جموں و کشمیر
کولگام کے اکھل جنگلی علاقے میں پانچویں روز بھی جھڑپ جاری، ہیلی کاپٹر اور پیرا کمانڈوز کی تعیناتی
سری نگرجنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسر علاقے میں واقع گھنے آکھل جنگلات میں سیکورٹی فورسز اور چھپے بیٹھے دہشت گردوں کے درمیان جاری تصادم منگل کو پانچویں روز میں داخل ہو گیا۔ اس دوران وقفے وقفے سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جبکہ علاقے میں سیکورٹی فورسز نے محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے۔
ذرائع بتایا کہ یہ کارروائی جمعے کی شام اس وقت شروع ہوئی جب سیکورٹی فورسز کو قابل اعتماد خفیہ اطلاع ملی کہ آکھل کے گھنے جنگلات میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیرنے کی کوشش کی، جس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کی، اور ایک طویل مڈ بھیڑ کا آغاز ہوا۔
حکام کے مطابق اب تک کی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا گیا ہے، جبکہ چار فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر سری نگر میں قائم فوجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
یہ جنوبی کشمیر کی حالیہ تاریخ کے طویل ترین انسداد دہشت گردی آپریشنز میں سے ایک ثابت ہو رہا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلات، پر خطر پہاڑی علاقہ اور خراب موسم کی وجہ سے سیکورٹی فورسز پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر وقفے وقفے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے پوری حکمت عملی اور تیاری کے ساتھ دہشت گردوں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) اور فوج کی 15 کور کے اعلیٰ کمانڈران آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور ان کا سراغ لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز، ہیلی کاپٹرز،پیرا کمانڈوز، اور نگرانی کرنے والے آلات تعینات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک خاص مقام پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے چھوٹے ہیگزاکاپٹر کے ذریعے گولہ بارود بھی گرا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فورسز کو معاونت فراہم کی جا سکے۔
افسر نے بتایا کہ چونکہ دہشت گرد جنگل کے مختلف حصوں میں چھپ کر وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے ہیں، اس لیے پورے علاقے کو بڑے دائرے میں محاصرہ کر کے مزید کمک تعینات کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گرد کسی بھی صورت فرار نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے کا ہر سمت سے گھیراؤ سخت کر دیا گیا ہے۔
سیکورٹی فورسز نے مقامی آبادی سے اپیل کی ہے کہ وہ آپریشن کے دوران علاقے سے دور رہیں اور کسی بھی مشکوک حرکت یا چیز کے بارے میں فورسز کو فوری اطلاع دیں۔
جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے فورسز مسلسل دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ اس آپریشن میں اب تک صرف ایک دہشت گرد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن حکام کو شبہ ہے کہ جنگل میں مزید دہشت گرد چھپے ہو سکتے ہیں، اور آپریشن آئندہ دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
