربراہ کے بقول ماہ نومبرمیں جو37جنگجومارے گئے ،اُن میں حز ب اورلشکرسے وابستہ9اعلیٰ کمانڈربھی شامل ہیں ۔جموں وکشمیرپولیس کے ڈائریکٹرجنرل کاکہناتھاکہ فوج ،فورسزاورریاستی پولیس کی جانب سے بڑھائے گئے دباؤ کی وجہ سے ملی ٹنٹ سرگرمیوں میں کمی آنے کیساتھ ساتھ ملی ٹنسی کاگراف بھی کافی نیچے آیا۔انہوں نے کہاکہ بالخصوص جنوبی کشمیرمیں جنگجوئیانہ سرگرمیوں میں کمی آئی ہے کیونکہ ا ب یہاں نوجوانوں کی جنگجوگروپوں میں شمولیت کارُجحان کم ہواہے جوکہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مزیدکہاہے کہ رواں برس لشکرطیبہ ،حزب المجاہدین ،جیش محمد،حرکت المجاہدین ،الانصارغزوۃ الہنداورالبدرمجاہدین سے وابستہ15سے زیادہ اعلیٰ اورمطلوب ترین جنگجوکمانڈرجھڑپوں کے دوران مارے گئے۔انہوں نے کہاکہ اب کشمیروادی میں لگ بھگ250جنگجوسرگرم ہیں جوکہ حزب کمانڈرریاض نائیکو،البدرکمانڈرزینت الاسلام ،کمانڈرذاکرموسیٰ اورکچھ دوسرے کمانڈروں کی کمان میں متحرک ہیں ۔تاہم پولیس سربراہ نے کہاکہ تین یاچارکمانڈروں سمیت سبھی مقامی اورغیرملکی جنگجوؤں پرسیکورٹی فورسزنے اپنادباؤبنایاہواہے ،اوریہ سرگرم جنگجواب بھاگم بھاگ کی صورتحال سے دوچارہیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
