جموں و کشمیر
کشمیر کی سیاحت میں بے مثال اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کی سیاحت اور ترقی میں بے مثال اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کا سہرا حالیہ برسوں میں امن اور بنیادی ڈھانچے کے سر باندھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ کشمیر کی خوبصورتی اور روحانی ورثے نے طویل عرصے سے زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے’۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز شیر کشمیر انٹر نیشنل کنوکیشن سینٹر(ایس کے آئی سی سی) میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘کشمیر کے قدرتی حسن و جمال اور روحانی ورثے نے طویل مدت سے تمام شعبہ ہائے حیات سے وابستہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، ایک مشہور شاعر نے کہا ہے،گر فرودس بروئے زمین است، ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ شنکراچاریہ سے لے کر شیخ العالم تک، اس وادی پر اولیاء اور صوفیاء کرام کی نوازش رہی ہے’۔
منوج سنہا نے کہا: ‘سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد وادی میں شعبہ سیاحت کو کافی فروغ ملا’۔
انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ ڈھائی کروڑ سیاح وادی کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوئے اور علاوہ ازیں نئے شعبوں جیسے یاتریوں کی سیاحت اور سرحدی سیاحت نے بھی تیزی سے ترقی کی ہے۔
ایل جی کا کہنا تھا کہ وادی میں جی ٹونٹی ٹورزم ورکنگ گروپ میٹنگ کا انعقاد ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘اس میٹنگ نے عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام دیا کہ کشمیر بین الاقوامی مشغولیت کے لیے تیار ہے’۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمائی کھیلیں اور کشمیر میراتھن جیسے ایونٹس، جن میں 13 ممالک نے شرکت کی، عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
سال 2022 میں حکومت کی طرف سے متعارف کی جانے والی ہوم سٹے پالیسی کے بارے میں انہوں نے کہا: ‘اس پالیسی نے بہت سے مقامی نوجوانوں بالخصوص خواتین کو بااختیار بنایا ہے، آج کشمیر میں 65 فیصد سے زیادہ ہوم اسٹے خواتین کے زیر انتظام ہیں’۔
ان کا کہنا ہے کہ مرکز کی سپرڈ (سپیشل پروجیکٹس فار ریوائول آف امرجنگ اینڈ ایسپارئرنگ ڈسٹنیشن) پہل غیر معروف سیاحتی مقامات کو فروغ دینے میں مدد کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہم پائیدار اور جامع ترقی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں’۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا کہ سری نگر کے ٹٹو گراؤنڈ میں زمین کے ایک بڑے ٹکڑے پر واٹر پارک تیار کیا جائے گا جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیے ایک نئی تفریحی جگہ فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی سہولیات کو مزید فروغ دینے کے لیے ماتا ویشنو دیوی کے راستے پر ایک روپ وے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
مسٹرسنہا نے نئی فلم پالیسی کی مدد سے کشمیر میں بالی ووڈ کی بحالی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: ’40 سال تک بالی ووڈ وادی سے دور رہا، اب ہم کشمیر کو بھارتی فلم انڈسٹری سے دوبارہ جوڑنے کے لیے کام کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ پوری وادی میں 5 ہزارسے زیادہ نئے ہوٹل سامنے آئے ہیں جو خطے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔
پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا: ‘ہر کشمیری یکجہتی کے لیے باہر نکلا، یہ ذہنیت میں تبدیلی اور امن کے لیے لوگوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے’۔
قوو
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
