جموں و کشمیر
جموں خطے کے پہاڑی ضلع ڈوڈہ میں مسافر بردارٹیمپو ٹریولر گہری کھائی کی نذر 60سالہ خاتون سمیت5افرادلقمہ اجل
5سالہ بچی سمیت دیگر 17 افرادزخمی،کمسن بچی جی ایم سی اسپتال جموںمنتقل
چندشدیدزخمیوں کی حالت نازک،اموات کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے: صحت حکام
سرینگر :جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع ڈوڈہ میں منگل کی صبح ایک اوﺅر لوڈ مسافر گاڑی کے سڑک سے پھسل کر گہری کھائی میں گرنے سے ایک60سالہ خاتون سمیت5 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ گاڑی میں سوار5سالہ بچی سمیت دیگر 17 زخمی ہو گئے۔صحت حکام نے بتایاکہ 17 افراد کو و سرکاری میڈیکل کالج اسپتال ڈوڈہ منتقل کیا گیااور ان میں سے کچھ کی حالت نازک طبی ہوئی تھی۔چیف میڈیکل آفیسر ڈوڈہ نے کہاکہ اموات کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ چندشدیدزخمیوں کی حالت ابھی نازک ہے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق یہ المناک سڑک حادثہ منگل کی صبح تقریباً9بجے پونڈہ کے قریب ڈوڈہ،بھرت روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ایک ٹیمپو ٹریولر کا ڈرائیور اندھے موڑ پر ڈرائیورکے کنٹرول سے باہر ہوکر ایک گہری کھائی میں جاگری۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق ڈوڈہ ضلع کے پونڈہ گاﺅں کے قریب میں منگل کو ایک مسافربردار ٹیمپو ٹریولر زیر نمبرJK06-4847 ڈوڈہ،بھرت روڈ پر گہری کھائی میں گرنے کے نتیجے میں رونماہونے والے ایک المناک حادثے 5افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔حکام نے بتایا کہ یہ حادثہ ڈوڈا شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور پونڈا کے قریب ڈوڈا،بھرت روڈ پر اس وقت پیش آیا جب صبح9 بجے کے قریب ایک ٹمپو ٹریولر ڈرائیور کے کنٹرول سے بے قابو ہوکرایک گہری میں جاگری۔انہوںنے بتایاکہ اس حادثے میں موقعہ پرہی 3افرادجاں بحق ہوگئے جبکہ مزید 2شدیدزخمی اسپتال میں دم توڑبیٹھے ،اوراس طرح سے المناک حادثے میںابتک 5افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ۔
حکام کے مطابق اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھنے والے مسافروںمیں 35سالہ محمد اشرف ولد محمد اسداللہ وانی ،51سالہ منگتا وانی ولد غلام وانی ،33سالہ عطا محمدولد غلام محمد ،35سالہ طالب حسین ولدعبدالجبار نائیک اور60سالہ رفیقہ بیگم زوجہ عبدالطیف ماگرے ساکنان بالی دھر ڈوڈہ شامل ہیں۔ان سبھی کو سرکاری میڈیکل کالج اسپتال ڈوڈہ میں مردہ قرار دیا گیا۔چیف میڈیکل آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر اوم کمار نے بتایا کہ جائے حادثہ پر ہی 3افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ مزید2افراد کی سرکاری میڈیکل کالج اسپتال ڈوڈہ میں موت واقعہ ہو گئی ، جس سے مرنے والوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اموات کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ چندشدیدزخمیوں کی حالت ابھی نازک ہے۔حکام نے بتایاکہ ریسکیو اہلکاروں نے17 افراد کو ہسپتال منتقل کیا اور ان میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک5 سالہ بچے کو شدید زخمی ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں ریفر کیا گیا ہے، جبکہ دیگرسبھی زخمی مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکام نے بتایا کہ شدید زخمیوں میں سے ایک5 سالہ بچی عظمیٰ جان کو خصوصی علاج کےلئے جموں ریفر کیا گیا۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، ہرویندر سنگھ، آئی اے ایس نے بتایا کہ3فراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ہسپتال کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے مناسب علاج کے لیے تمام ضروری سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
